اتر پردیش حکومت نے ایودھیا رام مندر عطیہ تنازع کی تحقیقات کے لیے تین رکنی ایس آئی ٹی تشکیل دی، الزام ہے کہ کروڑوں روپے کے عطیات غائب ہو گئے ہیں،جبکہ یہ معاملہ ایک بڑے سیاسی تنازع کی شکل میں تبدیل ہوچکا ہے۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 6:02 PM IST | Ayodhya
اتر پردیش حکومت نے ایودھیا رام مندر عطیہ تنازع کی تحقیقات کے لیے تین رکنی ایس آئی ٹی تشکیل دی، الزام ہے کہ کروڑوں روپے کے عطیات غائب ہو گئے ہیں،جبکہ یہ معاملہ ایک بڑے سیاسی تنازع کی شکل میں تبدیل ہوچکا ہے۔
اتر پردیش حکومت نے ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے سے متعلق الزامات کی جانچ کے لیے تین رکنی ا سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ یہ اقدام شری رام جنم بھومی مندر ٹرسٹ کی درخواست پر کیا گیا ہے، جبکہ یہ الزامات کہ کروڑوں روپے کے عطیات غائب ہو گئے ہیں، ایک بڑے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔تحقیقاتی پینل میں آئی اے ایس افسر وجے وشواس پنت (کمشنر لکھنؤ)، آئی پی ایس افسر کرن ایس (انسپکٹر جنرل آف پولیس)، اور نیل رتن (محکمہ خزانہ میں خصوصی سیکریٹری) شامل ہیں۔جبکہ حکومت نے کمیٹی کو ابتدائی اور حتمی رپورٹ جلد از جلد پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گوشت پھینکنے والی برقع پوش خاتون غیر مسلم نکلی
تاہم حکومت کے مطابق، ٹرسٹ نے سماجی ذرائع ابلاغ پر چڑھاوے کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے، معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست کی تھی۔اس سے قبل سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی مبینہ طور پر بڑی رقم کے غائب ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور معاملے کی آزاد عدالتی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے عدلیہ سے مداخلت اور مندر انتظامیہ سے متعلقہ سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا، ’’پوری دنیا میں بھگوان رام کے عقیدت مندوں کے لیے یہ انتہائی حساس خبر ہے ،رام مندرمیں چڑھاوے کے کروڑوں روپے غائب پائے گئے ہیں۔ یہ ٹرسٹ کے لیے انتہائی شرمناک صورتحال ہے، اور کوئی بھی وضاحت پیش کرنے کو تیار نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پونے: نوجوانوں کی گرفتاریوں کا خدشہ، مقامی باشندوں میں بے چینی
دریں اثناء شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ نے عطیات کے غائب ہونے کے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ٹرسٹ کے سکریٹری چمپت رائے نے دعوؤں کو رد کیا، جبکہ ٹرسٹ کے رکن مہنت دیویندر داس مہاراج نے بھی۸؍ جون کو الزامات کو مسترد کر دیا۔ مزید برآںدیویندر داس نے کہا کہ تمام عطیات اور مالی لین دین مناسب طریقے سے دستاویزی اور شفاف عمل کے ذریعے کئے جاتے ہیں، اس کے ساتھ ہی مندر کے فنڈ کے انتظام میں کسی بے ضابطگی کی تردید کی۔