Inquilab Logo Happiest Places to Work

حفاظ سے گفتگو میں ایسے کئی لمحے آئے جب خود پر قابو مشکل تھا!

Updated: March 28, 2026, 1:05 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

’’ماہِ رمضان، ماہِ قرآن‘‘ کیلئے ’’انقلاب‘‘ گزشتہ۹؍ سال میں ۵۰۰؍ سے زائدانٹرویوکرچکا ہے۔ انہی انٹرویوزکی بابت چند باتیں اورذاتی کیفیت کا احاطہ جو اس کالم میں جگہ نہیں پاسکا تھا۔

Blind students studying at Abdullah bin Umm Maktoum University. Photo: INN
جامعہ عبداللہ بن ام مکتوم میں نابینا حفاظ طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ تصویر: آئی این این

اس نمائندے کو یہ سعادت حاصل ہے کہ اس نے رمضان المبارک میں شائع ہونے والے انقلاب کے خصوصی کالم ’’ماہ رمضان، ماہ قرآن ‘‘کے لئے پچھلے ۹؍ برس میں کم و بیش ۵؍سو میں سے بیشتر حفاظ کا انٹرویو کیا ہے۔ اس دوران کئی حیرت انگیز باتیں معلوم ہوئیں۔ اِن میں سب سے اہم یہ ہے کہ جو شخص کلام اللہ کی حفاظت کی مخلصانہ کوشش کرتا ہے، اللہ رب العزت اس کی حفاظت کرتا ہے۔ گفتگو کے دوران اس نمائندے پر متعدد مرتبہ رقت اور جذباتیت کی کیفیت طاری ہوتی رہی اور ایسے مواقع بھی آئے جب حفاظ کی کیفیت سن کر خود پر قابو رکھنا مشکل ہوگیا۔ ساتھ ہی یہ بھی اندازہ ہوا کہ بیماری، بصارت سے محرومی یا طویل العمری اس پاکیزہ عمل میں رکاوٹ نہیں۔ ان ہی میں سے کچھ خاص کیفیات کا ذیل میں احاطہ کیا جارہا ہے۔ 
حافظ مولانا سیداطہر علی عروس البلاد کی معروف شخصیت اوردارالعلوم محمدیہ کے نائب ناظم اورپرسنل لاء بورڈ کے سینئر رکن ہیں۔ وہ مذکورہ ادارے کی اور دیگر ملی ذمہ داریوں کےساتھ نصف صدی سے زائد عرصے سے تراویح پڑھارہے ہیں۔ جب یہ تفصیلات انقلاب میں شائع ہوئیں تومولانا کے بہت سے شناساؤں کو بھی خوش گوار حیرت ہوئی کیونکہ انہیں مولانا کی دیگر خدمات سے تو واقفیت تھی مگر وہ تراویح پڑھانے کی طویل تر خدمت سے واقف نہیں تھے۔ ویسے بھی ۵۰؍ برس کی مدت کم نہیں ہوتی۔ مولانا کی ان خدمات نے نمائندۂ انقلاب کو بھی سوچنے پر مجبور کیا اور رشک آیا کہ کس اہتمام سےانہوں نے نصف صدی مکمل کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: گیس کی قلت سے مزدورطبقہ نقل مکانی پرمجبور

اسی فہرست میں دارالعلوم محمدیہ کے استاد حدیث، فقہ وتفسیر مولانا جان محمد تھے، جو دارِفانی سے رخصت ہوچکے ہیں، مولانا نے بھی ۵۲؍سال سے زائد عرصے سے تسلسل کے ساتھ تراویح پڑھائی۔ دورانِ گفتگو مولانا نے راقم سے کہا تھا کہ تراویح پڑھانے کی تیاری وہ شعبان کے شروع سے ہی کثرتِ تلاوت کی صورت میں کردیتے تھے۔ مولانا سےہونے والی گفتگو سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ جنہیں تعلق بالقرآن حاصل ہے وہ اسی درجے کا اہتمام رکھتے ہیں اور جب تک ان کی زبان کلام ِ الہٰی میں رطب اللسان نہ رہے انہیں اطمینانِ قلب نہیں ہوتا، یہ ہم سب کے لئے سبق ہے۔ 
حافظ مولانا محمدعرفان، گوا کی بلال جامع مسجد کے خطیب وامام ہیں اور۱۹۹۲ء سے تراویح پڑھا رہے ہیں۔ یہ مدت زیادہ اہم نہیں ہے بلکہ دورانِ گفتگو جب انہوں نے یہ بتایا تھا کہ ۲۲؍برس سے ان کے دونوں گردے ۹۰؍ فیصد خراب ہیں اور ڈاکٹروں نے گردے کی تبدیلی یا ڈائیلیسس کو آخری علاج تجویز کیا ہے تو حیرت ہوئی کہ ایسے مرض میں مبتلا شخص آخر کس طرح تراویح پڑھانے کا اہتمام کرتا ہوگا۔ بہت سے قارئین کو اس پرحیرت ہوئی۔ ۳۲؍ منٹ تک جاری رہنے والی گفتگو میں اس نمائندہ کا بھی عجب حال تھا، آنکھیں نم ہوگئیں ۔ اندازہ ہوا کہ یہ قرآن کریم سے غایت درجہ تعلق اورقرآن کا کھلا معجزہ ہےورنہ انسانی ذہن اس حالت میں اس اہتمام کو قبول کرنے کوتیار نہیں۔ 
حیرت زدہ کرنےوالے حفاظ کی اس فہرست میں بجنور کے ۷۰؍ سال سے تراویح پڑھانے والے مردگان محلہ کی جامع مسجد کے خطیب وامام قاری عبدالحنان قاسمی بھی شامل ہیں ۔ وہ عمر کی ۸۶؍ بہاریں دیکھ چکے ہیں ، اس عمر میں جبکہ قویٰ کمزور ہوجاتے ہیں اور یادداشت پربھی اثر پڑنے لگتاہے مگرقار ی صاحب کی نہ صحت متاثر ہوئی اورنہ یادداشت۔ اُن کا یومیہ ۱۰؍ پارے کی تلاوت کا معمول بھی کم متاثر کن نہیں ہے، یہ باعثِ رشک بھی ہےاور قاری صاحب سے گفتگو کے دوران بار بار یہ خیال آتا رہا کہ کاش اسی طرح تاحیات قرآن پاک سے تعلق سے کیفیت راقم اور دیگر حفاظ کو بھی نصیب ہوجائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کلیان : انتظامی لا پروائی کی مثال ،اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت نصب سی سی ٹی وی کی ۱۷۰ ؍بیٹریاں چوری

حافظ ثناءاللہ قاسمی (بہار)کا خانوادہ بھی بایں معنیٰ قابل ِ رشک ہےکہ انہوں نے اوران کے ۴؍ بھائیوں نے کسی درسگاہ میں نہیں بلکہ اپنی والدہ، جو خود بھی حافظہ ہیں ، کے پاس حفظ کیا۔ کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ذمہ داریاں ادا کرنے کےساتھ انہوں نے اپنے لاڈلوں کو حفظ کرایا۔ یہ وہ خوش نصیب خانوادہ ہے جہاں والد بھی جید حافظ اورعالم ہیں اور ۸۲؍ سال سے زائد عمر ہوجانے کے باوجود تراویح پڑھانے کا اہتمام برقرار ہے۔ حافظ ثناء اللہ سے گفتگو کے دوران متعدد مرتبہ ایسی ماؤں کی عظیم تربیت پرخود پر قابو رکھنا مشکل ہوگیا اوریہ خیال ہوا کہ یہ سعادت تو منجانب اللہ میسر آتی ہے، انسان کےبس کا کام نہیں۔ 
بیناؤں کے ساتھ نابینا حفاظ بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے، خواہ وہ پونے کے جامعہ عبداللہ بن ام مکتوم میں زیرتعلیم حافظ فرقان ہوں، حافظ محمدفہیم ہوں یا حافظ عمر فاروق، انہوں نےنہ صرف قرآن کریم حفظ کیا بلکہ کئی برس سے تراویح پڑھارہے ہیں۔ بصارت سے محروم ان حفاظ نے اپنی محنت سے یہ ثابت کیا کہ اگر لگن اوردلجمعی ہو اور قرآن کو سینے میں محفوظ کرنے کی فکر ہو تویہ سعادت حاصل ہوجاتی ہے۔ نابینا حفاظ سے گفتگو کے دوران ’ ایں سعادت بزوربازو نیست ‘ کے مصداق ایک سے زائدمرتبہ کیفیت طاری ہوتی رہی اوریہ خیال بھی گزرا کہ اس سعادت کے لئے ظاہری بینائی شرط نہیں بلکہ تڑپ اورتوفیقِ خداوندی کا بنیادی دخل ہے۔  
واضح ہو کہ یہ محض ۸؍ حفاظ کی کیفیات کی ہلکی سی جھلک ہے، ورنہ یہ طویل فہرست ہے جس میں ایک سے بڑھ کرایک حفاظ ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK