Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممتا بنرجی کی کار پر حملہ، پتھر، کیچڑ اور چپل پھینکی گئی

Updated: August 10, 2026, 9:28 AM IST | Kolkata

بال بال بچیں، شرپسندوں نے ’چور،چور‘‘اور ’’ڈاکورانی‘‘ کے نعرے بھی لگائے، بنگال میں امن وامان کی صورتحال پر سنگین سوال،وزیراعلیٰ نے دفاع کیا۔

Mamata Banerjee`s car was attacked in Hali city of 24 Parganas on Sunday. Photo: INN
ممتا بنرجی کی کار پر حملہ اتوار کو ۲۴؍ پرگنہ کے ہالی شہر میں ہوا۔ تصویر: آئی این این

کولکاتا(ایجنسی): مغربی بنگال میں بی جےپی   کے برسراقتدار آنے کے بعد ٹی ایم سی لیڈروں کے خلاف شرپسند عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیاہے۔ اتوار کو  ریاست کی سابق وزیراعلیٰ تک پر شرپسندوں نے حملہ کردیا تاہم  کار کے شیشے بند ہونے کی وجہ سے وہ بال بال بچ گئیں۔  اس واردات نے ایک بار پھر ریاست میں نظم ونسق  اور قانون کی حکمرانی پرسوالیہ نشان لگادیاہے۔ 

ممتا بنرجی کو کب نشانہ بنایاگیا

مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اتوار کو شمالی ۲۴؍ پرگنہ ضلع کے ہالی شہر میں پولیس حراست میں فوت ہونےوالے  ٹی ایم سی کے ایک کارکن کے اہل خانہ سے ملاقات کیلئے جا رہی تھیں۔ ا س دوران شرپسندعناصر کے پُرتشدد ہجوم نے ان کی گاڑی کو گھیر لیا۔اس پر اینٹھیں ، کیچڑ اور چپلیں پھنکیں اور ’’چور-چور‘‘نیز’’ڈاکو رانی‘‘کے نعرے لگائے۔ بی جے پی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا   ہے کہ وہ تشدد کی حمایت نہیں کرتی جبکہ پولیس نے بتایا کہ ٹی ایم سی کارکن کی حراست میں موت کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

پولیس خاموش تماشائی بنی رہی: ممتا بنرجی

پولیس حراست میں  ہلاک ہونے والے ٹی ایم سی کارکن  بریجو کیوٹ کے گھر کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کے قافلے پر اینٹیں، پتھر، جوتے اور کیچڑ پھینکا گیا جبکہ پولیس اہلکار خاموش تماشائی بنے  رہے۔ ٹی ایم سی سربراہ نے کہا کہ یہ’’منصوبہ بند سازش‘‘ تھی ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’میری گاڑی پر اینٹیں پھینکی گئیں۔ اگر کھڑکیاں بند نہ ہوتیں تو میرا سر پھٹ سکتا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسا حملہ کبھی نہیں دیکھا۔ پولیس کی موجودگی میں مجھ پر حملہ کیا گیا۔ سب کچھ پولیس کے سامنے ہوا، پھر بھی انہوں نے اسے روکنے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ ہماری حفاظت کرنے کے بجائے وہ خاموش تماشائی بنے رہے۔‘‘

’’  جو ہوا اس کیلئے وزیراعلیٰ خود ذمہ دار ہیں‘‘

ٹی ایم سی سربراہ نے کہا کہ ’’جو کچھ میں نے دیکھا، اس کے بعد میرا مقامی پولیس پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کیلئے خود وزیر داخلہ ذمہ دار ہیں۔ جس طرح یہ واقعہ پیش آیا، اس کیلئے میں پولیس کی اعلیٰ قیادت کو جواب دہ سمجھتی ہوں۔‘‘ 

   ممتا بنرجی کے ساتھ کار میں رکن پارلیمان کلیان  بنرجی اور ڈولاسین بھی تھیں۔  کلیان بنرجی نے بیرک پور کے پولیس کمشنر امیت کمار سنگھ اور ڈپٹی انسپکٹر کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیوٹ کو رات دیر گئے حراست میں کیوں لیا گیا جبکہ ابتدائی ایف آئی آر میں ان کا نام شامل نہیں تھا۔ریاستی بی جے پی صدر سامک بھٹاچاریہ نے ہالی شہر واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پتھراؤ اور حملہ بی جے پی کی ثقافت کی نمائندگی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہاکہ’’کوئی بھی سابق وزیر اعلیٰ یا موجودہ وزیر اعلیٰ کے خلاف نعرے لگا سکتا ہے۔ احتجاج میں سیاہ جھنڈے دکھائے جا سکتے ہیں، یہ سب جمہوریت کا حصہ ہے۔ ٹی ایم سی نے بہت سے مظالم کئے ہیں، لیکن بی جے پی کسی خاتون اور سابق وزیر اعلیٰ پر جوتے پھینکنے کی حمایت نہیں کرتی۔ بی جے پی کا کوئی حامی اس میں شامل نہیں ہو سکتا۔ یہ بی جے پی کی ثقافت نہیں ہے۔‘‘ریاستی وزیر اگنی مترا پال نے بھی کہاکہ’’اگر کوئی بی جے پی کے نام پر ایسا کر رہا ہے اور اسے لگتا ہے کہ اسے اس کا انعام ملے گا تو میں اسے بتانا چاہتی ہوں کہ اس کی شناخت کی جائے گی اور اسے سزا دی جائے گی۔‘‘ آج آر جی کر متاثرہ کی برسی ہے، جس معاملے میں ممتا بنرجی انصاف کی یقین دہانی نہیں کرا سکیں۔ ممتا بنرجی نے بھی اپنے دور حکومت میں بہت غلط کام کیے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ان پر جوتے اور کیچڑ پھینکیں اور ’چور چور‘ کے نعرے لگائیں۔ ہم اس کی حمایت نہیں کرتے۔“

’’میری سیکوریٹی کو چھوڑیئے ، سنگین مسئلہ یہ ہے کہ پولیس بی جے پی کی حمایت یافتہ غنڈہ گردی کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔ بنگال اب غنڈوں کے قبضے میں ہے ۔  اس منصوبہ بند حملے کے خلاف ہم عدالت سے رجوع کریں گے۔ میں یہاں ہلاک ہو سکتی تھی۔ میرے سر پر چوٹ لگ سکتی تھی۔ انہوں نے میری گاڑی پر اینٹوں کے بڑے ٹکڑے پھینکے۔ پولیس بی جے پی کو تحفظ دے رہی ہے۔‘‘

یہ عوام کے غصہ کا نتیجہ ہے: شوبھندو

حیرت انگیز طور پر وزیراعلی شوبھندو ادھیکاری نے یہ کہہ کرممتا پر حملے کا دفاع کیا کہ یہ ’’عوام کے شدید غصے‘‘ کی عکاسی کرتا ہے۔ بی جے پی کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے ادھیکاری نے کہاکہ ’’آپ  نے اتنی چوریاں کی ہیں، لوگ آپ کو  چورکہیں گے اور آپ کو سننا پڑےگا۔‘‘ آر جی کر آبروریزی کیس  کاحوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’ لوگوں نے آپ کی گاڑی پر کیچڑ پھینکا ، وہ  اور کیا پھینکتے؟ پھول؟‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ بنرجی آر جی کر سانحہ کی متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے کیوں نہیں گئیں۔  یاد رہے کہ اتوار کو ہی  مذکورہ سانحہ کی دوسری برسی تھی۔ 

 ممتا بنرجی کہاں  اورکیوں جارہی تھیں؟

ہالی شہر پولیس نے جمعہ کو۴۸؍ سالہ برجو کیوٹ کو ، جو علاقے کی سابق میونسپل کونسلر کے شوہر تھے ، رشوت  خوری،دھوکہ دہی اور آرمس ایکٹ کے تحت گرفتار کیا تھا۔عدالت نے انہیں ۵؍دن  کے ریمانڈ میں بھیجامگر سنیچر کی صبح پولیس لاک اپ میں ان کی طبیعت خراب ہوئی اور اسپتال پہنچنے پر انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ اہل خانہ کا الزام ہےکہ کیوٹ کے جسم پر زخم  کے   نشانات تھے اور کان سے خون بھی بہہ رہا تھا۔  ممتا بنرجی نےا س پر انصاف کی مانگ کی ہےا ور اپنے پارٹی کارکن کے اہل خانہ کو تعزیت پیش کرنے جارہی تھیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK