ناگپور، ناندیڑ، اور پونے میں عوام سڑکوں پر اترے، مالیگائوں ، منماڑ، دھولیہ، اکولہ اور گوندیا میں لوگوں نے کاروبار بند رکھا، نریندر مودی کے استعفے کا مطالبہ، تمام پارٹیوں نے متحدہ طور پر احتجاج میں شرکت کی۔
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 10:41 AM IST | Mukhtar Adeel / Z. A. Khan / I. Sheikh | Malegaon / Nanded / Dhule
ناگپور، ناندیڑ، اور پونے میں عوام سڑکوں پر اترے، مالیگائوں ، منماڑ، دھولیہ، اکولہ اور گوندیا میں لوگوں نے کاروبار بند رکھا، نریندر مودی کے استعفے کا مطالبہ، تمام پارٹیوں نے متحدہ طور پر احتجاج میں شرکت کی۔
ونچت بہوجن اگھاڑی کی جانب سے جمعرات کو دہلی کے جنتر منتر پر جاری طلبہ کے احتجاج کی حمایت میں ’مہاراشٹر بند‘ کا اعلان کیا گیا تھا۔ عوام نے اس بند میں آگے بڑھ کر حصہ لیا۔ کئی مقامات پر کاروبار پوری طرح بند رہے تو کئی مقامات پر ملا جلا اثر دکھائی دیا لیکن اہم شہروں نے بڑی تعداد میں لوگ احتجاج کیلئے سڑکوں پر اترے
مالیگائوں اور آس پاس میں بند کامیاب
’’انقلاب زندہ باد،مودی جب جب ڈرتا ہے پولیس کو آگے کرتا ہے، دیش کا یُووا زندہ باد‘‘ جیسےزوردارنعروں سے مالیگاؤں میں ایڈیشنل کلکٹر آفس کی سڑک گونج اُٹھی۔مالیگائوں نے’مہاراشٹر بند‘ میں جوش وخروش کے ساتھ حصہ لیا۔نہ صرف مالیگاؤں بلکہ پڑوسی علاقوں میں منماڑ،ایولہ،ناندگاؤں اور چاندوڑ میں بھی بند کا خاصا اثر دِکھائی د یا۔ ان علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں۔ زرعی تجارتی منڈیوں میں سناٹا بھی دیکھا گیا۔اس بند میں مہایوتی کو چھوڑکر سبھی سیاسی پارٹیوں نے حصہ لیا۔ کانگریس ،شیوسینا (اُدھو)،سماج وادی پارٹی، ایم آئی ایم ، این سی پی (شرد)، آر جے ڈی ،سی پی آئی ، سی پی ایم اور شیتکری کامگارپکش نے مکمل تائید وحمایت دی تھی۔ مظاہرین نے مورچہ نکالا جو اہم راستوں سے ہوتے ہوئے ایڈیشنل کلکٹر آفس پہنچا۔مطالباتی مکتوب افسران کو پیش کرنے کی رسم بھی پوری کی گئی۔ اس ضمن میں سماج وادی یوتھ وِنگ کے لیڈر راحیل حنیف نے کہا کہ آج ملک کے نوجوان بی جے پی کی نیت اور نیتیوں سے عاجز آچکے ہیں۔نفرت کے سہارے اقتدار کے مزے اُڑانے والوں نے تعلیم اور روزگار کو کھلواڑ بناکر رکھ دیا ہے۔ بی جے پی کی من مانی اور ڈرپوک مودی کو گھر بیٹھانے کیلئے ہم نوجوان کھڑے ہوچکے ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی کے بعد آج کولکاتا میں سی جے پی ریلی نکالے گی
ناندیڑ میں زبردست احتجاج
ناندیڑ میں بند تو جزوی طور رپر کامیاب رہا لیکن احتجاج میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ونچت بہوجن اگھاڑی کے علاوہ کانگریس، شیو سینا (ادھو ) ، این سی پی (شرد) ایم این ایس،سی پی آئی اور اسلام پارٹی سمیت مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں نے اس میںحصہ لیا۔احتجاج کا آغاز ناندیڑ کے آئی ٹی آئی چوک پر دھرنے سے ہوا، جہاں مختلف جماعتوں کے قائدین نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نیٹ پیپر لیک، مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دہلی میں طلبہ پر پولیس کارروائی کی شدید مذمت کی۔ بعد ازاں آئی ٹی آئی چوک سے مارچ نکالا گیا، جو مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا دوبارہ آئی ٹی آئی چوک پہنچا ۔مظاہرین نے حکومت کے خلاف زوردار نعرے لگائے اور مرکزی وزیر تعلیم کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔ مارچ کی قیادت ونچت بہوجن اگھاڑی کے کارپوریٹر انجینئر پرشانت انگولے نے کی۔ ان کے ہمراہ کارپوریٹر شیخ بلال، پارٹی کے ریاستی نائب صدر فاروق احمد، وٹھل گائیکواڑ، شیو سینا (یو بی ٹی) کے ضلع صدر ببن راؤ بارسے، کانگریس کے ضلع صدر وٹھل پاؤڑے، شہر صدر عبدالغفار سمیت کئی اہم لیڈران موجود تھے۔ناندیڑ شہر کے کچھ علاقوں میں کاروبار پوری طرح بند رہا جبکہ کچھ علاقوں میں دکانیں کھلی تھیں لیکن مارچ کو آتا دیکھ کر کئی دکانداروں نے خود ہی اپنا کاروبار بند کر دیا۔
استعفیٰ دو استعفیٰ دو ، دھرمیندر پردھان استعفیٰ دو
دھولیہ میں بند کا اثر ملا جلا اثر دیکھنے کو ملا۔ بیشتر دکانیں بند رکھی گئیں۔مظاہرین نے کراچی والا کھونٹ ،چالیس گاوں روڈ کے چوراہے پر راستہ روکو احتجاج کیا۔ انہوں نے ’ سرکار ہٹاو دیش بچاو ، استعفیٰ دو استعفیٰ دو دھرمیندر پردھان استعفیٰ دو جیسے نعرے لگائے۔‘‘دکش پترکار سنگھ کے ضلع صدر باپو باگل نے صحافیوں سے کہا کہ یہ بند کسی بھی سیاسی پارٹییا کسی مذہب کی حمایت میں نہیں بلکہ ملک کے ہزاروں، لاکھوں طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کیلئے اورحکومت کی آمریت کے خلاف ہے۔ملک کے طلبہ پر ہورہے ظلم کے خلاف عوام کو طلبہ کی آواز بن کر آگے آنا ضروری ہوگیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم نریندر مودی کی یقین دہانی کے بعد سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کی
ودربھ میں طلبہ کا یلغار
ودربھ کے بیشتر علاقوں میں بند پوری طرح کامیاب رہا۔ ناگپور کے سنویدھان چوک پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوئے جن میں بیشتر طلبہ تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں نریندر مودی کے تعلق سے طنزیہ اور مضحکہ خیز پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ طلبہ نے براہ راست نریندر مودی کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ پولیس کے سخت بندوبست میں کئے گئے اس احتجاج میں خاصی تعداد میں لڑکیوں نے حصہ لیا۔ انہوں نے ’مودی گو بیک‘ کے نعرے لگائے۔ جبکہ اکولہ شہر کے بیشتر علاقوں میں سناٹا دکھائی دیا۔ ساری دکانیں بند تھیں۔ یاد رہے کہ اکولہ پرکاش امبیڈکر کا اپنا ضلع ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگوں نے اس بند کی حمایت کی۔ ودربھ کے گوندیا ضلع میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔ کارکنان نے سڑک پر بیٹھ کر ٹریفک جام کر دیا۔ ایسا ہی کچھ مغربی مہاراشٹر کے تاریخی شہر پونے میں بھی دکھائی دیا۔ یہاں بھی ہزاروں افراد نے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا اور مودی کے استعفے کا مطالبہ کیا۔