Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے والے خود فرقہ پرست اور دہشت گرد ہیں‘‘

Updated: August 17, 2026, 11:45 AM IST | Sameer Chaudhary | Deoband

دارالعلوم دیوبندمیں جشن آزادی کی تقریب سے مولانا ارشدمدنی کا خطاب، کہا: مدارس سے وطن پرستی کا ثبوت مانگنے والوں کو اپنا ماضی دیکھنا چاہیے۔

Maulana Arshad Madani. Picture: INN
مولانا ارشد مدنی۔ تصویر: آئی این این

جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر اور دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین مولانا سید ارشد مدنی نے ملک کی آزادی اور جمہوریت کو عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے ایسے عناصر پر سخت تنقید کی جو ملک کے سیکولرزم کے تانے بانے کو بکھیرنا چاہتے ہیں اور اپنے منفرد انداز میں کہا کہ’’ آزادی کیا ہوتی ہے ہم سے پوچھو، قربانیاں ہم نے دی ہیں، ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ دارالعلوم دیوبند، علماء، مدارس اور مسلمانوں کی عظیم قربانیوں کے ذکر کے بغیر نہیں لکھی جاسکتی ہے اور نہ سمجھی جاسکتی ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: بنگال : سابق ڈپٹی اسپیکر کی خودکشی، سیاسی ماحول گرم

یہاں دارالعلوم دیوبند کے اعظمی منزل احاطے میں منعقد جشن یوم آزادی کی تقریب میں خصوصی خطاب کے دوران مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کا قیام ہی مجاہد آزادی پیدا کرنے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ دارالعلوم دیوبند کا قیام ۱۸۵۷ءمیں قتل عام کے بعد ۱۸۶۶ءمیں کیا گیا تھا، مگر افسوس آج تاریخ کو مسخ کر کے انہی مدارس کو دہشت گردی سے جوڑنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے، جن کے حجروں، درسگاہوں اور خانقاہوں سے غلامی کے خلاف اور ملک کی آزادی کیلئے سب سے پہلے صور پھونکا گیا تھا، انہیں مشکوک اور مشتبہ بنانے کی ناپاک کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے والے خود فرقہ پرست اور دہشت گرد ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آدھار واڑی ڈمپنگ گراؤنڈ پر بائیو مائننگ کا دوسرا مرحلہ شروع

 مولاناارشد مدنی نے کہا کہ تحریک ریشمی رومال اور مالٹا کی اسیری ہماری تاریخ کے ایسے روشن ابواب ہیں، جنہیں کوئی فرقہ پرست طاقت مٹا نہیں سکتی، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ؒاور شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ اور ان کے رفقاء کو سات سمندر پار مالٹا میں اسلئے قید کیا گیا تھا کہ وہ ہندوستان کو برطانوی غلامی سے آزاد دیکھنا چاہتے تھے، فرقہ پرستوں سے سوال ہے کہ جب ہمارے اکابر مالٹا میں قید تھے اور علماء انگریزوں کے خلاف جیلیں بھر رہے تھے اور آزادی کیلئے اپنی جانیں قربان کر رہے تھے، آج حب الوطنی کی سند بانٹنے والوں کے نظریاتی پیشوا اس وقت کہاں تھے؟ اس لیے مسلمانوں اور مدارس سے وطن پرستی کا ثبوت مانگنے سے پہلے انہیں تاریخ کے آئینے میں اپنا ماضی دیکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: وندے ماترم معاملے پر سونیا گاندھی کیخلاف شکایت

آزادی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا مدنی نے کہاکہ کابل کی جلاوطن حکومت میں ہندو راجہ مہندر پرتاپ کو صدر بنا کر ہمارے اکابر نے آزادی سے پہلے ہی سیکولرازم کا تصور دیا تھا، افسوس آج فرقہ پرست طاقتیں سیکولر کا لفظ دستور سے نکالنا چاہتی ہیں۔ مولانا مدنی نے مزید کہا کہ ایسا نہیں ہے پہلے جو لوگ اقتدار میں تھے وہ ان حالات کے ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ انہوں نے بھی مسلمانوں کو سماجی، تعلیمی اور سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کی ہمیشہ کوششیں کیں، مسلم کش فسادات بھی ہوتے رہے لیکن تب میں اور اب میں بڑا فرق یہ ہے کہ اس وقت مسلمان نشانے پہ تھے مگر اب اسلام بھی نشانے پر ہے، اسلام کو مٹانے والے خود مٹ گئے اور اسلام زندہ رہا اور قیامت تک زندہ رہے گا ان شاءاللہ۔ مولانا مدنی نے سوویت روس کا حوالہ دے کر کہا جہاں کمیونزم کو بڑھاوا دے کر اسلام کو ختم کرنے کی برسوں کوششیں ہوتی رہیں یہاں تک کہ مساجد اور دینی مدارس پر پابندیاں عائد کر دی گئیں،  دنیا نے دیکھا کہ روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اس کے بعد کئی مسلم مملکتیں وجود میں آئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK