الفابیٹ نے سہ ماہی آمدنی کے حوالے سے وال اسٹریٹ کے اندازوں کو پیچھے چھوڑ دیا، کیونکہ مصنوعی ذہانت پر کارپوریٹ اخراجات نے اس کے کلاؤڈ یونٹ کے لیے اب تک کی بہترین ترقی فراہم کی-
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 4:04 PM IST | New York
الفابیٹ نے سہ ماہی آمدنی کے حوالے سے وال اسٹریٹ کے اندازوں کو پیچھے چھوڑ دیا، کیونکہ مصنوعی ذہانت پر کارپوریٹ اخراجات نے اس کے کلاؤڈ یونٹ کے لیے اب تک کی بہترین ترقی فراہم کی-
الفابیٹ جمعرات کو ۴۲۰؍ ارب ڈالر سے زائد مارکیٹ کیپ میں اضافے کے بعد دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی بننے کی راہ پر ہے۔ گوگل اور یوٹیوب کی مالک کمپنی کے حصص میں تقریباً ۱۰؍ فیصد اضافہ ہوا جب اس نے تازہ سہ ماہی کے منافع کی رپورٹ جاری کی جو تجزیہ کاروں کی توقعات سے تقریباً دُگنا تھا۔ اس ریکارڈ اضافہ کے بعد الفابیٹ اب دنیا کی سب سے قیمتی عوامی کمپنی بننے کے لیے اینویڈیا سے صرف ۶؍فیصد پیچھے ہے۔
یہ ٹیکنالوجی کمپنی ۲۰۲۶ء کے آغاز میں توقعات سے زیادہ منافع ظاہر کرنے والی تازہ ترین کمپنی ہے حالانکہ تیل کی قیمتیں بلند ہیں اور معیشت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ سی ای او سندر پچائی نے جمعرات کو کہا کہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری ’’کاروبار کے ہر حصے کو روشن کر رہی ہے۔‘‘
جمعرات کو الفابیٹ کے حصص میں زبردست اضافہ ہوا اور اطلاعات کے مطابق گوگل کے لیے ۲۰۰۴ء کے بعد وال اسٹریٹ پر بہترین مہینہ ثابت ہوا جبکہ میٹا کے حصص تقریباً ۹؍فیصد گر گئے۔ اپریل میں کمپنی کے حصص میں ۳۴؍ فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ کمپنی نے اس سال کے لیے اپنے کیپٹل اخراجات کے اندازے کو بھی بڑھا کر ۱۸۰؍ سے ۱۹۰؍ ارب ڈالر کر دیا، جو پہلے ۱۷۵؍ سے۱۸۵؍ ارب ڈالر تھا۔
یہ بھی پڑھئے:’’ہم طویل جنگ کیلئے تیار تھے‘‘، آپریشن سیندور پر راجناتھ سنگھ کا انکشاف
الفابیٹ کی آمدنی توقعات سے زیادہ
بدھ کے روز الفابیٹ نے سہ ماہی آمدنی کے حوالے سے وال اسٹریٹ کے اندازوں کو پیچھے چھوڑ دیا، کیونکہ مصنوعی ذہانت پر کارپوریٹ اخراجات نے اس کے کلاؤڈ یونٹ کے لیے اب تک کی بہترین ترقی فراہم کی۔ آفٹر آورز ٹریڈنگ میں کمپنی کے حصص میں ۶؍فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق، جسے رائٹرز نے نقل کیا، گوگل کی پیرنٹ کمپنی کی کل آمدنی پہلی سہ ماہی میں ۲۲؍ فیصد بڑھ کر۹ء۱۰۹؍ ارب ڈالر ہو گئی، جو ۲ء۰۱۷؍ ارب ڈالرس کے اندازے سے زیادہ ہے۔ مارچ پر ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی میں گوگل کلاؤڈ کی آمدنی ۶۳؍ فیصد بڑھ کر۲۰؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو تجزیہ کاروں کے ۱ء۵۰؍ فیصد اضافے کے اوسط اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ شرح نمو ۲۰۲۰ء کے بعد سب سے زیادہ ہے، جب کمپنی نے اس شعبے کی آمدنی الگ سے ظاہر کرنا شروع کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:دلجیت دوسانجھ کی جمی فالن شو میں واپسی، میزبان کو بھانگڑا سکھایا
سی ای او سندر پچائی نے تجزیہ کاروں کے ساتھ ایک کانفرنس کال میں کہاکہ ’’ہماری انٹرپرائز اے آئی شالیوشنز پہلی بار ہمارے کلاؤڈ کے لیے بنیادی ترقی کا ذریعہ بن گئی ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ان مصنوعات کی فروخت پچھلے سال کے مقابلے میں آٹھ گنا بڑھ گئی ہے۔