مایاوتی بھی میدان میں اُتریں، ۲؍ فروری کو آگرہ میں پہلی ریلی ہوگی

Updated: January 26, 2022, 9:44 AM IST | Lucknow

بی ایس پی سپریمو کی بی جے پی کے ساتھ ہی سماجوادی پارٹی پر بھی سخت تنقید، کہا: ان دونوں نے سیاست میں جرائم کی آمیزش کی ہے اور ریاست کو جنگل راج میں دھکیلا ہے،اس کے باوجود ان کی’جملے بازیاں‘ جاری ہیں ، بی جے پی نے بھی جوابی حملہ کیا اور بی ایس پی کے ساتھ ہی سماجوادی پارٹی کو بھی نشانے پر لیا

BSP supremo Mayawati
بی ایس پی سپریمو مایاوتی

یک طویل عرصے تک خاموش رہنے کے بعد اب بی ایس پی میں اترپردیش انتخابات کے تئیں ہلچل شروع ہوگئی ہے۔  بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے ذریعہ ۲؍ فروری کو آگرہ میں ریلی میں کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی پارٹی کارکنوں میں جوش بھر گیا ہے۔ خیال رہے کہ طویل عرصے بعد یہ ان کی پہلی عوامی ریلی ہوگی۔بی ایس پی کے جنرل سیکریٹری اور پارٹی  کے قد آور لیڈر   ستیش چندر مشرا نے منگل کو یہ  جانکاری دی۔ انہوں نے کہا کہ  کووڈ پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے ۲؍ فروری کو مایاوتی کی  ریلی آگرہ میں منعقد کی جائے گی۔ انہوںنے ٹویٹ کر کے بتایا کہ ’’ہرکسی کوآگاہ کرانا ہے کہ آئندہ ہفتے ۲؍فروری کو بی ایس پی کی قومی صدرا ور اترپردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی جی آگرہ میں کووڈ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے عوامی ریلی سے خطاب کریں گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ عوامی ریلی کا وقت، مقام اور آئندہ ریلیوں کی اطلاع میڈیا کو جلد ہی دستیاب کرائی جائے گی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس اعلان کے ساتھ ہی پارٹی کارکنوں میں جوش بھر گیا ہے اور وہ اپنی پوری طاقت سے انتخابی مہم کیلئے سرگرم ہوجائیں گے۔ 
 اسی کے ساتھ پارٹی سپریمو مایاوتی نےریاست کی دیگر جماعتوں بالخصوص حکمراں محاذ بی جے پی  اور ریاست کی اصل   حزب اختلاف کی جماعت سماجوادی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوںنے بی جے پی اور  ایس پی پر سیاست میں جرائم کی آمیزش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست کو جنگل راج میں دھکیلنے کے بعد بھی ان کی’جملے بازیاں‘ جاری  ہیں۔ مایاوتی کے اس بیان پر فوری رد عمل کااظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ یوگی نے بی ایس پی کے ساتھ ہی سماجوادی کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپوزیشن پارٹیوں پر اقتدار میں رہتے ہوئے خود کچھ نہ کرنے اور صرف  الیکشن کےموقع پر حکمراں جماعت پر تہمتیں لگانے  کا جملہ کسا ہے۔
 اترپردیش میں اسمبلی الیکشن کے پیش نظر مایاوتی نے منگل کو اپنی حریف جماعت بی جے پی پر  جملے بازی کرنے اور ایس پی پر شرپسند عناصر کو تحفظ دینے کا الزام لگا۔ ایس پی اور بی جے پی کا نام لئے بغیر انہوں نے ٹویٹ میں کہا کہ’’ بی ایس پی کو چھوڑ کر سبھی پارٹیوں کی حکومتوں نے سیاست میں جرائم کی آمیزش، جرم کو سیاست کی پناہ گاہ بنانے، قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے اور اپنی پارٹی کے غنڈوں اور مافیاؤں کو تحفظ وغیرہ سے یوپی کو جنگل راج میں دھکیل اسے غریب وپچھڑا بنائے رکھ کر عوام کو پریشان کرنے کے قصوروار ہیں لیکن ان کی جملے بازیاں جاری  ہیں۔‘‘
  اس بیان کے جاری ہونے کےکچھ ہی دیربعد اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جوابی حملہ کرتےہوئے سماجوادی  اور بی ایس پی کا نام لئے بغیر کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں اپنے  دور اقتدار میں کچھ نہیں کرتی ہیں لیکن الیکشن آتے ہی ان کی طرف سے الزامات کے تیر چلنے لگتے ہیں۔ یوگی نے ٹویٹ کر کے طنز کیا کہ ’’ایک کہاوت ہے کہ کریں نہ دھریں اور ترکش  پہنے پھریں‘‘۔ انہوں  نے کہا کہ پوری اپوزیشن کا یہی حال ہے۔اقتدار میں رہے تو کچھ نہیں کیا اب الیکشن کے وقت سب’ترکش‘ پہنے پھر رہے ہیں۔

mayawati Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK