مالونی سانحہ : ملبہ کی صفائی کا کام جاری، مہلوکین کی تعداد ۱۲؍ہوگئی

Updated: June 12, 2021, 8:26 AM IST | saeed ahmed khan | Mumbai

ایک ہی خاندان کے جاں بحق ہونے والے ۹؍ افراد کی تدفین۔ اس طرح کے دلدوز حادثے کے لئے شہری انتظامیہ ،پولیس اور سیاست دانوں کی ملی بھگت کے ساتھ عوام بھی قصوروار۔بی ایم سی اور کلکٹر نے کارروائی کے بجائے ذمہ داری سے پلہ جھاڑا، مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ کرائےدار رکھنے کیلئے ۳؍سے ۴؍منزلہ مکانات تعمیر کئے جاتے ہیں

The rubble of the house is being removed while several bodies are being taken for burial at the same time.Picture:Inquilab
مکان کا ملبہ اٹھایا جا رہا ہے جبکہ ایک ساتھ کئی جنازے تدفین کےلئے لے جائے جا رہے ہیں تصویر انقلاب

بس ڈپو سے پہلے گیٹ نمبر ۸؍میں جسے کچا پٹہ کہا جاتا ہے،  بدھ کی شب ۴؍ منزلہ مکان تیز آواز سے گرنے اور اس کے سبب تباہ دیگر۴؍ مکانات کے ملبے کی صفائی اور قریب کے دیگر مخدوش مکانات کو توڑنےکا کام دوسرے روز جاری رہا۔جمعرات کی شام کو یشو بھاٹیا نام کے ایک ۶۰؍ سالہ شخص کی لاش نکالی گئی جو تباہ ہونے والی دودھ کی دکان میں کام کرتا تھا ۔ اس طرح اس دل دوز حادثے میں فوت ہونے والوں کی تعداد ۱۲؍ ہو گئی۔ 
 دوسری جانب گزشتہ شام کو ہی جائے حادثہ کے قریب گارڈن میں ۹؍لاشوں کو غسل اور کفن دیا گیا اور کلمہ شہادت کی بلند صدا میں جنازہ اٹھایا گیا اور لاری کے ذریعے قبرستان پہنچایا گیا۔ جس وقت جنازہ اٹھایا جارہا تھا ، بڑی تعداد میں موجود لوگ حسرت اور عبرت کے طور پر اس رونگٹے کھڑے کر دینے والے منظر کو دیکھ رہے تھے ۔
حادثے کے لئے پولیس ، بی ایم سی اور سیاست دانوں کے ساتھ عوام بھی قصور وار
 نمائندے نے دیکھا کہ ملبے کی صفائی کے وقت لوگوں کی زبان پر حادثے کی تباہ کاریاں موضوع بحث ہیں۔ مگر ایسے حادثے کے لئے بی ایم سی ، پولیس اور سیاست دانوں کی ملی بھگت کے ساتھ عوام کی اپنی کوتاہیاں بھی ہیں۔ لوگ اس بات کا بھی اعتراف کررہے تھے کہ کرایہ حاصل کرنے کے لئے ۴۔۴؍ منزلہ مکانات کی ناقص تعمیر، گٹر اور راستوں پر قبضہ بھی اس طرح کے حادثات کی بڑی وجہ ہے۔اس کے علاوہ راستے اور گٹر پر قبضہ کرنے کی وجہ سے راحت اور بچاؤ کے کام میں‌‌ بھی دشواریاں آرہی تھیں اور نہ ایمبولنس پہنچ پارہی تھی نہ ہی فائربریگیڈ۔
۴؍منزلہ مکانات کے خلاف بی ایم سی کی کارروائی کی بازگشت
  اس دوران یہ بات بھی مسلسل گشت کررہی ہے کہ اس طرح کے دیگر مکانات کے خلاف بی ایم سی انہدامی کارروائی شروع کرے گی ۔ لیکن اس تعلق سے’ پی‘ نارتھ وارڈ کے کسی افسر نے وضاحت یا  اس کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ ایسا کوئی فیصلہ بی ایم سی کی جانب سے کیا گیا ہے۔ 
کنٹریکٹرز پر بھی کارروائی کی جائے
 جائے حادثہ پر موجود محمود خان نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیگر مکانات کی کیا حالت ہے اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ان کے مطابق اس کے لئے کنٹریکٹرز کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے کیونکہ وہ اپنے منافع کے لئے انتہائی گھٹیا مٹیریل کا استعمال کرکے لوگوں کی جانوں کےساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔عبداللہ انصاری نے بھی اسی طرح کی بات کہی ۔ ان کے مطابق اس میں جہاں ایک جانب کنٹریکٹرز ذمہ دار ہیں وہیں مکان مالک بھی تھوڑے سے سستے اور کم خرچ کے لئے ایسے کنٹریکٹر سے کام کرواتے ہیں جن کے پیش نظر پختہ تعمیر کے بجائے صرف پیسہ کمانا‌ ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیں دو طرح سے احتیاط کی ضرورت ہے تاکہ قیمتی انسانی جانیں ضائع نہ ہوں۔
 کلکٹر اور بی ایم سی کوئی کارروائی کے لئے تیار نہیں
 مقامی کارپوریٹر سلمی سلیم المیلکر کے شوہر سلیم شیخ نے نمائندۂ انقلاب کے استفسار پر بتایا کہ جب ان کے وارڈ میں ۳؍ منزلہ اور ۴؍ منزلہ مکانات تعمیر کئے جانے لگے تو بی ایم سی اور کلکٹر کو انہوں نے خطوط لکھے لیکن کوئی سننے اور کارروائی کے لئے تیار نہیں ہوا ۔ کلکٹر کا کہنا ہے کہ یہ بی ایم سی کی ذمہ‌داری ہے جبکہ بی ایم سی نے یہ کہہ کر  پلہ جھاڑ لیا کہ یہ کلکٹر کی زمین ہے ، چنانچہ کارروائی بھی وہی کرے گا ۔چنانچہ اس کا‌نتیجہ ہے ذمہ داری سے پلہ جھاڑا جارہا ہے اور لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔سلیم شیخ نے یہ بھی کہا کہ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہئے اور مکانات کی تعمیر مضبوطی کا‌خاص خیال رکھنا چاہئے اور روڈ پر سیڑھی نکالنے اور گٹر وغیرہ پر قبضہ کرنے سے بچنا چاہئے۔

malad Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK