۵۰۰؍کروڑ کے آڈیو کلپ وا لے معاملے پرمراٹھا کارکن منوج جرنگے پاٹل کا دعویٰ، اس معاملے کو اب ا نجام تک پہنچائے بغیر خاموش نہ بیٹھنے کا اعلان۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 10:43 AM IST | Z.A Khan | Jalna
۵۰۰؍کروڑ کے آڈیو کلپ وا لے معاملے پرمراٹھا کارکن منوج جرنگے پاٹل کا دعویٰ، اس معاملے کو اب ا نجام تک پہنچائے بغیر خاموش نہ بیٹھنے کا اعلان۔
مراٹھا ریزرویشن تحریک کےلیڈر منوج جرنگے پاٹل نے ۵۰۰؍ کروڑ روپے سے متعلق آڈیو کلپ کے معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، ایکناتھ شندے کی شیوسینا اور شیوسینا رہنما رام داس کدم کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ آڈیو کلپ کے ذریعے انہوں نے پردے کے پیچھے مراٹھا برادری کے خلاف رچی جانے والی مبینہ سازش کو بے نقاب کیا ہے۔ جرنگے پاٹل نے اندیشہ ظاہر کیا کہ سچائی سامنے آنے کے بعد بی جے پی اور ایکناتھ شندے کی پارٹی مل کر ان کے خلاف محاذ قائم کر سکتی ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی دباؤ کے سامنے جھکنے والے نہیں ہیں۔
ایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے منوج جرنگے پاٹل نے۵۰۰؍ کروڑ روپے سے متعلق آڈیو کلپ کی تحقیقات، حکمراں جماعتوں کی مبینہ حکمت عملی اور شیوسینالیڈر رام داس کدم کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔ آڈیو کلپ کی تحقیقات کے حوالے سے جرنگے پاٹل نے کہا کہ جس ذریعے (سورس) سے انہیں یہ کلپ موصول ہوئی ہے، اس کی شناخت وہ ظاہر نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کی جان کو کوئی خطرہ لاحق ہونے دیں گے۔ ان کے مطابق، اگر وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے یا اُدے سامنت اس بات کی ضمانت دیں کہ کلپ فراہم کرنے والے شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، تو وہ آڈیو کلپ ان کے حوالے کرنے اور تحقیقات میں مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جرنگے پاٹل نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ تحقیقات کے ذریعے حقیقت سامنے آئے گی، لیکن انہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر آڈیو کلپ میں موجود گفتگو درست ثابت ہوئی تو اسے دبانے کے لیے بی جے پی اور ایکناتھ شندے کی شیوسینا متحد ہو سکتی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ مراٹھا برادری کے سامنے خوشگوار باتیں کرنے اور پس پردہ اس کے خلاف مبینہ سازش رچنے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد حکمراں جماعتیں سچائی کا سامنا کرنے سے گریز کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سچائی کو قبول کرنے کے لیے غیر معمولی حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جرنگے پاٹل کے مطابق، وہ گزشتہ تین برسوں سے مختلف حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور اب اس معاملے کو انجام تک پہنچائے بغیر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹاپ اے آئی ماڈلز کی پانی، بجلی نظام پرسائبر حملوں کی۹۰؍ فیصد کامیاب منصوبہ بندی
شیوسینا لیڈر رام داس کدم کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے جرنگے پاٹل نے کہا کہ انہوں نے صبح۱۱؍ بجے پریس کانفرنس کرکے پورا آڈیو کلپ سنایا تھا لیکن اس سے دو سے تین گھنٹے قبل ہی رام داس کدم نے ایک ٹی وی چینل پر آڈیو کلپ کا ایک مختصر حصہ نشر کیا تھا۔ ان کے مطابق، پوری گفتگو کے بجائے صرف۲۰؍ سے۳۰؍سیکنڈ کا وہ حصہ نشر کیا گیا جس میں مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ ’’شری کانت بھائی نے۵۰۰؍ کروڑ روپے لیے۔ ‘‘
جرنگے پاٹل نے سوال کیا کہ کیا رام داس کدم نے یہ حصہ نشر کرکے ایکناتھ شندے کی تعریف کی تھی؟ انہوں نے پوچھا کہ ایکناتھ شندے اور شری کانت شندے کی بدنامی انہوں نے کی یا رام داس کدم نے؟جرنگے پاٹل نے وضاحت کی کہ نارائن گڑھ میں دسہرہ تقریب کے دوران انہوں نے صرف یہ سوال کیا تھا کہ ’’شندے صاحب، میرے کانوں تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ یا شری کانت بھائی نے مجھے۵۰۰؍ کروڑ روپے دیے ہیں ؟‘‘ان کے مطابق، اس وقت ایکناتھ شندے نے واضح طور پر جواب دیا تھا کہ انہوں نے ایسی کوئی رقم نہیں دی، جس کے بعد یہ معاملہ ختم ہوگیا تھا۔ جرنگے پاٹل نے سوال کیا کہ جب معاملہ وہیں ختم ہوچکا تھا تو اسے دوبارہ کیوں اٹھایا گیا اور۵۰۰؍ کروڑ روپے سے متعلق آڈیو کلپ کو اس کے ثبوت کے طور پر ٹی وی چینل پر کیوں نشر کیا گیا؟انہوں نے دعویٰ کیا کہ رام داس کدم کے پاس اصل آڈیو کلپ موجود ہے اور انہیں اس میٹنگ کی تاریخ اور وقت کا بھی علم ہے۔ ایسے میں جرنگے پاٹل نے سوال اٹھایا کہ محکمہ داخلہ اور دیویندر فرنویس و ایکناتھ شندے ان سے کلپ طلب کرنے کے بجائے اپنی ہی پارٹی کے لیڈر رام داس کدم سے اسے حاصل کیوں نہیں کرتے؟رام داس کدم کی سرگرمیوں پر مزید سوالات اٹھاتے ہوئے جرنگے پاٹل نے کہا کہ کیا ایکناتھ شندے یا دیویندر فرنویس اس معاملے سے ناواقف ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ اگر ان کا مقصد ایکناتھ شندے کو بدنام کرنا ہوتا تو وہ پوری آڈیو کلپ نشر کرنے کے بجائے صرف۵۰۰؍کروڑ روپے سے متعلق حصہ سامنے لاتے، لیکن ان کے مطابق یہ کام رام داس کدم نے کیا۔ جرنگے پاٹل نے کہا کہ متعلقہ میٹنگ کی تاریخ بھی رام داس کدم کو معلوم ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کدم کا اصل مقصد کیا ہے اور وہ ایک ہی سیاسی صف میں رہتے ہوئے کس طرح کی حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیں ؟