۱۵؍ اگست (دو دن بعد) یوم ِ آزادی کی مناسبت سے زیر ِ نظر مضمون میں مسلم خواتین کی جدوجہد، خدمات اور قربانیاں کو یاد کرکے خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: August 13, 2026, 1:30 PM IST | Tahira Khatoon | Mumbai
۱۵؍ اگست (دو دن بعد) یوم ِ آزادی کی مناسبت سے زیر ِ نظر مضمون میں مسلم خواتین کی جدوجہد، خدمات اور قربانیاں کو یاد کرکے خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
ہندوستان کی جنگ ِ آزادی پر آج تک جتنا کچھ لکھا گیا، وہ اکثر مردوں کے ہاتھوں سے لکھا گیا، شاید اسی وجہ سے جنگ ِ آزادی میں خواتین کا کردار پس ِ پردہ ہی رہا، ویسے اس کی دیگر چند وجوہات بھی ہیں، جبکہ کانگریس ہو یا مسلم لیگ، ہر جگہ عورتوں نے مختلف خدمات سر انجام دیں۔ انہوں نے پرچم بنائے، لیڈروں کی خاطر داری کی، جدوجہد ِ آزادی میں شریک اپنے باپ، بھائی، بیٹے اور شوہر کی راحت رسانی کا کام کیا، اسی پربس نہیں بلکہ انہوں نے عملی جد و جہد میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور بطور رضاکار مہم میں شامل ہوئیں۔اسی لئے اس مضمون میں چند ایسی مسلم خواتین کا ذکر کیا جا رہا ہے جنہوں نے اپنے رشتے داروں کو جنگ ِ آزادی میں حوصلہ دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی اس میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ یہ بھی واضح کر دیں کہ مضمون کی طوالت کے مدنظر ہم نے چند کے ذکر پر اکتفا کیا ہے:
یہ بھی پڑھئے: سلمیٰ ستاروں سے سجا یہ گلابی فراک شاہانہ انداز بخشے گا
بیگم حضرت محل زوجۂ واجد علی
بیگم حضرت محل کا نام زبان پر آتے ہی جنگ ِ آزادی کا تصور ذہن میں ابھر آتا ہے، وہ جنگ ِ آزادی کی اولین سرگرم عمل خاتون رہنما تھیں۔ ۱۸۵۷- ۱۸۵۸ء کی جنگ ِ آزادی میں صوبۂ اودھ سے حضرت محل کی نا قابلِ فراموش جدو جہد تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ سنہرے الفاظ میں درج رہے گی کہ کس طرح ایک عورت ہوتے ہوئے انہوں نے بر طانوی سامراج اور ایسٹ انڈیا کمپنی سے لوہا لیا اور آخر وقت یعنی اپنی موت (۱۸۷۹ء) تک تقریباً بیس سالہ زندگی انگریز حکومت کی مخالفت میں بسر کی۔ جب ۱۸۵۶ء میں برطانوی حکومت نے نواب واجد علی شاہ کو جلا وطن کرکے کلکتہ بھیج دیا، اس وقت حضرت محل نے زمامِ حکومت سنبھا لی اور وہ ایک نئے اوتار میں سامنے آئیں۔ انہوں نے محل میں بیٹھ کر صرف پالیسیاں نہیں بنائیں بلکہ جنگ کے میدان میں اتر کر اپنے جوہر بھی دکھائے اور اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے سبب جنگ ِ آزادی میں ایک عظیم قائد بن کر اُبھریں۔ بیگم حضرت محل نے لکھنؤ چھوڑنے کے بعد نیپال میں پناہ لی اور وہیں ۱۸۷۹ء میں ان کی وفات ہوئی اور کاٹھ منڈو کی جامع مسجد کے قبرستان میں گمنام طور پر ان کو دفن کر دیا گیا۔
بی امّاں والدۂ علی برادران
بی اماں یعنی عابدی بیگم زوجۂ عبدالعلی خان، ہندوستان کی تحریک ِ آزادی میں شریک رہیں اور کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ ان کی ایک بیٹی اور پانچ بیٹے تھے، جن میں سے دو؛ محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی تحریک ِ آزادی کے علم بردار ہوئے۔ ۱۹۱۷ء کے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں بی اماں کی تقریر نے سامعین کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔جس وقت ان کے دونوں بیٹے محمد علی اور شوکت علی جیل میں تھے، اس دوران بی اماں نے تحریک ِخلافت کیلئے پورے ملک کا دورہ کیا اور اس تحریک کو جِلا بخشی۔ ان کانعرہ تھا: ’’بولی محمد علی کی اماں کہ بیٹا خلافت کیلئے جان دیدو۔‘‘ دسمبر ۱۹۲۱ء کو جب علی برادران کو انگریز سپاہیوں کے ذریعے گرفتار کئے جانے کی خبر ان کی والدہ کو ملی تو وہ قطعاً پریشان نہیں ہوئیں بلکہ صبرواستقلال برقرار رکھا۔ اسی لئے گاندھی جی نے کہا تھا کہ اگر چہ وہ ایک بزرگ خاتون تھیں لیکن ان کاحوصلہ جوان تھا۔ جب خلافت تحریک ختم ہوگئی، اس کے بعد مختصر علالت کے بعد ۱۳؍ نومبر ۱۹۲۴ء کو ان کا انتقال ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: اپنے لئے وقت نکالئے ورنہ اس کا کام گزرنا ہے، بے فیض گزر جائیگا!
امجدی بیگم زوجۂ محمد علی جوہر
مولانا محمد علی جوہر کی بیگم جن کا اصل نام امجدی بانو تھا، ۵؍ فروری ۱۹۰۲ء کو ان کا نکاح مولانا محمد علی جوہر سے ہوا۔ ۱۹۱۹ء میں جب مولانا کو خلافت تحریک کے سلسلے میں جیل بھیج دیا گیا اس وقت امجدی بیگم نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور پھر اسی برس انہیں خود بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، رہائی کے بعد وہ مزید فعال ہوگئیں اور ۱۹۳۱ء میں مولانا محمد علی جوہر کی وفات کے بعد سیاسی میدان میں ان کی نیابت کرنے لگیں۔ وہ مولانا کی فلسفیانہ اور سیاسی اصولوں کی معتقد تھیں اور ان کے تمام سفروں ،عوامی جلسوں اور سرگرمیوں میں شامل رہتی تھیں، انہوں نے ’ستیہ گرہ‘ اور ’خلافت فنڈ‘ کے لئے روپیہ بھی جمع کیا ۔ان کا انتقال ۲۸؍ مارچ ۱۹۴۷ء کو ہوا۔
نشاط النساء بیگم زوجۂ حسرت موہانی
نشاط النساء بیگم یعنی مولانا حسرت موہانی کی زوجہ محترمہ، ایک پُر عزم خاتون اور تحریکِ آزادی کی فعال رکن تھیں۔ ۱۳؍ اپریل ۱۹۱۶ء کو مولانا حسرتؔ موہانی جب دوسری بار قید و بند میں محبوس ہوئے، اس وقت یہ باضابطہ سیاست میں نظر آئیں، انہوں نے انگریزی عدالتوں میں مولانا کے مقدمات کی پیروی بھی کی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ تقریباً ہر جلسے میں شریک ہوتی رہیں۔ قدرت نے خودداری اور غیرت ان کے مزاج میں اس قدر ودیعت کی تھی کہ مالی صعوبتوں سے نمٹنے کے لئے انہوں نے یہ کیا کہ شوہر جیل میں چکّی چلایا کرتے اور یہ گھر میں لوگوں کا آٹا پیستیں۔ انہوں نے کانگریس سبجکٹ کمیٹی کی نمائندگی کی، سودیشی تحریک میں شامل رہیں اور علی گڑھ میں خلافت تحریک کے قیام میں بھی انہوں نے تگ و دو کی۔ مولانا حسرت موہانی نے اپنی آپ بیتی ’مشاہداتِ زنداں‘ میں لکھا ہے کہ ۲۳؍جون ۱۹۰۸ء کو اپنے رسالہ ’اردوئے معلی‘ میں ایک مضمون شائع کرنے پر بغاوت کے جرم میں انہیں گرفتار کر لیا گیا اور مقدمہ چلا کر دو سال قید بامشقت اور پچاس روپیے جرمانے کی سزا سنائی گئی تو اپیل کرنے پر ان کی سزا ایک سال کر دی گئی اور جرمانے کی رقم ان کے بھائی نے ادا کر دی۔ گرفتاری کے وقت ان کی شیرخوار بیٹی نعیمہ بے حد علیل تھی اور گھر میں ان کی زوجہ اور ایک خادمہ کے سوا اور کوئی موجود نہ تھا لیکن اس موقع پر بھی ان کی اہلیہ نشاط النساء نے بے حد حوصلے اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگلے ہی روز سپرنٹنڈنٹ جیل کے ذریعے سے اپنے شوہر کو ایک خط لکھا جس میں یہ کہہ کر اپنے شوہر کا حوصلہ بڑھایا: ’’تم پر جو افتاد پڑی ہے اسے مردانہ وار برداشت کرو، میرا یا گھر کا مطلق خیال نہ کرنا، خبردار! تم سے کسی قسم کی کمزوری کا اظہار نہ ہو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اپنی عمر کے مطابق اسکن کیئر اپنائیں
زلیخا بیگم زوجۂ مولانا آزاد
زلیخا بیگم یعنی مولانا ابو الکلام آزاد کی زوجۂ محترمہ بھی باحوصلہ خاتون تھیں، تمام مصاعب و مصائب برداشت کرنے کے باوجود اپنے شوہر کا دست و بازو بنی رہیں اور انہیں خانگی مسائل سے ہمیشہ بے فکر رکھا۔ ان حضرات کے نزدیک اپنے مشن میں تکلیفیں برداشت کرنا کتنا سہل تھا، اس کا اندازہ اس خط سے ہوتا ہے، جو ۱۹۴۲ء میں جب مولانا کو ایک سال کی سزا ہوئی تو انھوں نے مہاتما گاندھی کو لکھا تھا: ’’میرے شوہر کو محض ایک سال کی سزا ہوئی ہے جو ہماری امیدوں سے بہت کم ہے، اگر ملک و قوم سے محبت کے نتیجے میں یہ سزا ہے تو اس کو انصاف نہیں کہا جائے گا، یہ ان کی اہلیت کے لئے بہت کم ہے۔ آج سے میں بنگال خلافت کمیٹی کا پورا کام دیکھوں گی۔‘‘