Inquilab Logo Happiest Places to Work

میٹا بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کے خلاف کارروائی تیز کرے گا

Updated: August 18, 2026, 7:00 PM IST | New Delhi

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے ہندوستان میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد ( CSAM ) کے پھیلاؤ اور اسے دوبارہ اپ لوڈ کیے جانے کے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ پیش رفت مرکزی حکومت اور میٹا کے درمیان جاری بات چیت کے دوران سامنے آئی ہے۔

Meta.Photo:INN
میٹا۔ تصویر:آئی این این

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی  میٹا  نے ہندوستان میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد ( CSAM ) کے پھیلاؤ اور اسے دوبارہ اپ لوڈ کیے جانے کے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ پیش رفت مرکزی حکومت اور میٹا کے درمیان جاری بات چیت کے دوران سامنے آئی ہے۔ مذاکرات میں غیر قانونی مواد سے نمٹنے اور ڈجیٹل پلیٹ فارمز کی قانونی ذمہ داریوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزارتِ الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY)  اور میٹا کے درمیان ہونے والی بات چیت میں خاص طور پر ایسے غیر قانونی مواد پر توجہ دی گئی جو ایک مرتبہ پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے باوجود کسی دوسرے اکاؤنٹ، شکل یا ذریعے سے دوبارہ شیئر کر دیا جاتا ہے۔حکومت کا موقف ہے کہ صرف غیر قانونی مواد کو حذف کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اسے  دوبارہ اپ لوڈ اور دوبارہ پھیلنے سے روکنا  بھی ضروری ہے۔
میٹا نے ایسے مواد کی شناخت، اسے ہٹانے اور دوبارہ اپ لوڈ کیے جانے سے روکنے کے لیے اپنے تکنیکی نظام کو مزید مضبوط کرنا شروع کر دیا ہے۔کمپنی کے لیے یہ معاملہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد ہندوستانی قوانین کے تحت ایک  سنگین جرم  ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کمپنی ایسے مواد پر بھی توجہ دے رہی ہے جو پہلے شناخت کرکے حذف کیا جا چکا ہو لیکن بعد میں معمولی تبدیلی، نئی شکل یا کسی دوسرے طریقے سے دوبارہ پلیٹ فارم پر ظاہر ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے جدید  مواد کی شناخت اور نگرانی کے نظام  استعمال کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:نکھل اڈوانی کی تاریخی ڈرامہ سیریز ’’دی ریوولوشنریز‘‘ ۱۱؍ ستمبر کوریلیز ہوگی

 ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت نے میٹا سمیت دیگر ڈجیٹل پلیٹ فارمز کو واضح کیا ہے کہ اگر وہ ہندوستان میں نافذ قوانین اور ضوابط کی پابندی نہیں کرتے تو انہیں  ’Safe Harbour‘  کے تحت حاصل قانونی تحفظ برقرار رہنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ سیف ہاربر عام طور پر ڈجیٹل پلیٹ فارمز کو صارفین کی جانب سے پوسٹ کیے گئے مواد کے حوالے سے مخصوص حالات میں محدود قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ حکومت کا مقصد سوشل میڈیا پر عمومی سینسرشپ نافذ کرنا نہیں ہے۔ اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز بھارتی قوانین کے مطابق اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کریں۔
 حکومت اور ٹیک کمپنیوں کے درمیان بات چیت میں صرف غیر قانونی مواد ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا کی  لت، استحصالی مواد کے پھیلاؤ اور صارفین کی حفاظت  جیسے معاملات بھی اہم تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ حکومت کے ذرائع کے مطابق، مواد کی نگرانی اور کنٹرول سے متعلق پالیسیاں بناتے وقت ہندوستان کے  سماجی اور ثقافتی حالات  کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں ہندوستان میں اپنی پالیسیوں اور حفاظتی نظام کو مقامی قوانین اور حالات کے مطابق مؤثر انداز میں نافذ کریں۔
 ذرائع کے مطابق وزارت اپنے قانونی اختیارات کا  محدود اور ضروری استعمال  کر رہی ہے۔ بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ڈجیٹل پلیٹ فارمز اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کریں۔حکومت کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی پلیٹ فارم کو قانونی تحفظ حاصل رہے گا یا نہیں، اس کا حتمی فیصلہ متعلقہ حالات اور قانونی تقاضوں کی بنیاد پر  عدالتیں  کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:رشبھ پنت ٹیسٹ کرکٹ میں ۱۰۰؍ چھکے لگانے والے پہلے ہندوستانی کرکٹر بن گئے

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں حکومتیں اور ریگولیٹری ادارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کے تحفظ، غیر قانونی مواد کی روک تھام اور مقامی قوانین کی پابندی کے حوالے سے نگرانی بڑھا رہے ہیں۔ہندوستان بھی اس معاملے میں ڈجیٹل کمپنیوں کی جواب دہی کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے، خاص طور پر ایسے مواد کے خلاف جو بچوں اور کم عمر افراد کے استحصال سے متعلق ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK