جرمنی میں یہ میلہ۱۳؍ جنوری سے ۱۶؍جنوری تک جاری ہے جس میں فرانس، اٹلی، برطانیہ اور خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر کے کاروباری حصہ لے رہے ہیں۔
جرمن شہر فرینکفرٹ میں منعقدہ ’ہیم ٹیکسٹائل-۲۰۲۶‘کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این
جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں منعقدہ ’ہیم ٹیکسٹائل-۲۰۲۶‘ کے بین الاقوامی میلے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ محصولات (ٹیرف) کا واضح اثر دیکھا جا رہا ہے۔ اس عالمی نمائش میں امریکی خریداروں کی عدم دلچسپی نے ہندوستانی قالین تاجروں کی فکر میں اضافہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ جرمنی میں یہ میلہ۱۳؍ جنوری سے ۱۶؍جنوری تک جاری ہے جس میں فرانس، اٹلی، برطانیہ اور خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر کے کاروباری حصہ لے رہے ہیں۔ کارپٹ ایکسپورٹ پروموشن کونسل (سی ای پی سی) کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے ہندوستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر۵۰؍ فیصد تک ٹیرف عائد کئے جانے سے قالین کی صنعت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ اگرچہ امریکی خریدار معلومات حاصل کر رہے ہیں لیکن بھاری ٹیکس کی وجہ سے ان کا رجحان کافی کم ہو گیا ہے۔ چونکہ ہندوستان کے قالین کی مجموعی برآمدات کا تقریباً۵۵؍ سے۶۰؍ فیصد حصہ تنہا امریکہ کو جاتا ہے، اس لئے اس نقصان کی تلافی کے لئے اب سی ای پی سی نے مغربی ممالک میں نئی منڈیوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔
کونسل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی مارکیٹ میں ہونے والے خسارے کو پورا کرنے کے لئے یورپی اور دیگر مغربی ممالک کے بازاروں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ میلے میں ہندوستانی پویلین میں دستکاری کے نمونوں اور بہترین ڈیزائنوں کی کافی تعریف کی جا رہی ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ متبادل منڈیوں کے ذریعے اس بحران پر قابو پا لیا جائے گا۔