مغربی بنگال کے ۱۰۴؍سالہ ابراہیم نے جمہوریت سے وفاداری کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے آزادی کے بعد ہر الیکشن میں حقِ رائے دہی استعمال کیا،حالیہ بنگال انتخاب میں ایس آئی آر میں نام کی معمولی غلطی کے باوجود حصہ لیا۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 8:10 PM IST | Kolkata
مغربی بنگال کے ۱۰۴؍سالہ ابراہیم نے جمہوریت سے وفاداری کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے آزادی کے بعد ہر الیکشن میں حقِ رائے دہی استعمال کیا،حالیہ بنگال انتخاب میں ایس آئی آر میں نام کی معمولی غلطی کے باوجود حصہ لیا۔
مغربی بنگال کے ۱۰۴؍سالہ ابراہیم نے جمہوریت سے وفاداری کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے آزادی کے بعد ہر الیکشن میں حقِ رائے دہی استعمال کیا،حالیہ بنگال انتخاب میں ایس آئی آر میں نام کی معمولی غلطی کے باوجود حصہ لیا۔تاہم، الیکشن کمیشن (EC) نے ابتدائی طور پر۲۸؍ فروری کو شائع ہونے والی حتمی رائے دہندگان کی فہرست میں ان کے نام کو ’’زیرِ سماعت‘‘ رکھ دیا تھا، کیونکہ ان کے نام میں فرق تھا۔واضح رہے کہ۲۰۰۲ء کی رائے دہندگان کی فہرست میں وہ ’’ ایس کے ابراہیم‘‘ تھے جبکہ ۲۰۲۵ءکی فہرست میں ’’ابراہیم ایس کے‘‘ درج تھا۔ لیکن دنوں کی بے چینی اور غیر یقینی صورتحال کے بعد، ان کا نام بالآخر پہلی سپلیمینٹری فہرست میں شامل ہو گیا۔تاہم، اس تاخیر کی وجہ سے وہ لیکشن کمشن کی ۸۵؍سال سے زائد شہریوں کے لیے گھر بیٹھے ووٹ ڈالنے کی سہولت سے محروم رہ گئے۔ تاہم ابراہیم اس بات پرمصر تھے کہ وہ ووٹ ڈالیں گے۔ ان کے اصرار نے مشرقی بردوان انتظامیہ کو متحرک کر دیا، جس نے انہیں ایک گاڑی اور وہیل چیئر مہیا کی تاکہ وہ بدھ کو پولنگ بوتھ جا کر ووٹ ڈال سکیں۔بعد ازاں انہیں گاڑی کے ذریعے جمال پور اسمبلی حلقہ کے تحت واقع پولنگ بوتھ لے جایا گیا اور وہیل چیئر پر بوتھ کے اندر داخل کیا گیا۔ انہوں نے اپنے بیٹےایس کے بگبول اسلام کے سہارے ووٹ ڈالا۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال انتخابات: ٹی ایم سی کا ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کا الزام، ای سی کی تردید
ٹائمس آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے ابراہیم نے کہا، ’’مجھے ووٹ ڈالنے پر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اچانک میرا نام ووٹروں کی فہرست سے کیوں نکال دیا گیا تھا۔ لیکن میں ایک درست ووٹر ہوں اور بترش بگھا گاؤں میں پیدا ہوا ہوں۔تاہم ان کے نام کے ساتھ لگی مشکوک ووٹر کی حیثیت نے ابراہیم اور ان کے خاندان والوں کو پریشان کر دیا تھا، جو مشرقی بردوان کے جمال پور کے رہائشی ہیں۔ جب حتمی ووٹروں کی فہرست شائع ہونے کے بعد رپورٹرز نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دیا تھا، "کیا۱۰۰؍ سال سے زیادہ جینا جرم ہے؟ابراہیم نے اخبار کو بتایا، ’’میں نے ہر روز اللہ سے دعا کی کہ میرا نام فہرست میں شامل کر دیا جائے۔ اللہ نے میری دعا قبول کر لی۔ میں بہت خوش ہوں۔‘‘جبکہ اپنا نام مشکوک کی فہرست میں جانے سے وہ ناراض تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ممتا بنرجی کا اپنے کارکنوں کو اسٹرانگ روم پر پہرہ دینےکا حکم
ابراہیم کے دوسرے بیٹے نے کہا کہ انہیں پنچایت دفتر سے پتہ چلا کہ ان کے خاندان کے پانچ افراد پہلی سپلیمینٹری فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میرے والد سمیت ہمارے نام زیرِ سماعت تھے۔ ہمارے بوتھ لیول آفیسر (BLO) نے ضروری دستاویزات جمع کرانے میں ہماری مدد کی۔ ہمیں خوشی ہے کہ اب ہمارے نام شامل کر دیے گئے ہیں۔‘‘قابل ذکر ہے کہ۱۰۴؍ سال کی عمر میں بھی ابراہیم ذہنی اور جسمانی طور پر چست ہیں۔ وہ بغیر عینک کے صاف دیکھ سکتے ہیں اور روزانہ اخبارات اور کتابیں پڑھتے ہیں۔ وہ ایک ڈائری بھی رکھتے ہیں اور باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انہیںاپنی تمام ادویات کے نام اور اپنی میڈیکل رپورٹس کی تفصیلات یاد ہیں، اور روزانہ اپنے اخراجات کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔