Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپی یونین میں کیچپ اور مایونیز کے سنگل یوز ساشے پر پابندی، ۱۲؍ اگست سے نفاذ

Updated: June 01, 2026, 5:01 PM IST | İstanbul

یورپی یونین نے پلاسٹک کے فضلے میں کمی اور ماحول کے تحفظ کیلئے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ریستورانوں میں مسالہ جات کے سنگل یوز ساشوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ نیا قانون۱۲؍ اگست سے نافذ ہوگا اور اس کا مقصد پیکیجنگ کے بڑھتے ہوئے فضلے کو کم کرنا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

یورپی یونین (EU) میں ۱۲؍اگست سے ریستورانوں میں بیٹھ کر کھانا کھانے والے صارفین کیلئے کیچپ، مایونیز، سویا ساس اور دیگر مسالہ جات کے ایک بار استعمال ہونے والے چھوٹے ساشے (پیکٹ) فراہم کرنا ممنوع ہوگا۔ یہ اقدام پلاسٹک آلودگی کم کرنے اور پیکیجنگ کے فضلے میں کمی لانے کیلئےمتعارف کرایا جا رہا ہے۔ یہ پابندی یورپی یونین کے پیکیجنگ اینڈ پیکیجنگ ویسٹ ریگولیشن (PPWR) کا حصہ ہے، جو فروری ۲۰۲۵ءمیں نافذ ہوا تھا اور اب رکن ممالک میں مرحلہ وار لاگو کیا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے : بارک اوبامہ سے منسلک انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک، میٹا نے دوبارہ محفوظ کیا

نئے ضوابط کے تحت ریستورانوں کو صارفین کیلئے استعمال کے قابل متبادل انتظامات، جیسے دوبارہ بھرے جانے والے ڈسپنسر، قابلِ استعمال برتن یا میز پر رکھی جانے والی بوتلیں فراہم کرنا ہوں گی۔ یورپی کمیشن کے مطابق ان اقدامات کا مقصد پیکیجنگ کے فضلے میں کمی لانا اور معیشت کو زیادہ پائیدار اور ماحول دوست بنانا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں پیکیجنگ تقریباً ۴۰؍فیصد پلاسٹک کے استعمال کا سبب بنتی ہے، جبکہ۲۰۲۲ء میں ہر یورپی شہری نے اوسطاً۱۸۶ء۵؍کلوگرام پیکیجنگ فضلہ پیدا کیا۔ یونین کا ہدف۲۰۲۶ء سے۲۰۴۰ء کے درمیان فی کس پیکیجنگ فضلے میں ۱۵؍ فیصد کمی لانا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے : فرانس: پی ایس جی کی فتح کا جشن تشدد میں تبدیل، کئی شہروں میں پولیس کی کارروائی

یہ پابندی خاص طور پر انفرادی مقدار میں فراہم کئے جانے والے ساس اور مسالہ جات کے پلاسٹک پیکٹوں پر لاگو ہوگی، جو عام طور پر ریستورانوں اور فاسٹ فوڈ مراکز میں استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم، یہ قانون ٹیک اوے (پارسل) کھانوں یا سپر مارکیٹوں میں فروخت ہونے والی مصنوعات پر لاگو نہیں ہوگا۔ اس لئے پارسل آرڈرز اور خوردہ فروخت کیلئے ایسے ساشے دستیاب رہیں گے۔ اسی طرح صحت کی سہولیات اور طبی اداروں کو بھی اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے ریستورانوں کو اگست میں قانون کے نفاذ سے قبل اپنی خدمات کے طریقہ کار میں ضروری تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس مقصد کیلئے عملی متبادل پہلے ہی وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں اور کاروباری اداروں کی رہنمائی کیلئےہدایات بھی جاری کی جا چکی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے : غزہ: اسرائیل نے عید الاضحیٰ کے دنوں میں ۲۶؍ فلسطینی شہید کئے: اقوام متحدہ

مسالہ جات کے ساشوں پر پابندی یورپی یونین کی وسیع تر ماحولیاتی مہم کا حصہ ہے۔ ۲۰۳۰ء سے ہوٹلوں میں استعمال ہونے والی شیمپو اور صابن کی چھوٹی ایک بار استعمال ہونے والی بوتلوں سمیت دیگر سنگل یوز پیکیجنگ مصنوعات کو بھی مرحلہ وار ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ یورپی کمیشن۲۰۳۲ء میں ان اقدامات کی مؤثریت کا جائزہ لے گا۔ یورپی حکام کے مطابق پلاسٹک کے فضلے میں کمی کیلئے پہلے کئے گئے اقدامات کے نتیجے میں یورپی ساحلوں پر پلاسٹک کے کچرے میں تقریباً ۳۰؍فیصد کمی آ چکی ہے۔ 
 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK