نور احمد (تین وکٹ) اور سونی بیکر (دو وکٹ) کی بہترین گیند بازی کے بعد ٹم سیفرٹ ۷۲؍رن کی نصف سنچری اننگز کی بدولت ما نچسٹر سپر جائنٹس (ایم ایس جی) نے سنسنی خیز فائنل مقابلے میں ٹرینٹ راکٹس کو پانچ وکٹوں سے ہرا کر اپنا پہلا مینز ہنڈرڈ کا خطاب جیت لیا۔
EPAPER
Updated: August 17, 2026, 5:07 PM IST | London
نور احمد (تین وکٹ) اور سونی بیکر (دو وکٹ) کی بہترین گیند بازی کے بعد ٹم سیفرٹ ۷۲؍رن کی نصف سنچری اننگز کی بدولت ما نچسٹر سپر جائنٹس (ایم ایس جی) نے سنسنی خیز فائنل مقابلے میں ٹرینٹ راکٹس کو پانچ وکٹوں سے ہرا کر اپنا پہلا مینز ہنڈرڈ کا خطاب جیت لیا۔
نور احمد (تین وکٹ) اور سونی بیکر (دو وکٹ) کی بہترین گیند بازی کے بعد ٹم سیفرٹ ۷۲؍رن کی نصف سنچری اننگز کی بدولت ما نچسٹر سپر جائنٹس (ایم ایس جی) نے سنسنی خیز فائنل مقابلے میں ٹرینٹ راکٹس کو پانچ وکٹوں سے ہرا کر اپنا پہلا مینز ہنڈرڈ کا خطاب جیت لیا۔
یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو کا ریٹائرمنٹ کا اشارہ،۲۷۔۲۰۲۶ء سیزن ممکنہ طور پر آخری سال
مشہور لارڈز کے میدان پر ایم ایس جی نے ٹاس جیت کر راکٹس کو پہلے بلے بازی کی دعوت دی۔ فن ایلن اور بن ڈکٹ نے گس اٹکنسن، جوش ٹنگ اور سونی بیکر کی تیز گیند بازوں کی تکڑی کے خلاف ۴۸؍ رنز کی ٹھوس اوپننگ پارٹنرشپ کی۔ اس کے بعد جوس بٹلر نے افغانستان کے رسٹ اسپنر نور احمد کو گیند بازی پر لگایا، جنہوں نے چار گیندوں کے اندر دونوں اوپنرز کو آؤٹ کر کے میچ کا رخ بدل دیا۔ انیورن ڈونالڈ نے فوری جوابی حملہ کیا اور احمد کی پہلی چھ گیندوں پر ۱۷؍ رنز جڑے، لیکن بالآخر ۱۹؍ گیندوں میں ۳۸؍ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
۹۷؍ رنز کے اسکور پر پانچ وکٹیں گنوانے کے بعد اچانک لڑکھڑانے سے راکٹس مشکل میں پڑ گئے، لیکن لوئس گریگری اور مچل سینٹنر نے آخری اوورز میں ٹیم کو سنبھالا۔ گریگری نے لائم ڈاسن اور اٹکنسن کے خلاف لگاتار چھکے جڑے اور آخری ۳۰؍ گیندوں میں ۶۱؍ رنز کی طوفانی اننگز کھیل کر ٹرینٹ کو ۱۵۸/۸؍کے اسکور تک پہنچایا۔ یہ اسکور اس سیزن میں اس میدان کے اوسط اسکور (۱۴۱؍ رنز) سے کافی زیادہ تھا۔
یہ بھی پڑھئے:’’آوارہ پن ۲‘‘ نے تاریخ رقم کردی، صرف ۳؍ دن میں عمران ہاشمی کی سب سے بڑی سولو ہٹ
ایم ایس جی نے تیز شروعات کی اور سیفرٹ نے محمد عامر کی شروعات کے پانچ گیندوں پر ۱۴؍ رنز بنائے۔ پال والٹر کے ساتھ مل کر سیفرٹ نے صرف ۳۱؍ گیندوں پر۶۱؍ رنز کی شراکت داری کی۔ انہوں نے صرف ۲۳؍ گیندوں میں اپنی نصف سنچری مکمل کی اور آخر میں ۳۸؍ گیندوں میں ۷۲؍ رنز بنائے (جس میں سات چھکے شامل تھے)۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ٹورنامنٹ میں دوسرے سب سے زیادہ رنز (۳۹۴؍رن) بنا کر ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا خطاب حاصل کیا۔ جب نیوزی لینڈ کے کھلاڑی نے ایک سرا سنبھالے رکھا، تو دوسرے سرے سے کپتان بٹلر نے ۱۴؍ گیندوں میں ۲۳؍ رنز (تین چھکے) اور لیوس ڈو پلائے نے۱۸؍ گیندوں میں ناٹ آؤٹ ۲۷؍ رنز (چار چوکے) بنا کر اہم تعاون دیا۔ جب ایم ایس جی کو ۲۲؍ گیندوں میں ۲۳؍ رنز کی ضرورت تھی، تب سیفرٹ آؤٹ ہو گئے اور کچھ دیر بعد گرنے والی وکٹوں نے میچ کو آخری اوورز میں سنسنی خیز بنا دیا۔ ہینرچ کلاسن، ڈونالڈ کے شاندار کیچ کا شکار بنے اور مائیکل بریسویل دوسری ہی گیند پر بغیر کھاتہ کھولے آؤٹ ہو گئے۔ میچ کی آخری پانچ گیندوں کے سنسنی کے درمیان، لائم ڈاسن نے تحمل سے کام لیا اور بن سینڈرسن کی گیند پر مڈ وکٹ کے اوپر سے چھکا جڑ کر ٹیم کو جیت دلائی۔