اگلے۸ ؍ماہ میں کچرے کا پہاڑ ختم کرکے جدید پارک تعمیر کرنے کا منصوبہ۔
EPAPER
Updated: August 17, 2026, 11:03 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan
اگلے۸ ؍ماہ میں کچرے کا پہاڑ ختم کرکے جدید پارک تعمیر کرنے کا منصوبہ۔
دہائیوں سے ماحولیاتی آلودگی اور شہریوں کیلئے وبال جان بنے آدھار واڑی ڈمپنگ گراؤنڈ کے خاتمے کی سمت اہم پیش رفت ہوئی ہے۔کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) نے یہاں جمع کچرے کے دیوہیکل پہاڑ کو ختم کرنے کیلئے بائیو مائننگ پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ میونسپل انتظامیہ کے مطابق آئندہ۸؍ ماہ کے اندر برسوں سے جمع کچرے کو مکمل طور پر ہٹاکر زمین کو ہموار کر دیا جائے گا جس کے بعد اس مقام کو سرسبز و شاداب پارک میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بی ایم سی کی جانب سے تاخیر کے سبب سائن بریج کا کام ادھورا
شہری انتظامیہ کے مطابق آدھار واڑی ڈمپنگ گراؤنڈ کے خاتمے اور زمین کی بحالی کے منصوبے کو جدید بائیو مائننگ ٹیکنالوجی کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے۔پہلے مرحلے میں ۶ء۸۰؍لاکھ کیوبک میٹرک ٹن کچرا صاف کیا جاچکا ہےجبکہ دوسرے مرحلے میں باقی ماندہ ۶ء۲۰؍ کیوبک میٹرک ٹن کچرے کو تلف کرنے کا ہدف ہے۔کچرے سے حاصل ہونے والا ٹھوس ایندھن سیمنٹ فیکٹریوں کو صنعتی ایندھن کے طور پر فروخت کیا جا رہا ہے۔کچرے کا پہاڑ ہٹنے سے درگاڈی چوک تا باراوے مجوزہ رنگ روڈ کی تعمیر میں حائل طویل المدتی رکاوٹ بھی دور ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: بہار کے اشوک دھام مندر میں خوفناک بھگدڑ، ۷؍ ہلاک، ۱۲؍ سے زائد زخمی
عیاں رہے کہ ۱۹۸۳ ء میں میونسپل کارپوریشن کے قیام کے وقت سے ہی پورے شہر کا کچرا بغیر کسی سائنسی انتظام کے آدھار واڑی میں پھینکا جا رہا تھا۔ بدبو، تعفن اور زہریلی گیسوں کے باعث قریبی آبادی کو شدید پریشانی کا سامنا تھا۔ لوگ سستے داموں میں اپنے مکانات فروخت کرکے دوسرے مقامات پر منتقل ہوگئے۔شہریوں میں سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریاں عام ہو گئیں۔عوامی شکایات کے بعد ۲۰۰۹ میں سماجی کارکن کستوب گوکھلے ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے جس کے بعد ہائی کورٹ نے کچرا پھینکنا بند کرنے کے احکامات دئیے اور آلودگی کنٹرول بورڈ نے بھی نوٹس جاری کیا۔ تاہم کے ڈی ایم سی کی حدود میں متبادل پلانٹ کے قیام کے بعد میونسپل انتظامیہ نے ۲۰۲۰ ءسے آدھار واڑی میں کچرا ڈالنا مکمل بند کر دیا گیا ہے۔