Updated: June 01, 2026, 7:06 PM IST
| Mexico City
میکسیکو کی صدر Claudia Sheinbaum نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کی حکومت کو نشانہ بنا کر میکسیکو کے داخلی معاملات اور آئندہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپنے دورِ حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کے خلاف سوشل میڈیا اور میڈیا پلیٹ فارمز پر منظم مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے امریکی دباؤ، سی آئی اے ایجنٹوں کی موجودگی اور حوالگی کے مطالبات کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی مثال قرار دیا۔
کلاڈیا شین بام۔ تصویر: آئی این این
میکسیکو اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے درمیان میکسیکو کی صدر Claudia Sheinbaum نے امریکہ پر اپنے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوششوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کے لیے ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے۔ اپنے دورِ حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر پیش کی گئی سالانہ احتسابی رپورٹ کے موقع پر ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر شین بام نے اپنی انتظامیہ کی کامیابیوں کا ذکر کیا اور ساتھ ہی اس چیز کی مذمت کی جسے انہوں نے ’’میڈیا جارحیت اور کروڑوں ڈالر کی سوشل میڈیا مہم‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ مہم نہ صرف ان کی حکومت بلکہ میکسیکو کے جمہوری عمل کو بھی متاثر کرنے کی کوشش ہے۔
صدر شین بام نے خاص طور پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن مسلسل میکسیکو پر سیکوریٹی اور سرحدی معاملات میں اپنے مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہو رہا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کئی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ آیا امریکہ واقعی منظم جرائم کے خلاف سنجیدہ کارروائی چاہتا ہے یا پھر بعض امریکی سیاسی حلقے ۲۰۲۶ء کے انتخابات سے قبل اپنے داخلی سیاسی مقاصد کے لیے میکسیکو کو استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا بیرونی قوتیں ۲۰۲۷ء میں میکسیکو میں ہونے والے انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ صدر نے کہا کہ ’’یہ سوالات محض غور و فکر کے لیے ہیں، لیکن ایک بات واضح ہے کہ میکسیکو کسی کا پیناٹا نہیں ہے‘‘، جس پر اجتماع میں موجود شرکاء نے بھرپور ردعمل ظاہر کیا۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین میں کیچپ اور مایونیز کے سنگل یوز ساشے پر پابندی، ۱۲؍ اگست سے نفاذ
شین بام نے الزام لگایا کہ ملکی اور غیر ملکی قدامت پسند گروپ عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، الگورتھمز، بوٹس اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ان کی حکومت کے خلاف منفی مہم چلا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس مہم کا مقصد عوامی رائے کو متاثر کرنا اور ان کی انتظامیہ کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ۱۹؍ اپریل کے بعد ان حملوں میں نمایاں شدت دیکھی گئی، جب شمالی میکسیکو کی ریاست Chihuahua میں ایک کار حادثے میں ہلاک ہونے والے امریکی اہلکاروں کے بارے میں یہ انکشاف ہوا کہ وہ مبینہ طور پر سی آئی اے سے وابستہ تھے۔
اس واقعے نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا تنازع پیدا کر دیا۔ میکسیکو کا مؤقف ہے کہ اگر امریکی ایجنٹ واقعی ملک میں سیکوریٹی سے متعلق سرگرمیوں میں مصروف تھے تو انہیں وفاقی حکومت کی اجازت حاصل ہونی چاہیے تھی، بصورت دیگر یہ میکسیکو کی خودمختاری اور آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اسی تناظر میں میکسیکو نے امریکی ایجنٹوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تحقیقات کے سلسلے میں ریاست چیہواہوا کی گورنر مارو کیمپوس سمیت متعدد حکام کو وضاحت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ صدر کے مطابق تحقیقات کے اعلان کے فوراً بعد امریکہ نے میکسیکو کے ۱۰؍ شہریوں کی حوالگی کی درخواستیں پیش کیں جن میں بعض اعلیٰ سرکاری افسران اور حکمراں جماعت موریناسے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل ہیں۔ ان میں ریاست سینالووا کے گورنر Rubén Rocha Moya کا نام بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بارک اوبامہ سے منسلک انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک، میٹا نے دوبارہ محفوظ کیا
اگرچہ مطلوب افراد میں سے دو امریکی حکام کے سامنے پیش ہو چکے ہیں، تاہم صدر شین بام نے روبن روچا مویا کی بے گناہی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بغیر ٹھوس شواہد کے کسی منتخب عہدیدار کے خلاف الزامات عائد کرنا اور حوالگی کا مطالبہ کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے واشنگٹن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ الزامات کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور دونوں ممالک کو باہمی احترام اور قانونی اصولوں کی بنیاد پر معاملات حل کرنے چاہئیں۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب میکسیکو کی حکومت اور مورینا پارٹی کی اکثریت والی کانگریس آئینی اصلاحات پر کام کر رہی ہے، جن کا مقصد انتخابی عمل میں بیرونی مداخلت کو روکنا اور قومی خودمختاری کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق میکسیکو اور امریکہ کے درمیان سیکوریٹی تعاون، منشیات کی اسمگلنگ، سرحدی نگرانی اور سیاسی خودمختاری جیسے معاملات آنے والے مہینوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم محور رہیں گے۔ صدر شین بام کے تازہ بیانات نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے کہ لاطینی امریکہ میں امریکی اثر و رسوخ اور قومی خودمختاری کے درمیان توازن کس حد تک برقرار رکھا جا سکتا ہے۔