متاثرین چلچلاتی دھوپ میں بے یارومددگار، ریلوے انتظامیہ نے ایک ہزار سےزائد پولیس جوانوں کی موجودگی میں کی جارہی اس انہدامی کارروائی کو عدالتی حکم کی تعمیل بتایا۔
غریب نگر۔ تصویر:آئی این این
باندرہ : باندرہ غریب نگر میں منگل ۱۹؍مئی کی صبح بڑے پیمانے پرریلوے کے ذریعے انہدامی کارروائی کی گئی ۔ ۵ ؍ جے سی بی کے ذریعے کی جانے والی انہدامی کارروائی سے افراتفری مچ گئی اور مقامی مکین کھلے آسمان تلے چلچلاتی دھوپ میں بے سہارا ہو کر رہ گئے۔
۲۳؍مئی تک ۵؍دن کارروائی جاری رہےگی
۱۹؍مئی کوجی آرپی ،آرپی ایف اورسٹی پولیس کے ایک ہزار سے زائد جوانوں کے زبردست بندوبست میں شروع کی گئی انہدامی کارروائی میں مجموعی طور پر ۵۰۰؍ جھوپڑوں کو توڑا جائے گا۔ یہ کارروائی ۲۳؍مئی یعنی آئندہ ۵؍ دنوں تک جاری رہے گی۔
۱۰۰؍جھوپڑوں کو نہیںتوڑا جائے گا
اس انہدامی کارروائی سےجہاں مکینوں کو زبردست پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا وہیں انہوں نے ریلوے انتظامیہ پر زورزبردستی کا بھی الزام عائد کیا ۔ خاص بات یہ ہے کہ یہاں ۱۰۰؍ جھوپڑوں کو جنہیں عدالت کے حکم پر نشا ن زد کیا گیا ہے ، انہیں نہیںتوڑا جائے گا۔ریلوے کےچیف پی آراو ونیت ابھیشیک نےعدالت کے حکم کی رو سے اس کا حوالہ دیا ۔
مکینوں کا درد،زورزبردستی کرنے کاالزام
باندرہ غریب نگر میں کی جانے والی زبردست انہدامی کارروائی کے دوران افراتفری کا عجب منظر تھا ۔ مکین پریشانی کے عالم میںادھر ادھر بھاگ رہے تھے جبکہ ان کی نگاہوں کے سامنے ایک منزلہ، دومنزلہ ، تین اورچار منزلہ جھوپڑے بے رحمی سے توڑے جارہے تھے ۔ مکینوں سےبات چیت کرنےپر بیشتر کی کیفیت یہ تھی کہ وہ کچھ کہنے کی پوزیشن میںنہیں تھے۔
عبداللہ خان نام کے ایک شخص نےناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’ یہ ظلم ہے، کیا یہ جھوپڑپٹی آج آباد ہوئی ہے؟ہم لوگ یہاں برسوں سے آباد ہیں اور محض ۲۴؍ گھنٹےکے نوٹس کے ذریعے ہمیںبے گھر کیا جارہا ہے۔ وہ بھی اس طرح کہ پولیس کے ذریعے گویا ہم سب کی گھیرابندی کردی گئی ہے اورکسی کوقریب بھی نہیںہونے دیاجارہا ہے۔‘‘
ایک اورمکین عبدالرحمٰن انصاری نے بتایاکہ’’ کیا ہم سب اسی طرح سے بے گھرکئے جاتے رہیںگے۔ چند دن بعد بارش شروع ہوجائے گی ، ایسے میں ہم لوگ کہاں جائیںاورکس سے فریاد کریں۔ ‘‘ یہی کیفیت اورشکایت دیگرمکینوں کی تھی ۔ نمائندے نے دیکھا کہ بہت سے مکین بچا کھُچا سامان رکھ کر حسرت ویاس سے توڑے جارہے اپنےجھوپڑوں کوتَک رہے تھے ۔
ریلوے انتظامیہ نے کیا کہا؟
ایک جانب جہاں پولیس کے جوانوں کی بھاری بھرکم تعداد موجود تھی وہیں ریلوے کے انجینئر ،افسران اورچیف پی آر او بھی ڈیوٹی دے رہے تھے ۔ چیف پی آر او ونیت ابھیشیک نے انقلاب کوبتایا کہ ’’ یہ ویسٹرن ریلوے کی اب تک کی غیرقانونی تعمیرا ت کے خلاف سب سے بڑی کارروائی ہے ۔اس کے تعلق سےنوٹس لگاکر مکینوں کو ایک دن قبل مطلع کردیا گیا تھا۔یہ کارروائی ۲۳؍ مئی تک جاری رہے گی۔‘‘ چیف پی آر او نے یہ صفائی بھی دی کہ ’’ یہ کارروائی عدالت کے حکم پر کی جارہی ہے ،ریلوے اپنے طورپر کچھ بھی نہیں کررہی ہے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ ’’ ۲۳؍مئی تک توکارروائی کی ہی جائے گی، اس کے بعد بھی کارروائی جاری رہے گی اورساری زمین خالی کرائی جائے گی تاکہ ریلوے کے پروجیکٹ کوآگے بڑھایا جاسکے۔‘‘
مکینوں کاسب سے اہم سوال
آج ریلوے جس زمین پر دعویٰ کرتے ہوئے انہدامی کارروائی کو عدالت کے حکم کی تعمیل کہہ رہی ہے، مکینوں کا یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ اگر واقعی ریلوے کایہ دعویٰ درست ہے تو پھر اس زمین پر ناجائز قبضہ جات کس طرح ممکن ہوا ؟کیا اس میں ریلوے افسران اورآرپی ایف اورریلوے کے دیگر شعبوں کے اہلکاروں کی ملی بھگت نہیں ہے۔‘‘