او بی سی لیڈر ببن رائو تائیواڑے نے کہا کہ منوج جرنگے کے احتجاج کا کوئی مطلب نہیں ہے، کنبی سماج کے بہت کم نئے ریکارڈ ملے ہیں۔
جرنگے نے اپنا دورہ شروع کر دیا ہے۔ تصویر: آئی این این
ناگپور (علی عمران) : مراٹھا ریزرویشن کے معاملے پر ریاست میں سیاسی اور سماجی ماحول ایک بار پھر گرم ہے۔ کنبی سرٹیفکیٹ منسوخ ہونے سے منوج جرانگے ناراض ہیں۔ انہوں نے مغربی مہاراشٹر میں اپنا دورہ شروع کردیا ہے اور وہ وزیر اعلیٰ فرنویس اور وزیر محصولات باونکولے کو بار بار نشانہ بنا رہے ہیں۔دوسری طرف او بی سی لیڈران بھی منوج جرنگے کا سختی سے جواب دے رہے ہیں۔ او بی سی لیڈر لکشمن ہاکے نے جرنگے پر نکتہ چینی کی ہے۔ اب نیشنل او بی سی فیڈریشن کے صدر ببن راؤ تائیواڑے نے بھی انہیں نشانہ بنایا ہے۔
یاد رہے کہ شندے کمیٹی جو مراٹھا ریزرویشن کے ریکارڈ تلاش کرنے کیلئے بنائی گئی تھی، اب تک ریاست میں کنبی، کنبی۔مراٹھا اور مراٹھا۔کنبی کے کل ۵۸؍لاکھ ۹۰؍ہزار ۱۵۵ ریکارڈ تلاش کر چکی ہے۔ تاہم، نیشنل او بی سی فیڈریشن کے صدر ببن راؤ تائیواڑے کا کہنا ہے کہ ان ریکارڈوں میں سے ۳۷؍لاکھ ۴۷؍ہزار ۱۴۲ ؍ریکارڈ پرانے ہیں، جو ۱۹۸۶ ءسے ۲۰۲۳ ءکے درمیان کے ہیں۔ اور اس کی بنیاد پر، متعلقہ افراد پہلے ہی او بی سی سرٹیفکیٹ حاصل کر چکے ہیں۔ تائیواڑے نے واضح کیا ہے کہ ان پرانے ریکارڈ پر، جو لوگ پہلے ہی فائدہ اٹھا چکے ہیں، اور منوج جرنگے پاٹل کی موجودہ احتجاج کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔
ببن راؤ تائیواڑے نے واضح کیا کہ منوج جرانگے کی تحریک کے بعد جسٹس شندے کمیٹی کو مراٹھواڑہ میں ۴۹؍ہزار ۳۵۸ کنبی ریکارڈ ملے، جن میں سے صرف ۲۰؍ہزار ۱۴۳ لوگوں نے ذات کی تصدیق کیلئے درخواست دی اور ۱۵؍ہزار ۵۹۷ لوگوں نے او بی سی سرٹیفکیٹ بطور کنبی حاصل کئے ، جو کہ جرنگے کی حقیقی کامیابی ہے۔ تاہم حکومتی اعدادوشمار کے مطابق اگرچہ شندے کمیٹی کے قیام کے بعد کل ۳؍لاکھ ۱۱؍ہزار ۲۸۷ افراد کو کنبی، مراٹھا۔کنبی یا کنبی۔مراٹھا ذات کے سرٹیفکیٹ دیئےگئے ہیں، لیکن اب نیشنل او بی سی فیڈریشن کی جانب سے ایک اہم سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ ۲؍لاکھ ۹۱؍ہزار ۱۴ ؍افراد نے ابھی تک ذات پات کے سرٹیفکیٹ کیلئے درخواست کیوں نہیں دی؟
ببن راؤ تائیواڑے نے کہا، ’’یہ قومی او بی سی فیڈریشن کا موقف ہے کہ جن کے پاس کنبی رجسٹریشن دستاویز ہے انہیں ذات کی تصدیق کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ جن لوگوں نے او بی سی سرٹیفکیٹ حاصل کئے ہیں، ان کا قومی او بی سی فیڈریشن میں خیرمقدم ہے۔ تاہم، ہم جعلی دستاویزات پر ذات پات کے جواز کے سرٹیفکیٹ کو برداشت نہیں کریں گے،