Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج سے منوج جرنگے کی دوبارہ بھوک ہڑتال، سرکاری وفد منانے میں ناکام

Updated: May 30, 2026, 11:08 AM IST | Z.A Khan | Aurangabad

رادھا کرشن وکھے پاٹل اور پرساد لاڈ کے ساتھ ۲؍ گھنٹے تک چلی گفتگو میں کوئی راستہ نہیں نکل سکا، جرنگےبھوک ہڑتال کے فیصلے پر قائم۔

Manoj Jarange Patil. Photo: INN.
منوج جرنگے پاٹل۔ تصویر: آئی این این۔

مراٹھا سماجی کارکن منوج جرنگے حسب اعلان آج (۳۰؍ مئی) سے دوبارہ اپنی بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔ وہ جالنہ میں واقع اپنے گائوں انتراولی سراتی میں مراٹھا ریزرویشن کی دوبارہ اپنی جدوجہد کا آغاز کرنے سے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل انہیں منانے کیلئے حکومت نے ایک وفد انتراوالی سراتی بھیجا لیکن ۲؍ گھنٹوں کی گفتگو کے باوجود کوئی راستہ نہیں نکل سکا اور جرنگے نے بھوک ہڑتال کے اپنے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا۔ 
یاد رہے کہ منوج جرنگے نے پہلے ہی کہا تھا کہ جی آر جاری ہونے کے باوجود مراٹھا سماج کو کنبی سرٹیفکیٹ نہیں دیا جا رہا ہے لہٰذا وہ ۳۰؍ مئی سے دوبارہ بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔ جمعہ کو حکومت نے وزیر برائے آبی وسائل اور مراٹھا ذیلی کمیٹی کے چیئرمین رادھا کرشن وکھے پاٹل اور رکن اسمبلی پرساد لاڈ کی شکل میں ۲؍ رکنی وفد جرنگے کے پاس بھیجا لیکن ۲؍ گھنٹے کی گفتگو کے بعد بھی یہ دونوں جرنگے کا منا نہیں سکے۔ میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکھے پاٹل نے کہا کہ’’ مراٹھا ریزرویشن کے سلسلے میں ’مسنگ لنک‘ یا گمشدہ کڑیوں کی تلاش اور انہیں جوڑنے کیلئے ہر سطح پرمثبت پیش رفت ہوئی ہے، لیکن کچھ دقتیں ہیں جنہیں دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی لئے کنبی سرٹیفکیٹ کی تقسیم میں تیزی دکھائی نہیں دے رہی ہے حالانکہ ۵۸؍ لوگوں کے نام کنبی زمرے میں ملے ہیں جن میں سے ۱۲؍ لاکھ لوگوں کو سرٹیفکیٹ دیئے گئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: دہلی ہائی کورٹ کا ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا ایکس اکاؤنٹ فوری بحال کرنے سے انکار

رادھا کرشن وکھے پاٹل کی کسی بھی بات سے منوج جرنگے متاثر نظر نہیں آئے۔ انہوں نےوکھے پاٹل سے صاف صاف کہہ دیا ’’صاحب ایسے نہیں چلے گا میں بھوک ہڑتال پر بیٹھوں گا ہی۔ ‘‘ اس سےقبل رادھا کرشن وکھے پاٹل نے کہا تھا کہ منوج جرنگے ہمارے لئے بے حد قیمتی ہیں اور ہم انہیں ہلاکت میں نہیں ڈال سکتے۔ میں ان سے مل کر ساری غلط فہمیاں دور کر دوں گا۔ مگر وہ ایسا نہیں کر سکے۔ جرنگے نے ان سے کہا کہ دیویندر فرنویس کے دفتر سے ضلع کلکٹروں کو فون کیا گیا کہ کنبی سرٹیفکیٹ نہ بانٹا جائے جس کے بعد یہ کام بند ہو گیا اور اب اس بات کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ میں بھوک ہڑتال پر بیٹھوں۔ انہوں نے کہا ’’ اب کی بار آر پار کی لڑائی ہوگی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK