Inquilab Logo Happiest Places to Work

جبراً بنگلہ دیش بھیجے گئے محبوب شیخ کا نام ایس آئی آر ووٹر لسٹ میں شامل

Updated: March 07, 2026, 12:07 PM IST | Kolkata

مرشد آبادکے محبوب شیخ کو ’بنگلہ دیشی‘قرار دے کرتقریباً ۹؍ماہ قبل ممبئی سے گرفتار کیا گیا تھا اور شہریت وشناخت کے ثبوتوں کےباوجود انہیں ہراساں کیا گیا اور ہند بنگلہ دیش بارڈر پر چھوڑ دیا گیا تھا۔

Mehboob Sheikh
محبوب شیخ

۳۹؍سالہ محبوب شیخ کو بنگلہ دیشی قرار دے کر جون ۲۰۲۵ء میں زبردستی ملک سے نکال دیا گیا تھا۔  تب شہریت و شناختی دستاویز دکھائے جانے کے باوجود ان کی ایک نہ سنی گئی اور حکومتی ایجنسی نے انہیں ہندوستان کی مشرقی سرحد پار زبردستی بھجوا دیا تھا۔ اب الیکشن کمیشن نے سخت جانچ پڑتال کے بعد ان کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔محبوب شیخ پیشے سے مستری ہیں اور کئی برسوں سے ممبئی کےتھانے میں کام کرتے ہیں، ان کا نام فہرست میں شامل کرنے سے پہلے انہیں سماعت کیلئے طلب کیا گیا تھا۔
 اسکرول کی رپورٹ کے مطابق محبوب شیخ کو مہاراشٹر میں پولیس نے محض اس شبہ میں حراست میں لیا کہ وہ بنگلہ دیشی ہیں۔ محبوب نے بتایا بھی کہ وہ مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اسکے باوجود، حراست کے چند ہی دنوں میں بارڈر سیکوریٹی فورس نے مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر انہیں بنگلہ دیش بھیج دیا۔ بعد میں انہیں واپس ہندوستان لایا گیا کیونکہ حکام نے ملک بدری کے حوالے سے وزارتِ داخلہ کی طے شدہ کارروائی پر عمل نہیں کیا تھا۔ اس بات کو ۹؍ ماہ سے زیادہ کا وقت گزرچکا ہےاور اب کہیں جاکر محبوب کیلئے راحت بخش خبر آئی ہے۔کیونکہ ہفتہ کے روز شائع ہونے والی ووٹر لسٹ میں ان کا نام شامل ہے۔ یہ فہرست چار ماہ طویل ریاست گیر خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر)کے بعد جاری کی گئی، جس کا مقصد دیگر امور کے ساتھ ساتھ غیر دستاویزی مہاجرین کو فہرست سے خارج کرنا تھا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ بنگلہ دیشی قرار دئیے جانے کے بعد ووٹر لسٹ میں اپنا نام دیکھ کر انہیں کیسا محسوس ہوا، تو انہوں نے فون پر اسکرول کو بتایا’’ میں بھارتی شہری ہوں، بنگلہ دیشی نہیں۔ میرے والد اور دادا یہیں پیدا ہوئے تھے۔ میں نے زندگی میں کبھی بنگلہ دیش نہیں دیکھا، نہ ہی وہاں کسی کو جانتا ہوں۔‘‘ محبوب کے مطابق ’’ووٹر لسٹ میں میرا نام شامل ہونا اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ میں اسی ملک کا باشندہ ہوں۔‘‘
 شیخ کا نام مرشدآباد ضلع کے بھگابان گولا اسمبلی حلقے کی ووٹر لسٹ میں درج ہے۔ ان کا گاؤں بلیا حسن نگر بنگلہ دیش کی سرحد سے تقریباً۲۵؍ کلومیٹر دور واقع ہے۔اگست میں جب ’اسکرول‘ نے گاؤں کا دورہ کیا تھا تو وہاں کے باشندوں نے ایس آئی آر کے حوالے سے تشویش ظاہر کی تھی۔ اس وقت الیکشن کمیشن بہار میں یہ عمل انجام دے رہا تھا اور مغربی بنگال کے بارے میں اپنے منصوبے ظاہر نہیں کیے تھے۔ گاؤں کے کئی لوگوں نے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ کی نقول ڈاؤن لوڈ کی تھیں۔ کچھ لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ شاید مودی حکومت آسام کے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کی طرز پر شہریت کا امتحان لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ خدشات بے بنیاد نہیں تھے۔ بہار میں ایس آئی آر کا اعلان کرتے وقت الیکشن کمیشن نے ایک وجہ یہ بھی بتائی تھی کہ موجودہ انتخابی فہرستوں میں ’’کسی بھی غیر ملکی کی غلط شمولیت‘‘ کو روکا جائے۔ دوسری طرف بی جے پی  کے سرکردہ لیڈرکئی ماہ سے یہ الزام لگا رہے تھے کہ مغربی بنگال کی ووٹر لسٹوں میں ایک کروڑ سے زائد’’بنگلہ دیشی اور روہنگیا‘‘شامل ہیں۔
 محبوب شیخ نے ایس آئی آر کی سیاست پر کہا کہ ’’ بی جے پی مغربی بنگال کو ہر حال میں جیتنا چاہتی ہے، جس طرح  انہوں نے بہار میں بہت سے ووٹروں کے نام حذف کر کے کامیابی حاصل کی۔اسی طرح وہ یہاں بھی کررہے ہیں۔‘‘محبوب  نے بتایا کہ اپنا نام ووٹر لسٹ میں شامل کروانا آسان نہیں تھا۔ وہ ان لاکھوں ووٹروں میں شامل تھے جنہیں گزشتہ تین ماہ کے دوران دستاویزات میں مبینہ منطقی تضادات کی وجہ سے سماعت کیلئ  طلب کیا گیا۔ ان تضادات میں املا کی غلطیاں یا والدین اور ووٹر کی عمر میں غیر معمولی فرق شامل تھے۔ محبوب نے اس حوالے سے بتایا کہ ’’صرف میں ہی نہیں، بلکہ ہمارے گاؤں کے سینکڑوں لوگ، حتیٰ کہ ہمارے پردھان بھی کیمپ میں بلائے گئے ۔ اگرچہ وہ ایس آئی آر کے مرحلے سے گزر گئے، لیکن انہوں نے نشاندہی کی کہ مغربی بنگال میں بہت سے لوگوں کا عمل اب بھی مکمل نہیں ہوا۔‘‘ گاؤں کی ووٹر لسٹ کے مطابق سینکڑوں افراد کو’زیرِ سماعت‘قرار دیا گیا ہے۔ ریاست کے۶۰؍ لاکھ سے زائد ووٹروں کا معاملہ اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان میں شیخ کے والد حسین شیخ، ان کی ساس اور سالے بھی شامل ہیں۔ محبوب شیخ نے کہاکہ ’’بہت سے مہاجر مزدوروں کو زیرِ سماعت رکھ دیا گیا ہے، حالانکہ ان کے والدین کے نام۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں موجود تھے۔ وہ سب ہندوستانی شہری ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK