ایچ ون بی ویزا سے متعلق ٹرمپ حکومت کے حالیہ فیصلے نے امریکہ میں مقیم ہندوستانی پیشہ ور افراد کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔
ڈونالڈٹرمپ کے ایچ ون بی ویز ا سے متعلق حالیہ فیصلے نے ہندوستانیوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ تصویر:اےپی/ پی ٹی آئی
ایچ ون بی ویزا پر ٹرمپ حکومت کے تازہ فیصلوں نے امریکہ میں رہنے والے ہندوستانی پروفیشنلز کی پریشانیاں بڑھا دی ہیں۔ ویزا اسٹیمپنگ میں تاخیر کے باعث کئی افراد کو نوکری جانے کا خدشہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں تنخواہ میں کٹوتی اور ہندوستان میں ٹیکس ادا کرنے جیسی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ پہلے ہی ہندوستان پر۵۰؍ فیصد ٹیرف عائد کر چکا ہے۔ حال ہی میں ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر۲۵؍ فیصد اضافی ٹیرف لگانے کی دھمکی بھی دی تھی جس سے ملک کی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔ دوسری طرف ویزا قوانین میں سختی نے ہندوستانی ملازمین کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
ایچ ون بی ویزا کی تجدید ایک بڑی مشکل بن گئی
امریکہ میں کام کرنے والے کئی ہندوستانی پروفیشنلز، جوایچ ون بی ویزا کی تجدید کے لئے ہندوستان آئے تھے، اب انہیں واپس امریکہ جانے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ویزا کی تجدید میں سستی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے درخواست دہندگان کی سوشل میڈیا پروفائلز کی سخت جانچ شروع کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں ویزا اسٹیمپنگ میں لگنے والا وقت کافی بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرویو کی تاریخیں مارچ سے اپریل یا اس سے بھی آگے جاسکتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں بہت سے افراد کی نوکری اور آمدنی دونوں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
بڑھتے ٹیکس کی تشویش اور کمپنیوں کی مشکلات
ہندوستان میں پھنسےایچ ون بی ویزا پروفیشنلز کی پریشانی صرف نوکری تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان پر ٹیکس کا دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ ملازمین جو اسٹارٹ اپس یا چھوٹی کمپنیوں میں کام کرتے ہیں، ان کے لئے مسئلہ اور بھی سنگین ہو سکتا ہے۔
ایک اور مشکل
ہندوستان میں زیادہ عرصے تک قیام کی وجہ سے وہ یہاں کے ٹیکس قوانین کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔
اکنامک ٹائمس کے مطابق امریکہ کی کئی کمپنیاں اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے امیگریشن ماہرین اور وکلاء کی مدد لے رہی ہیں۔ کچھ کمپنیاں تو اپنے ملازمین کے ویزا عمل کو تیز کروانے کے لئے امریکی سفارت خانے اور قونصل خانوں سے براہِ راست رابطہ بھی کر رہی ہیں، تاکہ اپنے عملہ کو مشکلات سے بچایا جا سکے۔