۵۰۰؍مظاہرین کو تحویل میں لیا گیا ،پولیس نے تشار گاندھی کو۹؍گھنٹے اپنی تحویل میں رکھا۔اگست کرانتی میدان ،گرانٹ روڈ اورنانا چوک پرجمع ہونے والے مظاہرین کو الگ الگ پولیس اسٹیشن لے جایا گیا
ڈی این نگر پولیس اسٹیشن کا منظر۔تصاویر: انقلاب اور سید سمیر عابدی
ممبئی : پولیس کی سختی اور پکڑ دھکڑ کے باوجود ووٹ چوری کے خلاف اورکاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے۱۰؍ اکتوبر کو ممبئی میں بھی سماجی خدمت گاروں ، طلبہ کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی پلے کارڈ اٹھاکر زبردست احتجاج کیا۔ پولیس نے مجموعی طور پر ۵۰۰؍ سے زائد مظاہرین کو اپنی تحویل میںلیا جنہیں بعد میں چھوڑا گیا۔ مظاہرین نے احتجاج کو اپنا حق قرار دیتے ہوئے ’انقلاب زندہ باد اور حکومت ہم سے ڈرتی ہے پولیس کو آگے کرتی ہے اورووٹ چور گدی چھوڑ‘ جیسے نعرے لگائے ۔
پولیس اورمظاہرین کی اپنی تیاریاں
مظاہرین کو اکٹھا نہ ہونے دینےکے لئے ممبئی پولیس کی جانب سے پیشگی تیاری کی گئی تھی مگر مظاہرین بھی کمربستہ تھے کہ وہ احتجاج کے اپنے جمہوری حق اور گیانیش کمار کے استعفے کے لئے بہر صورت آواز بلند کریں گے۔ احتجاج میں پیش پیش رہنے والوں کو پہلےسے ہی تحویل میں لینا شروع کردیا تھا پھر بھی بہت سے مظاہرین اگست کرانتی میدان پہنچنے اور نعرے بازی کی جبکہ نانا چوک اور گرانٹ روڈ سے بھی کئی مظاہرین کو پولیس نے تحویل میں لیا۔پولیس کی جانب سے وین کھڑی کرکے سادہ لباس میں پولیس کے جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا تاکہ آنے والے مظاہرین پر نگاہ رکھی جاسکے۔
تشار گاندھی کو ۹؍گھنٹے پولیس کی تحویل میں رہے
گاندھی جی کے پڑپوتے تشار گاندھی کو۹؍ گھنٹے پولیس نے اپنی تحویل میںرکھا۔ انہوںنے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ’’ اگست کرانتی میدان جاتے ہوئے صبح ساڑھے ۱۰؍ بجے نیشنل کالج کے پاس (باندرہ) پولیس نے انہیں تحویل میںلے کر ڈی این نگرپولیس اسٹیشن لایا گیا ۔ اس کے بعد ہیلتھ چیک اَپ کا حوالہ دیتے ہوئے بوریولی پولیس اسٹیشن لایا گیا ،پھرشام کو ۷؍بجے پولیس والوں نے مجھے گھر چھوڑا۔‘‘
’’یہ حکومت آسانی سے نہیں مانے گی‘‘
تشار گاندھی نے کہاکہ ’’ اس رویے سے صاف ہوجاتا ہےکہ حکومت آسانی سے نہیں مانےگی، عوام کو سڑکوں پر اترکر اپنی زبردست طاقت کا احساس کرانا ہی ہوگا۔‘‘
۱۰؍گھنٹےبعد چھوڑا گیا
فیروز میٹھی بور والا بھی احتجاج کے لئے پیش پیش تھے ،ان کے گھرسے ایم آی ڈی سی پولیس نےصبح ساڑھے ۹؍ بجے تحویل لیا اورشام کو ۷؍بجے کے بعد چھوڑا گیا۔ فیروزکے مطابق’’ اس طرح سے ووٹ چوری اورگیانیش کمار کوبچایا نہیں جاسکتا۔ اس کے علاوہ ایس آئی آر کورَد کرنا ہی ہوگا کیونکہ بھانڈا پھوٹ چکا ہے اور ووٹ چوری کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔‘‘
فلم اداکار عمران خان کوپولیس اسٹیشن لایا گیا
فلم اداکار عمران خان اورکئی دیگر مظاہرین کو اگست کرانتی میدان سے گاؤں دیوی پولیس اسٹیشن لایا گیا۔ پولیس اسٹیشن لائے جانے والوں میں شامل ارشاد خان (کرلا وائس) کے مطابق ’’گاؤں دیوی پولیس اسٹیشن میں ۵۰؍سے زائد مظاہرین کولایا گیا اور ۵؍ گھنٹے بعد چھوڑا گیا ۔‘‘اس دوران اگست کرانتی میدان پر ایڈوکیٹ سامیا کورڈے اورگڈی ایس ایل آر وغیرہ نے پولیس سے زبردست مزاحمت کی۔ مظاہرے کے دوران گڈی زمین پر لیٹ گئیں ا ورکہاکہ ’’ احتجاج ہمارا حق ہے اورہم سب آئندہ بھی آواز بلند کرتے رہیں گے۔‘‘