Inquilab Logo Happiest Places to Work

رام نومی کے موقع مالونی میں ماحول خراب کرنے کی کوشش ناکام

Updated: March 27, 2026, 12:43 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

اشتعال انگیزی کی انتہا۔ ٹرسٹیان نے بھی تمام مناظر سی سی ٹی وی کیمروں میں قید کئے۔مساجد کے قریب پولیس کاسخت بندوبست۔ بھگوا جھنڈے لگانے کیلئے جامع مسجد کے قریب رات میں ہنگامہ آرائی کی اور سوشل میڈیا پرمسلمانوں کو ’جہادی‘ کہہ کرشرانگیزی کی گئی۔

The Shobha Yatra is passing in front of the Hazrat Ali Mosque located at Gate No. 5 of Maloni. (Photo: Inquilab)
مالونی کے گیٹ نمبر۵؍ پرواقع مسجد حضرت علی کے سامنے سے شو بھا یاترا گزر رہی ہے۔ (تصویر: انقلاب)

رام نومی کے موقع پرجمعرات کو شوبھا یاترا نکال کر مالونی میں ماحول خراب کی پھر کوشش کی گئی۔ اشتعال انگیز نعرے بازی کی گئی اور مسلمانوں کو اُکسانے کیلئے مساجد کے قریب جان بوجھ کر مزید شدت اختیار کی گئی۔ حالات کی نزاکت کے پیش نظر بڑی تعداد میں پولیس تعینات رہی اور مساجد کے قریب خصوصی پہرہ رکھا گیا تھا۔شوبھا یاترا کا ایک سرا مسجدحضرت علی ، گیٹ نمبر ۵؍کے پاس تھا تو آخری سرا زمزم ہوٹل کےپاس گیٹ نمبر ۷؍پر۔

اشتعال انگیزی کی انتہا کردی گئی 

انجمن جامع مسجد ،گیٹ نمبر ۷؍کے صدر اجمل خان نے بتایا کہ ’’ مسجد کے سامنے ڈی جے نہ بجانے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرنے کی تمام درخواستوں کے باوجود حدکردی گئی، آج تک میں نے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ڈی جے بجانےاور دل آزار نعرے بازی کے ساتھ بی جے پی لیڈران کریٹ سومیّا اور نتیش رانے وغیرہ نے اپنی اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے مزید ہوا دینے کی کوشش کی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مرضی کی موت: ۲۰؍درخواستیں زیرالتوا، واضح اصول نہ ہونے کے سبب بی ایم سی کشمکش میں

مسجد حضرت علی کے ذمہ دار محمد جمیل مرچنٹ کے مطابق گیٹ نمبر ۵؍ مسجد حضرت علی ؓکے قریب اور سویرا ہائٹس کے سامنے پولیس کی بڑی وین لگائی گئی تھی اور عمارت میں داخلے کے تینوں گیٹ گھنٹوں قبل بند کرواکر محض سویرا سنیما کی جانب والا گیٹ کھلا رکھا گیا تھا۔

گیٹ نمبر ایک سے مہاڈا تک جگہ جگہ اورگلی محلوں کے ناکوں پرپولیس کے جوانوں کا پہرہ تھا۔ سینئر انسپکٹر شیلندر نگرکر اوراے سی پی نیتا پڈوی نے سخت حفاظتی بندوبست اور چوکسی برتنے کا حوالہ دیا جبکہ دیگر پولیس اسٹیشنوں سے بھی اضافی فورس اور اس علاقے میں ڈیوٹی کرچکے ڈی سی پی کوبھی مامور کیاگیا تھا۔

بدھ کی شب میں مورتی لے جانے کے وقت گیٹ نمبر ۷؍ پرانجمن جامع مسجد کے دروازے کے سامنے ڈیوائیڈر پر بھگوا جھنڈے لگانے کیلئے زبردست ہنگامہ آرائی کی گئی۔ اس سے قبل منگل کی شب میں بھی اسی طرح کی حرکت کی گئی تھی۔اس وقت سینئر انسپکٹر اوراے سی پی بھی موجود تھے مگر شرپسند عناصر کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھے۔ یہ تمام مناظر کیمرے میں قید ہیں اور اس کے ویڈیوز بھی وائرل ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کلیان: معذور طلبہ کے مقابلوں کا انعقاد گرمی میں کروانے پر اساتذہ و سرپرست برہم

واضح ہوکہ مسلم اکثریتی علاقے مالونی میں تمام مذاہب کے ماننے والے مل جل کرپیار محبت سے برسوں سے رہ رہے ہیں مگر کچھ عناصر اپنے سیاسی فائدے کےلئے برسوں سے کوشاں ہیں کہ اس علاقے میں انتشار ہو تاکہ وہ اپنا سیاسی الّو سیدھا کرسکیں مگر ہمیشہ علاقے کے ذمہ دار اور سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد شرپسندوں کے منصوبوں کو خاک میں ملادیتے ہیں۔

’’جلسے جلوس کی آڑمیںماحول خراب نہ ہو‘‘

علاقے کے کئی ذمہ دار اشخاص سے بات چیت کرنےپرانہوں نے کہاکہ ہم سب گنگا جمنی تہذیب میں یقین رکھتے ہیں ، یہاں سبھی مذاہب کے ماننے والے اپنے تہوار مناتے ہیںمگر سب سے بڑامسئلہ بلکہ چیلنج تہوار کی آڑ میں باہر سے آکر مالونی کا ماحول خراب کرنے والوں کا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کو ان سے الرٹ رہنا چاہئے۔۳؍ سال قبل پیدا شدہ حالات بھی ان کی ہی دین تھے۔

کچھ ذمہ داران کایہ بھی کہنا ہے کہ سبھی مذاہب کے ماننےوالے ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کا احترام کرتے ہیںمگر رام نومی کی شوبھا یاترا میں کچھ ایسے عناصر شامل رہتے ہیںجو جان بوجھ کرمساجد کے قریب اشتعال انگیزی کرتے ہیں، دل آزار نعرے بازی میںشدت اختیار کرتے ہیں،ڈھول تاشہ اورناچ گانا بھی تیز کردیتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس طرح مسلمانوں کو اُکسایا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ کو ایسے عناصر کی سخت خبر لینی چاہئے۔  

یہ بھی پڑھئے: کلیان: بیمارخاتون اندرموجود ہونے کے باوجودمکان کو سیٖل کردیا گیا!

جہادی کہہ کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا

سکل ہندوسماج بھائندر اور دیگر گروپ کی جانب سے انجمن جامع مسجد کےسامنے رات میں بھگوا جھنڈا لگانے کے وقت کی گئی ہنگامہ آرائی کو بنیاد بناکرمن گھڑت طریقے سے لکھا گیا کہ کیا ہندو تہواروں میں جہادیوں کے ذریعے جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ممبئی کے ملاڈ مالونی میںرام نومی کی تیاری کے دوران مذہبی تناؤ پیداکرنے کی غرض سے ایک جہادی مہیلا نے جان بوجھ کر رام بھکت پر حملہ کیا۔اس کے فوراً بعد پہلے سے تیار بیٹھے کٹر پنتھی اسلامک جہادیوں کی بھیڑ نے رام بھکتوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ پولیس کو جہادیوں کے محلے کو بیریکیڈ لگاکر سیل کرنا پڑا۔کیا ممبئی میں دنگا بھڑکانے کی سازش رچی جارہی ہے۔ پرشاسن کو اس کی باریکی سے جانچ کرنی چاہئے اور متعلقہ جہادیو ںکو گرفتار کرنا چاہئے۔اس اشتعال انگیز میسیج کو وزیراعلیٰ فرنویس، نتیش رانے اور ممبئی پولیس کمشنر کو بھی بھیجا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK