نعمانی پل سے طغیانی کا نظارہ کرنے والا بچہ پانی میں گرگیا، چوتھے روز لاش ۳۰؍کلو میٹر دور پانی میں موجود جھاڑیوں میں پھنسی ہوئی ملی۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 9:46 AM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon
نعمانی پل سے طغیانی کا نظارہ کرنے والا بچہ پانی میں گرگیا، چوتھے روز لاش ۳۰؍کلو میٹر دور پانی میں موجود جھاڑیوں میں پھنسی ہوئی ملی۔
چارروز قبل مالیگاؤں کی موسم ندی میں غرقاب ہوئےمحمد احتشام جاوید احمد(۷؍سال)کی لاش مل گئی ہے۔ اُسے جنرل اسپتال لایا گیا۔قانونی مراحل کی تکمیل اور پوسٹ مارٹم کےبعدجسد خاکی اہل خانہ کےسپردکردیاگیا۔اس واقعے سے مالیگاؤں کے محلّہ موتی پورہ،قلعہ،اسلام آباد،رسول پورہ ،بوہرہ باغ، گلشن معصوم واطراف کی بستیو ں میں غم واندوہ کاماحول دیکھا گیا۔ واضح رہیکہ متوفی لڑکےکا مکان محلّہ قلعہ میںواقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی پولیس کا ’ایکس‘ کو خط،’’ تضحیک آمیز پوسٹ کرنے والوں کا نام، پتہ بتائیں‘‘
گزشتہ ۲۶؍جولائی کویہ لڑکانعمانی بریج کے پاس سےبہہ گیا تھا۔ اِس وقت چنکاپورڈیم سےپانی بہائے جانے کےسبب موسم ندی میںطغیانی کیفیتتھی،اُس سیلابی پانی کا نظارہ کرنے والوں کی بھیڑ میںیہ بچہ بھی شامل تھا۔اس سےقبل یہ اطلاع عام ہوئی کہ احتشام گُم ہوگیا ہے۔اس کی گمشدگی کی پوسٹ بھی سوشل میڈیاپردیکھی گئی لیکن بعد میںیہ بات سامنے آئی کہ نعمانی بریج کےپاس سےجوکمسن لڑکاسیلابی پانی میںبہتا ہوادیکھا گیا وہ احتشام ہی تھا۔تب اسکے اہل خانہ اور زیادہ بےقرارہوگئے۔مالیگاؤںمیونسپل کارپوریشن فائر بریگیڈ عملےاورقلعہ تیراک گروپ ( اطہر احمد ودیگر) نےاحتشام کی تلاش شروع کی۔ نعمانی پُل سےنیاگرناپُل کےدرمیان مسلسل چار دنوں تک تلاش جاری رہی۔تجربہ کارافرادکے مشورے سےتیراکوں نےمختلف مقامات پرغوطے لگائے۔تیراکوںکےبازووں،پیٹھ اور ٹانگوں میںخاردارجھاڑیوںسے گہرے زخم بھی آئے۔لاش کو ڈھونڈنے کی کوشش برقراررہی۔۲۸؍جولائی ،منگل کی رات میں تیراکوں نےسرچ لائٹ لگاکرغوطےلگائے لیکن احتشام کی لاش نہیں مل سکی۔اُدھراُس کے اہل خانہ غم واندوہ سے ٹوٹ رہےتھے۔اہل محلہ واقارب نے اُن کی ڈھارس بندھائی۔ میونسپل فائر بریگیڈ کے شکیل تیراک کے مطابق ۲۸؍جولائی کوسرچ آپریشن کرتے ہوئے وہ موسم ندی میںدورتک گئے۔روہیداس اشوک مالی نام کا ایک مچھیراندی میں چھوٹی کشتی کے ذریعے مچھلیاں پکڑتے دِکھائی دیا۔ اُس مچھیرے کواپنا رابطہ نمبر دیا اور کہا کہ مالیگاؤں میں نعمانی پُل کے پاس سے ایک کمسن لڑکابہہ گیا ہے۔اُسکی لاش نظر آئے یا کوئی سُراغ ملےتواطلاع کرنا۔ مچھیرے نےاگلےروزفون کرکےکہا کہ پانی میں ایک لاش نظر آرہی ہےلیکن وہ گھنی جھاڑیوں میںپھنسی ہوئی ہے۔ تفصیل ملتے ہی وہ جائے مقام پر پہنچے۔چھوٹی کشتی میںبیٹھ کربہت مشکل سے گھنی جھاڑیوں تک پہنچے اوراحتشام کی لاش نکالی گئی۔ مالیگاؤں کی موسم ندی میںبہتے ہوئے لاش ۳۰؍کلومیٹردورملی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ کسانوں کو تکلیف ہوگی تو چلے گا، صنعتکاروں کو نہیں ہونی چاہئے‘‘
اِس سے قبل محمد عادل شکیل احمد(۱۷)گزشتہ جمعہ۲۴؍جولائی کو گرناندی میں نہاتے ہوئے غائب ہوگیا تھا۔ سنیچر اور اتوار کو اُسےتیراکوں نے تلاش کیا۔پیرکوعادل کی لاش ملی۔ اس حادثے کے بارے میںشکیل تیراک نےبتایا کہ لاش بہتے ہوئے پانی میں ۲۵؍ کلو میٹر دورتک چلی گئی تھی۔عادل کا مکان مالیگاؤں کے گل شیر نگر میں ہے۔ جس وقت اُس کا جنازہ اٹھااہل خانہ واقارب کی آہ وفغاں سے وہاں حاضرین کے دِل پسیج گئے۔ اِن دونوں واقعات سے مالیگاؤں میںفضا سوگوار ہے۔
نعمانی پُل پرعوام کااحتجاج
یاد رہےکہ نعمانی پُل کی تعمیر نامکمل ہے۔حفاظتی انتظامات بھی نہیں ہیں ۔احتشام جاوید کی موت واقع ہونےسےبستی کے ساکنان غصے میں بپھرے ہوئےتھے۔ لہٰذا انہوں نے نعمانی پل پر احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین نےکہا کہ اس نامکمل پُل کی وجہ سے پیش آنےوالے حادثات کے ذمےدارشہرکےسبھی سیاسی لیڈران اور میونسپل کارپوریشن کے افسرا ن ہیں۔ خبر لکھے جانے تک مقامی باشندوں کااحتجاج جاریتھا۔