• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹاپ اے آئی ماڈلز کی پانی، بجلی نظام پرسائبر حملوں کی۹۰؍ فیصد کامیاب منصوبہ بندی

Updated: October 22, 2026, 2:10 PM IST | New York

تحقیق کے مطابق ٹاپ اے آئی ماڈلز نے بجلی کے نظام پر سائبر حملوں کی ۹۰؍ فیصد کامیاب منصوبہ بندی کی، تقریباً۱۷۰۰۰؍ ٹیسٹ پر مشتمل تحقیق حالیہ سائبر حملوں کے درمیان اہم انفراسٹرکچر کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بدھ کو شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، دنیا کے کچھ جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز نے اہم انفراسٹرکچر بشمول پانی اور بجلی کے نظام کو نشانہ بناتے ہوئے سائبر حملے کے منصوبے تقریباً۹۰؍ فیصد کوششوں میں کامیابی سے تیار کیے۔سائبر سیکیورٹی کمپنی فرینوس نے۱۰؍ اے آئی ماڈلز کا ان کی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے، رسائی کی ضروریات کا اندازہ لگانے اور ضروری خدمات چلانے والے صنعتی نظاموں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت پر تجربہ کیا۔اس مطالعے میں۱۶۹۸۰؍ ٹیسٹ شامل تھے، جن میں۱۳۸۸۴؍ انفرادی فیصلے، مکمل حملے کے منصوبے تیار کرنے کی۲۵۲۰؍ کوششیں اور۵۷۶؍ نقلی رنز شامل تھے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کے اسپتالوں کے جنریٹر کا تیل ختم، بجلی بند ہونے کا خطرہ

تین معروف کمرشل اے آئی ماڈلز نے منصوبہ بندی کی کوششوں میں۸۹؍ اعشاریہ ۵؍ فیصد سے ۹۲؍ اعشاریہ ۹؍فیصد تک قابل عمل حملے کے منصوبے تیار کیے، جبکہ دیگر ماڈلز نے نمایاں طور پر خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔مضبوط ترین غیر ملکی اوپن ویٹ ماڈل نے۳۶؍ اعشاریہ ۲؍فیصد کامیابی کی شرح حاصل کی، جب کہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے امریکی اوپن ویٹ ماڈل کے لیے یہ شرح۵؍ اعشاریہ ۲؍ فیصد تھی۔ تاہم محققین نے ماڈلز کے نام ظاہر نہیں کیے۔جبکہ  فرینوس نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیسٹ میں حقیقی دنیا کے حملوں کے بجائے فراہم کردہ معلومات اور نقلی منظرنامے استعمال کیے گئے۔بعد ازاں ماڈلز نے بعض اوقات اہم اقدامات کو چھوڑ دیا یا ایسی رسائی فرض کر لی جو ان کے پاس نہیں تھی، اور تحقیق نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ اے آئی آزادانہ طور پر اہداف کی شناخت کر سکتا ہے یا سائبر حملے کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہنوئی، ویتنام: مشہور ’ہوا سوا‘ درخت ’دردِ سر‘ بن گئے، منتقلی کی مہم

واضح رہے کہ یہ نتائج صنعتی نظاموں پر حملوں کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان سامنے آئے ہیں، جن میں فرانس میں ایک حالیہ واقعہ بھی شامل ہے جس میں ہیکرز نے سیکڑوں سپر مارکیٹوں میں ریفریجریشن سسٹم میں ہیرا پھیری کی، جس سے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا، خوراک خراب ہوئی اور مبینہ طور پر آگ لگ گئی۔مزید برآں فرینوس نے میکسیکو کی واٹر یوٹیلیٹی پر جنوری میں ہونے والے سائبر حملے کا بھی حوالہ دیا، جہاں حملہ آوروں نے صنعتی نگرانی کے انٹرفیس کی شناخت اور اضافی رسائی کی کوششوں کی تجویز کے لیے اینتھروپک کے کلاڈ اے آئی کا استعمال کیا۔ وہ کوششیں ناکام ہو گئیں، اور آپریشنل کنٹرول سسٹم سے سمجھوتہ کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔
کمپنی نے اہم انفراسٹرکچر آپریٹرز پر زور دیا کہ وہ اے آئی کی مدد سے ہونے والے حملوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے نیٹ ورک کی علاحدگی کو مضبوط کریں، ریموٹ رسائی کو محدود کریں اور مشکوک سرگرمی کی نگرانی کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK