ممتا کامودی کو ایک اور چیلنج، کسانوں  کی حمایت کا اعلان

Updated: June 10, 2021, 8:48 AM IST | Kolkata

دیگر ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی خط لکھ کر کسانوں کے کاز کیلئے متحد کریںگی، کسان تنظیموں سےگفتگو نہ کرنے پر مرکزکو تنقید کا نشانہ بنایا، پالیسیاں تھوپنے پر بھی برہمی کااظہار

Chief Minister Mamata Banerjee taking a bouquet from farmer leader Rakesh Tikit during the meeting. Picture: PTI
وزیراعلیٰ ممتا بنرجی ملاقات کے دوران کسان لیڈر راکیش ٹکیت سے گلدستہ لیتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

ٹی ایم سی کی میٹنگ میں   قومی سیاست میں کلیدی رول ادا کرنے کا اشارہ دینے   کے چند ہی دنوں بعد وزیراعلیٰ ممتا بنرجی  نے بدھ کو کسان لیڈر راکیش ٹکیت سے ملاقات کرکے کسان تحریک کیلئے نہ صرف اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا بلکہ انہوں نے اس سلسلے میں اپوزیشن پارٹیوں  کے زیر اقتدار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ  کوبھی کسانوں کے کاز کیلئے متحد کرنے کا عزم کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کااظہار کیا کہ کسانوں کے ساتھ گفتگو کرنے میں مودی سرکار  اتنی دقت کیوں محسوس کررہی ہے۔ 
 ممتا بنرجی سے دہلی کا دورہ کرنے کی اپیل
 کسان لیڈر راکیش ٹکیت اور یُدھ ویر سنگھ  پر مشتمل  وفد  سے ملاقات میں ان کی تحریک کی  مکمل حمایت  کا وعدہ کرتے ہوئے   وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ایسا کوئی پلیٹ فارم ہونا چاہئے جہاں  ریاستی حکومتیں پالیسی سے متعلق امور پر گفتگو کر سکیں۔  ممتا بنرجی  نےمتنبہ کیا کہ ’’ ریاستوں پر  پالیسیوں کاتھوپنا جمہوریت کیلئے اچھا نہیں ہے۔‘‘     ملاقات کے دوران راکیش ٹکیت  نے ممتا بنرجی سے اپیل کی کہ وہ دہلی کا دورہ کریں ۔اس کے جواب میں ممتا بنرجی نے  دیگر ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو  کسانوں کی حمایت میں متحد کرنے کی وکالت کی اور کہا کہ وہ کوشش کریں گی کہ اس ضمن میں  وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ رکھ سکیں۔ انہوں  نے حیرت کااظہار کیا کہ گزشتہ ۶؍ مہینوں سے حکومت کسانوں سے گفتگو کیوں نہیں کررہی ہے۔ 
 ہندوستان ہندوستان نہیں رہ جائےگا: یشونت سنہا
 اس ملاقات میں سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا بھی موجو دتھے ۔انہوں نے تشویش کااظہار کیا  اور کسانوں  کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا  کہ مرکزی حکومت روایتی کھیتی باڑی کو کارپوریٹ کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ سابق  مرکزی وزیر نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ’’اگر زراعت کے روایتی  نظام کو تباہ کردیاگیاتو ہندوستان ہندوستان نہیں رہ جائےگا۔‘

 کسانوں کی حمایت کا یہ   اعلان پارٹی کی سرگرمیوں بیرون ِ بنگال بھی توسیع دینے کے فیصلے کے چند دن بعد کیاگیاہے۔ یادرہے کہ بنگال اسمبلی الیکشن  کے دوران ٹکیت کی قیادت میں بھارتیہ کسان  یونین نے ’’بی جےپی کوووٹ نہیں‘‘ تحریک چلائی تھی۔ کسانوں کی تنظیم دیگر ریاستوں میں بھی اپنی اس تحریک کو جاری رکھےگی۔آئندہ سال یوپی اور پنجاب سمیت ۵؍ ریاست کے الیکشن ہونے ہیں۔کسانوں  سے ملاقات کے بعد ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ ’’کسانوں کی حمایت جاری رہےگی۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے  مرکز کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان اُن پالیسیوں کا انتظار کررہاہے جوکووڈ سے نمٹنے میں  معاون ہوں  اور جن سے کسانوں نیز صنعتکاروں کی مدد ہوسکے۔ مظاہرین اور حکومت کے درمیان تعطل کا حوالہ دیتے ہوئےممتا بنرجی نے کہاکہ ’’کسانوں سے گفتگو کرنا   اتنا مشکل کیوں ہوگیا ہے؟‘‘ ممتا بنرجی نے بتایا کہ کسان لیڈروں نے  ان سے اپیل کی ہے کہ دیگر ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے گفتگو کرکےکسانوں  کے ساتھ بات چیت کا نظم کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK