Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنتر منتر: خون میں لت پت نوجوان دیکھ کر رات بھر روتا رہا: امول پراشر

Updated: July 22, 2026, 5:03 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکار امول پراشر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ۲۰؍ جولائی کو دہلی میں ہونے والے سی جے پی (CJP) احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران زخمی نوجوانوں کو خون میں لت پت دیکھ کر وہ شدید صدمے میں آ گئے اور گھر واپس جا کر پوری رات روتے رہے۔ اداکار نے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ نوجوانوں کی آواز سننے اور ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔

Amol Parashar was present at Jantar Mantar to express solidarity with the students. Photo: INN
امول پراشر طلبہ سے اظہار یکجہتی کیلئے جنتر منتر پر موجود تھے۔تصویر: آئی این این

بالی ووڈ اداکار امول پراشر نے دہلی میں ہونے والے سی جے پی (CJP) احتجاج میں اپنی شرکت اور وہاں کے دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں پہلی بار کھل کر بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ۲۰؍ جولائی کو وہ جنتر منتر پہنچے تاکہ نوجوان مظاہرین کی بات سن سکیں، لیکن وہاں جو کچھ دیکھا، اس نے انہیں اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔ امول پراشر نے بتایا کہ احتجاج کے دوران انہوں نے متعدد نوجوانوں کو زخمی حالت میں دیکھا، جن کے کپڑے خون سے بھرے ہوئے تھے۔ ان کے مطابق یہ مناظر اتنے تکلیف دہ تھے کہ وہ گھر واپس پہنچنے کے بعد پوری رات سو نہ سکے اور روتے رہے۔ اداکار نے کہا، ’’میں نے خون میں لت پت نوجوانوں کو دیکھا۔ گھر جا کر خود کو سنبھال نہیں سکا اور روتے روتے سو گیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مجھے پھر ملک مخالف کہا جائے گا: دلجیت دوسانجھ نے بھی طلبہ کیلئے آواز اٹھائی

اداکار نے واضح کیا کہ ان کی موجودگی کا مقصد کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرنا نہیں تھا بلکہ وہ ان نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے تھے جو اپنے مستقبل، تعلیم اور روزگار سے متعلق خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اتنی بڑی تعداد میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئیں تو ان کی بات سننا اور ان کے مسائل کو سمجھنا ہر ذمہ دار شہری کا فرض ہے۔ امول پراشر نے یہ بھی کہا کہ احتجاج کے دوران دکھائی دینے والی بے چینی، خوف اور غصہ صرف ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ نوجوانوں میں عرصے سے بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ایسے معاملات کا حل تشدد یا تصادم کے بجائے مکالمے اور سنجیدہ گفتگو سے نکالا جانا چاہیے تاکہ نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔

یہ بھی پڑھئے: طلبہ پر پولیس کارروائی: انوراگ کشیپ برہم، ویر داس کی خاموش فنکاروں پر تنقید

دہلی میں جاری سی جے پی تحریک نے حالیہ دنوں ملک گیر توجہ حاصل کی ہے۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی متعدد معروف شخصیات احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کر چکی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے امتحانی نظام میں اصلاحات پر بات چیت اور مزید اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔ اسی دوران امول پراشر کے جذباتی بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے اور ان کے بیان پر مداحوں اور عوام کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK