Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریاست بھر میں میڈیکل اسٹورس کے مالکان کا احتجاج

Updated: May 21, 2026, 1:06 AM IST | Jalgaon

مہاراشٹر کے بیشتر اضلاع میں دکانیں بند رہیں، جلگائوں میں آن لائن دوائوں کی ارتھی نکالی گئی، ایوت محل میں خاموش مارچ نکالا گیا تو ناندیڑ میں دھرنا دیا گیا

The meaning of online medicines discovered in Jalgaon
جلگائوں میں نکالی گئی آن لائن دوائوں کی ارتھی

 میڈیکل اسٹورس کی ملک گیر ہڑتال کا اثر مہاراشٹر میں بھی بڑے پیمانے پر دکھائی دیا۔ ریاست کے بیشتر اضلاع میں میڈیکل اسٹور بند رہے اور اسٹور مالکان نے حکومت کی پالیسی کے خلاف احتجاج کیا۔ اسٹور مالکان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ دوائوں کی آن لائن فروخت بند کی جائے جس کی وجہ سے چھوٹے دکانداروںکو نقصان ہو رہا ہے۔ بدھ کے روز ممبئی، ناسک، پونے ، اورنگ آباد کے علاوہ ناندیڑ، جلگائوں اور ایوت محل جیسے شہروں میں بند کامیاب نظر آیا۔ 
  ناندیڑ میں دوا فروشوں نے  ضلع کلکٹر دفتر کے سامنے دھرنا دیا۔ نیز کلکٹر کو ایک یادداشت پیش کی۔آل انڈیا کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے ناندیڑ  شانتانو  کوڈگیرے اور دیپک کوٹھاری کی قیادت میں  بڑی تعداد میں دوا فروش اس دھرنے میں شامل ہوئے۔  کلکٹر کو دیئے گئے مکتوب میں  مطالبہ کیا گیا کہ آن لائن دواؤں کی فروخت پر  پابندی عائد کی جائے اور روایتی میڈیکل کاروبار کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان دوا فروشوں کا کہنا تھا کہ حکومت کورونا کے وقت دی گئی دوائوں کی آن لائن چھوٹ کو فوراً ختم کرے کیونکہ یہ سرے سے غیر قانونی ہے۔ اسے صرف لاک ڈائون کی وجہ سے اجازت دی گئی تھی۔ اس مطالبے کے حق میں وزیر اعظم   مودی کو بھی ایک تفصیلی مکتوب روانہ کیا گیا ہے، جس کی نقل ضلع انتظامیہ کو بھی ارسال کی گئی ہے۔
  ودربھ کے علاقوں میں بھی بند کا خاصہ اثر نظر آیا۔ ایوت محل ضلع میں  میڈیکل اسٹورس بند رکھ کر ہڑتال کی حمایت کی گئی۔ اس کے علاوہ صبح ۱۰؍ بجے ایوت محل کے دوا بازار سے ایک ’خاموش مورچہ‘ ضلع کلکٹر دفتر تک نکالا گیا۔  یہاں بھی   ضلع کلکٹر کو ایک مکتوب  دیا گیا۔ جبکہ مظاہرین نے میڈیا کے توسط سے کہا کہ’’  اس  بند کا مقصد عوام کو پریشان کرنا نہیں بلکہ حکومت کا دھیان اس طرف دلانا  ہے۔ اسوسی ایشن کے صدر سنجے پیپل کھوٹے نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے  ۲۰۱۸ء میںکورونا کے پیش نظر دوائوں کی آئن لائن فروخت کی جو خصوصی اجازت دی تھی وہ صرف متاثرہ ضلع یا تعلقہ مقام تک ہی محدود تھی لیکن اب کھلے عام آن لائن فروخت جاری ہے۔  ۲۰۲۰ء میں حکومت نے ایک اور جی آر نکالا اور اس فروخت کو وسعت دی۔ اِس کی وجہ سے آن لائن دوا فروشوں کو تقویت ملی اور میڈیکل اسٹورس مالکان کو اپنی دکانیں بند کرنے کی نوبت آگئی ہے۔ اس سلسلے میں اسوسی ایشن نے کئی بار مرکزی وزارت صحت سے ملاقات کی کوشش کی لیکن یہ کام آج تک ہو نہیں سکا۔ اس لئے مجبور ہوکر اسوسی ایشن کو ’بھارت بند‘ احتجاج کا اعلان کرنا پڑا۔
  اس ملک گیر ہڑتال میں جلگاؤں ضلع کے ساڑھے چار ہزار سے زیادہ میڈیکل اسٹورس نے حصہ لیا۔ جلگاں شہر میں مظاہرین نے آن لائن ادویات کا علامتی جنازہ نکال کر حکومتی پالیسی کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا۔ عوام کو ایمرجنسی کی صورت میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو اس کیلئے تعلقہ وار مقامی میڈیکل اسویشن نے اپنے عہدے داران کے نمبر رابطہ نمبر دو روز پہلے ہی عام کر دیئے تھے۔دکانداروں نے الزام لگایا کہ دوائوں کی آن لائن فروخت کے ذریع صارفین کی صحت سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ اگر اسے فوراًبند نہ کیا گیا تو آ ئندہ اور سخت احتجاج کیا جائے گا۔ چالیس گاوں میڈیسن ڈیلرس ایسوسی ایشن  نےخاموش مارچ نکالااور تحصیلدار کو میمورنڈم  دیا۔ سٹی پولیس اسٹیشن کے پاس سے شروع ہونے والا یہ مارچ ریلوے بریج کے پاس تحصیل دفتر عمارت تک پرامن طور پر نکالا گیاجس میں تنظیم کے نائب صدر سندیپ بیدموتھا، تعلقہ صدر سنجے پاٹل، تعلقہ نائب صدر ونود جین، سنجے برہمنکر، سابق صدر راجندر پاٹل، یوگیش بھوکرے، روشن گلیچا اور دیگر موجود تھے۔  

jalgaon Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK