• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں کارپوریٹروں کی مخالفت، دیونار مذبح کی فیس میں اضافہ کا معاملہ ٹل گیا

Updated: September 24, 2026, 3:58 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

بدھ کو بی ایم سی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں دیونار سلاٹرہاؤس میں تمام خدمات کی فیس میں اضافہ کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن برسراقتدار اور اپوزیشن پارٹیوں کے کارپوریٹروں کی مخالفت اور تمام نکات پر غور و خوض کے بعد ہی فیس بڑھانے کا فیصلہ کرنے کے مطالبہ پر کمیٹی کے چیئر مین نے اس معاملے کی تمام تفصیلات کمیٹی کے سامنے پیش کئے جانے تک اس معاملے کو التواء میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کانگریس کی اس درخواست کو بھی قبول کرلیا کہ حالات کو سمجھنے کے لئے پہلے دیونار مذبح کا دورہ کیا جائے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بدھ کو بی ایم سی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں دیونار سلاٹرہاؤس میں تمام خدمات کی فیس میں اضافہ کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن برسراقتدار اور اپوزیشن پارٹیوں کے کارپوریٹروں کی مخالفت اور تمام نکات پر غور و خوض کے بعد ہی فیس بڑھانے کا فیصلہ کرنے کے مطالبہ پر کمیٹی کے چیئر مین نے اس معاملے کی تمام تفصیلات کمیٹی کے سامنے پیش کئے جانے تک اس معاملے کو التواء میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کانگریس کی اس درخواست کو بھی قبول کرلیا کہ حالات کو سمجھنے کے لئے پہلے دیونار مذبح کا دورہ کیا جائے۔ فیس میں اضافہ کی مخالفت کرتے ہوئے کانگریس کارپوریٹر اشرف اعظمی نے کہا کہ فی الوقت گوشت اتنا مہنگا ہوگیا ہے کہ غریبوں کیلئے اسے خریدنا انتہائی دشوار ہوگیا ہے۔ خدمات کی فیس میں اضافے سے گوشت مزید مہنگا ہوجائے گا اور جو غریب افراد کبھی کبھی پیسے بچا کر گوشت خرید لیتے ہیں،  ان کیلئے ایسا کرنا بھی ممکن نہیں رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اچھا اور تازہ گوشت فراہم کرنا بی ایم سی کا بنیادی فرض ہے اس لئے شہری انتظامیہ نفع اور نقصان کی فکر نہ کرے۔ ان کے مطابق یہ تنہا ذریعہ ہے جہاں سے گوشت برآمد کرنے پر بی ایم سی کو بیرون ملک کی کرنسی میں آمدنی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:گیانیش کمار کوفوراً عہدہ سے ہٹانے اور انتخابات دوبارہ بیلٹ پیپر سے کروانے کا مطالبہ

این سی پی (اجیت پوار) کی کارپوریٹر ڈاکٹر سعیدہ خان نے کہا کہ بی ایم سی پہلے تجزیہ کرے کہ قیمتوں میں اضافہ سے اسے کتنا منافع ہوگا لیکن یہی اضافہ عوام پر کتنا بوجھ ڈالے گا۔ مزید یہ کہ کسان، مزدور، چارے والے جیسے چھوٹے تاجروں کو اس میں رعایت دینے کی کتنی گنجائش نکل سکتی ہے ،اس پر بھی غور کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیاکہ غیرقانونی گوشت کی دکان والے اپنی مرضی سے کاروبار کرتے ہیں اور شہری انتظامیہ کے تمام قوانین لائسنس والے تاجروں پر عائد ہوتے ہیں تو غیرقانونی تاجروں کی من مانی کے تعلق سے بھی اقدامات کئے جائیں۔ کارپوریٹروں کی بحث سننے کے بعد کمیٹی کے چیئرمین پربھاکر شندے نے بی ایم سی افسران کو ہدایت دی کہ وہ دیونار مذبح کی مکمل تفصیلات کمیٹی کے سامنے پیش کریں اور وہاں کا دورہ کرنے کے بعد فیس میں اضافہ کے تعلق سے فیصلہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK