میگھالیہ : کانگریس کو جھٹکا، ۱۲؍ ایم ایل اے ترنمول میں شامل

Updated: November 26, 2021, 1:08 PM IST | Agency | New Delhi

اب صرف ۵؍ ایم ایل اے رہ گئے،کانگریس نے ریاست کی اصل اپوزیشن پارٹی کا مرتبہ بھی کھودیا، بغاوت میں پرشانت کشور کا اہم رول ہونے کادعویٰ

The rebels include former Congress chief minister Mukul Sangma..Picture:INN
بغاوت کرنےو الوں میں کانگریس کے سابق وزیراعلیٰ مکل سنگما بھی شامل ہیں۔ ۔ تصویر: آئی این این

 میگھالیہ میں بدھ کو کانگریس کو غیر معمولی جھٹکا لگا ہے۔ پارٹی کے ۱۷؍ اراکین اسمبلی میں  سے ۱۲؍ نے ترنمول میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ان میں کانگریس کے سابق وزیراعلیٰ مکل سنگما بھی شامل ہیں۔ الزام  ہے کہ کانگریس  میں ہونے والی اس بغاوت میں پرشانت کشورکا اہم رول ہے۔ 
باغی ایم ایل ایز نے اسپیکر کو مکتوب سونپا
  کانگریس کے باغی اراکین اسمبلی  نے اس سلسلے میں اسمبلی کے اسپیکر میتھبا لنگڈو کو مکتوب روانہ کردیئے  ہیں۔ ٹی ایم سی لیڈروں  نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کانگریس کے۱۷؍ میں سے۱۲؍ایم ایل اے  ان کی پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔
  اس کے ساتھ ہی ٹی ایم سی میگھالیہ اسمبلی میں اصل اپوزیشن  پارٹی بن گئی ہے جبکہ کانگریس اس مرتبہ سے محروم ہوگئی ہے۔ ٹی ایم سی، جو شمال مشرقی ریاستوں میں اپنی طاقت میں اضافہ کرنا چاہتی ہے، نے کانگریس کے اندر گروپ  بندی کا فائدہ اٹھا لیا ہے۔ کہا جارہاہے کہ ٹی ایم سی کی نظر ۲۰۲۳ء کے اسمبلی انتخابات پر ہے جس میں وہ ریاست میں اقتدار پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ 
بغاوت میں پرشانت کشور کا اہم رول
 اطلاعات کے مطابق کانگریس کی میگھالیہ اکائی میں   ہونےوالی اس غیر معمولی بغاوت میں پرشانت کشور کا اہم رول ہے جو کولکاتا اسمبلی الیکشن میں ٹی ایم سی کی فتح کیلئے  اس  کے ساتھ مل کر کام کرچکے ہیں۔  ذرائع سے ملنے والی خبروں کے مطابق کانگریس میں بغاوت کی سازش کاآغاز  سابق وزیراعلیٰ مکل سنگما  کے ساتھ پرشانت کشور کی میٹنگ سے ہوا۔ خود سنگما نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میںاس بات کی تصدیق کی اور بتایا کہ  انہوں  نے پرشانت کشور سے کولکاتا میں ملاقات کی تھی۔ سنگما کے مطابق’’پرشانت اچھے دوست ہیں جو کافی کچھ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘ سنگما نے  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ بغاوت کے بیج کب بوئے گئے۔
میگھالیہ کانگریس کی صدارت بغاوت کی وجہ بنی
  سنگما کے مطابق یہ سلسلہ پارٹی کی مرکزی قیادت کے ذریعہ وِنسیٹ پالا کو میگھالیہ کانگریس کا صدر منتخب کئے جانے کے بعد شروع ہوا۔  ان کے مطابق’’جمہوریت میںتوازن اہم ہے۔ ہمیں بااثر اپوزیشن کی ضرورت تھی۔‘‘ انہوں  نے مزید کہا کہ ’’ہم نے یہ معاملہ دہلی میں پارٹی   قیادت کے سامنے اٹھایاتھا،اس کیلئے ہم نے دہلی کے کئی سفر کئے مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔ مضبوط  اپوزیشن  کے متبادلات کی تلاش میں میری ملاقات اپنے اچھے دوست پرشانت کشور سے ہوئی  جنہیں ہم سب جانتے ہیں، جو بہت کچھ بدل سکتے ہیں۔  مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ  جب ہماری گفتگو ہوئی تو ہمارے مقاصد ایک تھے۔ سب سے مقدم عوام کا مفاد ہے۔‘‘
ترنمول کانگریس کا متبادل بن کر ابھررہی ہے؟
 واضح رہے کہ ترنمول کانگریس تیزی سے خود کو وسعت دے رہی ہے۔ ماہرین کےمطابق وہ قومی سطح پر کانگریس کا متبادل بننے کی خواہش مند ہے اوراس کیلئے  یکے بعد دیگرے متعدد کانگریس لیڈروں کواپنی پارٹی میں شامل کر چکی ہے۔ آئندہ لوک سبھا الیکشن سے قبل ترنمول کانگریس نے ایک ساتھ ۳؍ریاستوں میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کی۔ اس کوشش کے تحت اس نے جنتادل متحدہ کے سابق جنرل سیکریٹری اور بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کےسابق مشیر پون ورما، ہریانہ میں کانگریس کے سابق صدر اشوک تنور اور کانگریس کے سابق رکن پارلیمان  اور کرکٹر کیرتی آزاد کو پارٹی میں شامل کیا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK