Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممتا بنرجی کیلئے اب اپنے ہی چیلنج بن گئے

Updated: June 02, 2026, 7:34 AM IST | Kolkata

پارٹی کو متحد رکھنا مشکل ہورہا ہے ، اپوزیشن لیڈر کے عہدہ کی دعویداری ’’فرضی دستخط اسکینڈل‘‘ میں الجھ کر رہ گئی، پارٹی مخالف سرگرمیوں کی پاداش میں ۲؍ اراکین اسمبلی کو نکالنا پڑا، اتوار کی میٹنگ میں ۸۰؍ میں سے ۲۰؍ ایم ایل ایز کے پہنچنے سے ٹی ایم سی کے مستقبل پر سوالیہ نشان

According to Mamata Banerjee, those who are harming the party are making it even stronger.
ممتا بنرجی کے مطابق پارٹی کو نقصان پہنچانے والے انہیں اور بھی مضبوط کررہے ہیں

 مغربی بنگال میں الیکشن ہارنے کے بعد ممتا بنرجی کیلئے پارٹی بچانے کا چیلنج کھڑا ہوگیا ہے۔ ۲۴؍ گھنٹے میں  پارٹی کے  ۲؍ اراکین پارلیمان ابھیشیک بنرجی اور کلیان بنرجی پر بی جےپی  کے مبینہ حامیوں  کےحملے کےبعد اتوار کو انہوں نے اراکین اسمبلی کی میٹنگ طلب کی تھی مگر اسے منسوخ کرنا پڑا کیوں کہ ۸۰؍ میں سے صرف  ۲۰؍ ایم ایل اے ہی میٹنگ میں شرکت کیلئے پہنچے تھے۔  بات  یہیں ختم نہیں ہوئی، اسمبلی  میں اپوزیشن لیڈر کے عہدہ پر ٹی ایم سی کی دعویداری بھی ٹی ایم سی کے ہی چند  اراکین اسمبلی  کے اس الزام کے بعد کھٹائی میں پڑ گئی ہے کہ مذکورہ دعویٰ کیلئے پیش کی گئی درخواست پر ان کے دستخط فرضی ہیں۔ ریاستی حکومت نے  جانچ کا حکم دیدیا ہے اور اب اپوزیشن لیڈر کا عہدہ جانچ کی تکمیل تک کھٹائی میں نظر آرہا ہے۔ 
پارٹی مخالف سرگرمی،۲؍ اراکین اسمبلی معطل
  پیر کو ٹی ایم سی کو اپنے ۲؍ اراکین اسمبلی سندیپن ساہا اور ریتا برتا بنرجی کو ’’پارٹی مخالف سرگرمیوں‘‘ کی پاداش میں ٹی ایم سی سے نکالنا پڑا۔ اس طرح اسمبلی میں اب اس کے  ۷۸؍ ایم ایل اے رہ گئے ہیں۔ اخراج کا یہ حکم  وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کی ریاستی سیکریٹریٹ میں کی گئی  پریس کانفرنس کے بعد جاری کیاگیا۔ ادھیکاری  نے مذکورہ  دونوں اراکین کا نام لے کر بتایا کہ انہوں نےشوبھندیب چٹوپادھیائے کو  اپوزیشن لیڈر  بنانے کیلئے  ٹی ایم سی کے ذریعہ دیئے گئے مکتوب میں  اپنے دستخط جعلی ہونے کی  شکایت درج کرائی  ہے۔
 اراکین اسمبلی  کے پہنچنے پر میٹنگ منسوخ کرنی پڑی
  اس  سے قبل اتوار کو کولکاتا میں ٹی ایم سی کے  اراکین اسمبلی کی پہلے  سے طے شدہ میٹنگ اس لئے منسوخ کرنی پڑی کہ  ۸۰؍ میں سے صرف ۲۰؍ ایم ایل اے ہی پہنچے تھے۔ قومی میڈیا نے اسے  ممتا بنرجی   کیلئے پارٹی کو متحد رکھنے کے چیلنج کے طورپر پیش کیا تاہم ٹی ایم سی کا کہنا ہے کہ ابھیشیک بنرجی اور کلیان بنرجی پر حملوں کے بعد اراکین اسمبلی چونکہ جگہ جگہ احتجاج میں مصروف تھے اس لئے وہ میٹنگ کیلئے نہیں پہنچ سکے۔  پارٹی کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہاگیا ہے کہ ’’میٹنگ  پہلے سے طے تھی مگر ہمارے لیڈروں پر حملے کے بعد ہمارے ایم ایل اے مظاہروں کا انعقادکررہے ہیں جس کے بعد ہمارے کارکنوں  کے خلاف  پولیس ایکشن شروع ہوگیا ہے۔ جو ایم ایل اے گرفتار کئے گئے پارٹی کارکنوں کےتعاون میں مصروف ہیں انہوں نے  قانون ساز پارٹی کو آگاہ کیاتھا کہ میٹنگ کو عارضی طور پر ملتوی کردیا جائے۔‘‘
’’ فرضی دستخط اسکینڈل‘‘ کیا ہے؟
 ٹی ایم سی کی جانب سے شوبھندیب چٹوپادھیائے کو اسمبلی میں  اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کیلئے جو خط اسمبلی سیکریٹریٹ کو دیا گیا تھا   اس میں ٹی ایم سی کے  تمام اراکین اسمبلی کے دستخط ہیں مگر بعض  نے اپنے دستخطوں پر سوال اٹھایا  ہے۔ پیر کو اعتراض کرنےوالے کم از کم ۲؍ اراکین کے نام سامنے آگئے جو  سندیپن ساہا اور ریتا برتا بنرجی ہیں۔  ان کی شکایت کے مطابق  ۶؍ مئی کی پارٹی میٹنگ میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب سے متعلق کوئی باضابطہ قرارداد منظور نہیں ہوئی تھی  ۔ اس شکایت کے بعد اسمبلی سیکریٹریٹ نے پولیس میں مقدمہ درج کرادیا ہے  اور ریاستی سی آئی ڈی نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK