کہا : مالونی میں کچھ لوگ بھول گئے کہ یہ ہمارا ہندو راشٹر ہے، کسی کے ابّاکا پاکستان نہیں۔ راشٹریہ علماء کونسل کی جانب سے پولیس میں تحریری شکایت۔
EPAPER
Updated: March 28, 2026, 1:06 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Malvani
کہا : مالونی میں کچھ لوگ بھول گئے کہ یہ ہمارا ہندو راشٹر ہے، کسی کے ابّاکا پاکستان نہیں۔ راشٹریہ علماء کونسل کی جانب سے پولیس میں تحریری شکایت۔
یہاں ۲۶؍ مارچ کی شب میں رام نومی پر نکالی گئی شوبھا یاترا میں ریاستی وزیر نتیش رانے نے حسبِ عادت پولیس کی بھاری جمعیت اوراعلیٰ پولیس افسران کی موجودگی میں جم کر اشتعال انگیزی کی، قانون کو ٹھینگا دکھایا اور دریدہ دہنی کا ثبوت دیتے ہوئے مسلمانوں کو کھل کر نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران کہاکہ بھگوا کی طرف دیکھنے والوں کی آنکھیں نکال کر وہ گوٹی کھیلیں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ ہندو راشٹر ہے اور کہیں بھی بھگوا لہرایا جاسکتا ہے، اگر کوئی چھپا ہوا ہو(اسٹیج کے قریب) تو سامنے آئے۔
نتیش رانے نے فرنویس کی ہندوتوا وادی سرکار اور ہندو راشٹر کے حوالے سے حاضرین کو اُکسایا کہ جے شری رام کا نعرہ اتنی زور سے لگاؤ کہ آواز بڑی مسجد (انجمن جامع مسجد) تک جائے۔ بی جے پی کے اس وزیرنے چیلنج کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگ بھول گئے ہیں کہ یہ ہمارا ہندوراشٹر ہے، کسی کےابّا کا پاکستان نہیں۔ پھر دھمکاتے ہوئے کہا کہ یاد رکھو کہ میں کسی بھی وقت مالونی آسکتا ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: رام نومی کے موقع مالونی میں ماحول خراب کرنے کی کوشش ناکام
یادر ہےکہ اس سے قبل بھی نتیش رانے نے کھل کر زہرافشانی کی تھی اورمسلمانوں کو نشانہ بنایا تھا، اس کے خلاف سماجی خدمتگار جمیل مرچنٹ کی جانب سے شکایت کرنے کے ساتھ سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا، ہیٹ اسپیچ کے تعلق سے سپریم کورٹ نے سخت رویہ اپنایا تھا مگر آج تک پولیس کے ہاتھ نتیش رانے تک نہیں پہنچ سکے اور وہ بے خوف ہوکر آئے دن مسلمانوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں، تازہ مثال ایک دن قبل شوبھا یاترا ہے۔
نتیش رانے کی زہرافشانی کے خلاف راشٹریہ علماء کونسل (مہاراشٹر) کے نائب صدر اورکوآرڈینیٹر شانل الحسن سیّد نےمالونی پولیس میں تحریری شکایت کی اور تفصیل کے ساتھ ان کے بیانات نقل کرتے ہوئے ان کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی میرا روڈ میں تشدد اور ۳؍ سال قبل مالونی میں کی گئی زہر افشانی کیخلاف درج کرائی گئی ایف آئی آر کا بھی شکایت میں حوالہ دیا گیا ہے۔