امیگریشن پالیسیوں کے سبب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی عوامی حمایت میں ریکارڈ کم واقع ہوئی ہے، اب یہ محض ۳۸؍ فیصد رہ گئی ہے،جو وہائٹ ہائوس میں ان کی واپسی کے بعد سب سے کم ہے۔
EPAPER
Updated: February 18, 2026, 9:06 PM IST | Washington
امیگریشن پالیسیوں کے سبب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی عوامی حمایت میں ریکارڈ کم واقع ہوئی ہے، اب یہ محض ۳۸؍ فیصد رہ گئی ہے،جو وہائٹ ہائوس میں ان کی واپسی کے بعد سب سے کم ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں پر عوامیحمایت فیصد تک گر گئی ہے جو وہائٹ ہاؤس میں ان کی واپسی کے بعد سب سے کم سطح ہے۔رائٹرزاور ایپسوس کے تازہ ترین سروے کے مطابق، ڈونالڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں پر امریکی عوام کی منظوری وائٹ ہاؤس میں ان کی واپسی کے بعد اب تک کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، اس بات کے آثار ہیں کہ اس اہم پالیسی معاملے پر امریکی مردوں میں ان کی حمایت کم ہو رہی ہے۔پیر کو مکمل ہونے والے سروے میں صرف۳۸؍ فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ ٹرمپ امیگریشن کے معاملے پر اچھا کام کر رہے ہیں، جو انتظامیہ کے لیے ترجیحی مسئلہ ہے۔ جبکہ۶۲؍ فیصد نے اس کے برعکس کہا۔
واضح رہے کہ یہ شرح جنوری کے رائٹرز اور ایپسوس سروے میں۳۹؍ فیصد اور ٹرمپ کے اقتدار میں واپس آنے کے فوراً بعد کے مہینوں میں۵۰؍ فیصد تک تھی۔بعد ازاں ٹرمپ نے ۲۰۲۴ء میں دوبارہ انتخاب سے پہلے کئی دہائیوں میں سب سے بڑی ملک بدری مہم چلانے کے وعدے پر انتخابی مہم چلائی تھی اور جنوری۲۰۲۵ء میں عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد وسیع پیمانے پر تارکین وطن کے خلاف چھاپوں کا حکم دیا تھا۔جس کے سبب نقاب پوش امیگریشن مخالف ایجنٹ اب عام نظر آتے ہیں، اس کے علاوہ ان ایجنٹوں اور امریکی مظاہرین کےمابین متعدد پرتشدد جھڑپیں ہو چکی ہے۔
دریں اثناء تازہ ترین روئٹرز اور ایپسوس سروے سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال کے آخر کے مقابلے میں حالیہ ہفتوں میں مردوں میں امیگریشن سے نمٹنے پر ٹرمپ کی حمایت میں نمایاں کمی آئی ہے۔حالانکہ مرد ووٹروں نے۲۰۲۴ء میں ٹرمپ کی انتخابی فتح میں غیر معمولی کردار ادا کیا تھا، اور۲۰۲۵ء کے دوران مردوں میں امیگریشن کے بارے میں منظوری کی شرح۵۰ فیصد کے قریب تھی۔ جبکہ تازہ ترین سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ۴۱ فیصد مرد اس معاملے پرٹرمپ کی حمایت کرتے ہیں۔تاہم خواتین میں، امیگریشن پر ٹرمپ کی حمایت ۲۰۲۵ءکے بیشتر حصے میں۴۰؍ فیصد سے کم ہو کر تازہ ترین سروے میں۳۵؍ فیصد رہ گئی ہے۔ یہ ٹرمپ کے لیے ایک غیر معمولی پسپائی ہے، جس کے نتیجے میں ان کی انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے کہا کہ اس نے مینیسوٹا میں زبردست عوامی مظاہروں کے بعد ملک بدری میں اضافے کو ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے، یہ وہی علاقہ ہے جہاں امیگریشن ایجنٹوں نے دو امریکی شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
ذہن نشین رہے کہ ٹرمپ نے اپنے عہدئے صدارت کا آغاز مجموعی طور پر۴۷؍ فیصد حمایت کے ساتھ کیا تھا لیکن حالیہ ہفتوں میں ان کی درجہ بندی۳۸؍ فیصد کی نچلی ترین سطح پر آگئی ہے۔ملک بھر میں آن لائن کیے گئے تازہ ترین سروے میں۱۱۱۷؍ امریکی بالغوں کے جوابات اکٹھے کیے گئے اور اس میں عشاریہ ۳؍ فیصد کا ممکنہ فرق تھا۔