بھاری مشینری، آلات، ایندھن اور حفاظتی سامان کی شدید کمی، دبے ہوئے ہزاروں فلسطینیوں کو نکالنے میں دشواری۔
EPAPER
Updated: August 13, 2026, 2:03 PM IST | Agency | Gaza
بھاری مشینری، آلات، ایندھن اور حفاظتی سامان کی شدید کمی، دبے ہوئے ہزاروں فلسطینیوں کو نکالنے میں دشواری۔
غزہ میں سول ڈیفنس کی ٹیموں نے منگل کو جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیلی حملے سے تباہ ہونے والے ایک کثیر منزلہ مکان کے ملبے تلے سے۱۳؍ فلسطینیوں کی لاشیں نکالنے کا کام شروع کر دیا ہے۔یہ آپریشن غزہ شہر کے مغرب میں واقع الکتیبہ علاقے میںریڈ کراس سےتعاون کے ذریعے غربیہ خاندان کے گھر میں چلایا جا رہا ہے۔سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ اس حملے میں بڑی تعداد میں فلسطینی شہید ہوئے تھے کچھ لاشیں اسی وقت نکال لی گئی تھیں جبکہ۱۳؍ لاشیں ملبے تلے دبی رہ گئیں۔انہوں نے بتایا کہ متاثرین میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر بھروسہ نہیں، ہرمز مکمل طور پر قابو میں ہے: ڈونالڈ ٹرمپ
بصل نے اس بات پر زور دیا کہ بھاری مشینری، آلات، ایندھن اور حفاظتی سامان کی شدید کمی کے باعث غزہ بھر میں تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے دبے ہوئے ہزاروں فلسطینیوں کو نکالنے کی کوششوں میں مسلسل رکاوٹیں آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اسی حالت میں رہے تو امدادی کاموں کو مکمل کرنے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔بصل نے بتایا کہ سول ڈیفنس کی ٹیمیں انتہائی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہی ہیں کیونکہ لاشوں، انسانی باقیات اور ملبے کو ہٹاتے وقت ان کے پاس مناسب حفاظتی سامان بھی موجود نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: عمران خان فوت، ایک صحافی کا دھماکہ خیز دعویٰ، غیر یقینی صورتحال برقرار
انہوں نے واضح کیا کہ یہ ٹیمیں بغیر کسی تنخواہ، بونس یا معاوضے کے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے بین الاقوامی برادری، عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ امدادی کاموں کو جاری رکھنے کے لئے ضروری بھاری مشینری اور لاجسٹک مدد فراہم کریں۔منگل کا یہ آپریشن، اسرائیلی جنگ میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے نیچے دبے فلسطینیوں کو نکالنے کے لئے۱۹؍ جولائی کو شروع کئے گئے سول ڈیفنس پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے۔بصل کے مطابق۸۰۰؍ گھنٹے پر محیط اس مرحلے میں غزہ شہر، شمالی اور وسطی غزہ کے۱۴۷؍ تباہ شدہ مکانات شامل ہیں جہاں ملبے تلےایک ہزار۷۲؍ لاشیں موجود ہونے کا خدشہ ہے۔نومبر ۲۰۲۵ء میں شروع کئے گئے پہلے مرحلے میں ٹیموں نے۵۴؍ تباہ شدہ گھروں اور عمارتوں سے ۳۳۳؍ لاشیں اور نکالیں۔