منموہن سنگھ کا طویل معاشی سست روی کا انتباہ، معیشت کی بحالی کیلئے ۳؍ نکات تجویز کئے

Updated: August 11, 2020, 7:43 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

سابق وزیراعظم نے سست روی کو ’’انسانی بحران‘‘ سے تعبیر کیا ،کہا کہ لاک ڈاؤن کے تعلق سے حکومت کے رویے نے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کیا ہے

Manmohan Singh - PIC : INN
منموہن سنگھ ۔ تصویر : آئی این این

کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے سبب ’’انتہائی گہری  اور طویل معاشی سست روی‘‘ کو ’’ناگزیر‘‘ قرار دیتے ہوئے سابق وزیراعظم  اور ماہر معاشیات  ڈاکٹر منموہن سنگھ  نے کورونا وائرس کی وباسے معیشت کو پہنچنے والے نقصان سےنمٹنے کیلئے ۳؍ اہم اقدامات تجویز کئے ہیں۔ 
  بی بی سی  کے ساتھ ای میل کے ذریعہ کی گئی بات چیت میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ملک میں معاشی سست روی کو ’’انسانی بحران‘‘  سے تعبیر کیا    اور کہا  ہے کہ ’’لاک ڈاؤن کے تعلق سے حکومت کے اچانک اور حیران کن رویے نے عوام کی تکلیفوں میں شدید اضافہ کیا ہے۔‘‘ڈاکٹر سنگھ  کے مطابق ’’شاید  اس  وقت لاک ڈاؤن  ناگیز تھا مگر جس طرح اس کا اچانک اعلان کیاگیا اور جس سختی سے اسے نافذ کیاگیا، وہ بغیر سوچے سمجھے اور بے حسی پر مبنی تھا۔‘‘
 انہوں نے حکومت کو آئندہ برسوں میں معیشت کو پٹری پر لانے کیلئے ۳؍ اقدامات کے مشورے دیئے۔ ان کے مطابق’’حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ عوام کی روزی روٹی محفوظ رہے  اوربراہ راست نقدی کے ٹرانسفر کے ذریعہ ان کے قوت خرچ کی حفاظت کی جائے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سرکاری تحفظ  اور یقین دہانی کے ساتھ تاجروں کو قرض کی فراہمی کا  مشورہ دیا ۔ انہوں نے تیسرا مشورہ  فائنانشیل سیکٹر کو’’ادارہ جاتی خود مختاری اور ضوابط کے ذریعہ‘‘ ٹھیک کرنے کا دیا۔ 
 عوام کو براہ راست نقدی کی فراہمی پر گفتگو کرتے ہوئے منموہن  سنگھ نےکہا ہے کہ  ’’بڑے پیمانے پر قرض‘‘ ضروری ہوگیا ہے۔  اس بات کو تسلیم کرتےہوئے کہ اس کی وجہ سے جی ڈی پی اور قرض کو توازن بگڑے گا،منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ’’ اگر قرض زندگیاں بچا سکتا ہے، سرحدوں کو محفوظ رکھ سکتا ہے، روزگار کو بحال کرسکتاہے اور معیشت کی رفتار کو مہمیز دے سکتاہے تو اسے لیا جانا چاہئے۔‘‘
 سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے ہندوستان کو ایسے  ممالک کی پیروی سے گریز کا مشورہ دیا   جو ’’تحفظات‘‘ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے برآمدات پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کیلئے  ڈیوٹیز(ٹیکس) بڑھا رہے  ہیں۔ سابق وزیراعظم  کے مطابق گزشتہ۳؍برسوں سے ہندوستان کی تجارتی پالیسی  سے نہ صر ف ہندوستانی سماج کے اعلیٰ طبقے کو بلکہ تمام طبقات کو خاصا معاشی  فائدہ پہنچا ہے۔  ملک کو درپیش حالات کے پس منظر میں  ڈاکٹر سنگھ نے واضح کیا  ہےکہ ’’میں  معاشی مندی جیسے  الفاظ کا استعمال نہیں کرناچاہتا مگر گہری اور شدید معاشی سست روی کو ٹالا نہیں جاسکتا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK