ہندوستانی کپتان شبھ من گل نے سری لنکا کے خلاف ۰۔۱؍ سے سیریز جیتنے کے بعد نوجوان بلے باز دیودت پڈیکل اور بائیں ہاتھ کے اسپنر مانَو سُتھار کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیت اور بہترین ذہنی رویے کا مظاہرہ کیا۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 6:02 PM IST | New Delhi
ہندوستانی کپتان شبھ من گل نے سری لنکا کے خلاف ۰۔۱؍ سے سیریز جیتنے کے بعد نوجوان بلے باز دیودت پڈیکل اور بائیں ہاتھ کے اسپنر مانَو سُتھار کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیت اور بہترین ذہنی رویے کا مظاہرہ کیا۔
ہندوستانی کپتان شبھ من گل نے سری لنکا کے خلاف ۰۔۱؍ سے سیریز جیتنے کے بعد نوجوان بلے باز دیودت پڈیکل اور بائیں ہاتھ کے اسپنر مانَو سُتھار کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیت اور بہترین ذہنی رویے کا مظاہرہ کیا۔ ہندوستان نے گالے میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ جیتا تھا، تاہم کولمبو میں دوسرے ٹیسٹ میں سونل دنوشا کی شاندار مزاحمتی سنچری کی بدولت سری لنکا فالو آن کے باوجود میچ ڈرا کرانے میں کامیاب رہا۔ اس کے باوجود یہ ہندوستان کی سری لنکا میں مسلسل تیسری ٹیسٹ سیریز جیت ہے۔
یہ بھی پڑھئے:میں اسکرپٹ پر کبھی مکمل طور پر قائم نہیں رہتی:گیتو موہنداس کا پرانا ویڈیو وائرل
گل نے دوسرے ٹیسٹ میں فتح حاصل نہ کر پانے پر مایوسی ظاہر کی، لیکن ٹیم کی مجموعی کارکردگی کو مثبت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں کی اچھی کارکردگی دیکھ کر خوشی ہوئی۔ پڈیکل نے دو ٹیسٹ میچوں میں۳۳ء۱۰۹؍کےاوسط سے ۳۲۸؍ رنز بنائے، جس میں دو سنچریاں بھی شامل تھیں۔ کپتان نے مانَو سُتھار کی بھی بھرپور تعریف کی، جنہوں نے سیریز میں ۱۶؍وکٹ حاصل کئے، جس میں گال ٹیسٹ میں ۱۰؍ وکٹوں کی کارکردگی شامل تھی۔ گل نے کہا کہ سُتھار طویل عرصے تک ہندوستان کے اسپن اٹیک کی قیادت کرنے والے اہم گیندباز ثابت ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:پراگنانندھا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے گلوبل چیس ٹور جیت لیا
گل نے کہا کہ سری لنکا کی جانب سے دوسرے ٹیسٹ میں جس طرح فالو آن کے بعد تین دن تک بلے بازی کی گئی، اس سے ہندوستان کو بھی سیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ مطلوبہ نتیجہ نہ ملنے کے باوجود حریف ٹیم کو اس کی شاندار کارکردگی کا کریڈٹ دینا چاہیے۔ ہندوستان کی اگلی ٹیسٹ سیریز نومبر میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہوگی، جہاں عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں جگہ بنانے کے لیے ٹیم کو بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی۔