Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان : انتظامی لا پروائی کی مثال ،اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت نصب سی سی ٹی وی کی ۱۷۰ ؍بیٹریاں چوری

Updated: March 25, 2026, 1:03 PM IST | Ejaz Abduilghani | Kalyan

اسمارٹ سٹی منصوبے کے نام پر کروڑوں روپے کے فنڈ کے بے دریغ استعمال اور انتظامی لاپروائی کی ایک شرمناک مثال کلیان اور ڈومبیولی میں سامنے آئی ہے۔ شہریوں کے تحفظ اور جرائم پر قابو پانے کیلئے شہر بھر میں نصب کی گئی ’تیسری آنکھ‘ یعنی سی سی ٹی وی کیمروں کا نظام خود ہی چوری کا شکار ہو گیا ہے۔

CCTV Theft. Photo:INN
سی سی ٹی وی کیمرے چوری ہوگئے۔ تصویر:آئی این این

اسمارٹ سٹی منصوبے کے نام پر کروڑوں روپے کے فنڈ کے بے دریغ استعمال اور انتظامی لاپروائی کی ایک شرمناک مثال کلیان اور ڈومبیولی میں سامنے آئی ہے۔ شہریوں کے تحفظ اور جرائم پر قابو پانے کیلئے شہر بھر میں نصب کی گئی ’تیسری آنکھ‘ یعنی سی سی ٹی وی کیمروں کا نظام خود ہی چوری کا شکار ہو گیا ہے۔
 حیرت انگیز طور پر شہر کے حساس ترین مقامات سے ۱۷۰ بیٹریاں اور یو پی ایس سسٹم غائب ہو گئے ہیں جس نے اسمارٹ سٹی منصوبے کی افادیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن(کے ڈی ایم سی) کی حدود میں نصب سی سی ٹی وی نیٹ ورک کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:فاروق شیخ نے فلموں کی تعداد پر نہیں معیارپر توجہ دی


 گزشتہ ایک سال کے دوران چوروں نے نہ صرف ۱۷۰ بیٹریاں بلکہ ۳ ؍یو پی ایس، سیکڑوں میٹر قیمتی پاور کیبل سوئچز اور جنکشن باکس پر بھی ہاتھ صاف کر لیا۔حیرت انگیزیہ ہے کہ یہ چوریاں کسی گمنام گلی میں نہیں بلکہ کلیان (مغربی) کے مصروف ترین سبھاش چوک، پریم آٹو، لال چوکی، والدھونی ناکہ اور کلیان (مشرقی) کے کاٹےمنولی سمیت ڈومبیولی کے اہم چوراہوں پر ہوئی ہیں۔ اس واردات کے بعد شہر کا سیکوریٹی سسٹم اپاہج ہو چکا ہے کیونکہ بیٹریاں نہ ہونے کی وجہ سے بجلی جاتے ہی کیمرے بند ہو جاتے ہیں جس کا براہ راست فائدہ جرائم پیشہ عناصر کو مل رہا ہے۔ ایک سال کے دوران درجنوں وارداتیں ہوئیں لیکن قانونی کارروائی کے نام پر صرف ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کشمیر: ندی مارگ قتل عام کی ۲۳؍ ویں برسی، کشمیری پنڈتوں کے ساتھ مسلمان بھی شریک


متعلقہ کنٹریکٹر کا الزام ہے کہ پولیس کی جانب سے تعاون تو دور کی بات، شکایت سننے میں بھی پس و پیش سے کام لیا جا رہا ہے۔میونسپل ہیڈ کوارٹر اور ڈی سی پی آفس میں بیٹھے افسران جس مانیٹرنگ پر شہر کی حفاظت کا دم بھرتے ہیں انہیں شاید یہ خبر ہی نہیں کہ ان کے کیمروں کی بیٹریاں چور نکال کر لے جا چکے ہیں۔ یہ صورتحال اسمارٹ سٹی مشن کی شفافیت اور انتظامیہ کی چوکسی پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK