آج آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کا فائنل،رائل چیلنجرز اور ٹائٹنز کے درمیان دلچسپ اور سنسنی خیزمقابلے کی امید،دونوں ہی ٹیمیں دوسری مرتبہ خطاب اپنے نام کرنے کی کوشش کریںگی۔
EPAPER
Updated: May 31, 2026, 4:04 PM IST | Ahmedabad
آج آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کا فائنل،رائل چیلنجرز اور ٹائٹنز کے درمیان دلچسپ اور سنسنی خیزمقابلے کی امید،دونوں ہی ٹیمیں دوسری مرتبہ خطاب اپنے نام کرنے کی کوشش کریںگی۔
آئی پی ایل ۲۰۲۶ءکا فائنل رائل چیلنجرز بنگلور اور گجرات ٹائٹنز کے درمیان کھیلا جائے گا۔ گجرات اپنے ہی ہوم گراؤنڈ احمد آباد میں اترے گی، جہاں اس کی جیت کا تناسب ۶۳؍ فیصد ہے اور یہ ٹیم کا تیسرا آئی پی ایل فائنل ہے۔ اتفاق سے اس کے تینوں فائنل احمد آباد میں ہی کھیلے گئے ہیں۔ دوسری طرف آر سی بی کی سب سے بڑی طاقت اس کی اجتماعی کارکردگی رہی ہے۔ بنگلور نے کوالیفائر ایک میں گجرات کو بڑے فرق سے ہرایا تھا اور اب گجرات کی ٹیم اس ہار کا بدلہ لیتے ہوئے اپنی دوسری ٹرافی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔
راشد خان بنام آر سی بی کے بلے باز
فائنل میں گجرات کی امیدیں ایک بار پھر راشد خان پر ٹکی ہوں گی کیونکہ بنگلور کے کئی اہم بلے باز ان کیخلاف جدوجہد کرتے نظر آئے ہیں۔ وراٹ کوہلی نے ٹی۔۲۰؍کرکٹ میں راشد کے خلاف ۱۲؍اننگز میں ۱۳۱؍رن بنائے ہیں، لیکن ۳؍ بار اپنی وکٹ بھی گنوائی ہے۔ پڈیکل کا ریکارڈ اس سے بھی کمزور رہا ہے۔ انہوں نے آئی پی ایل میں راشد خان کے سامنے ۹؍اننگز میں صرف ۴۰؍رن بنائے ہیں اور۵؍ بار آؤٹ ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بی سی سی آئی اے ایس سی یو نے اسمارٹ سن گلاسیزکے استعمال پر روک لگائی
بھونیشور بنام بٹلر اور گل
نئی گیند کے ساتھ بنگلور کیلئے بھونیشور کمار سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ٹائٹنز کے دونوں اہم بلے بازوں کے خلاف ان کا ریکارڈ شاندار رہا ہے۔ شبھ من گل نے آئی پی ایل میں بھونیشور کی گیندبازی پر۶؍ بار اپنی وکٹ گنوائی ہے ۔ وہیں جوس بٹلر کا ریکارڈ بھی زیادہ بہتر نہیں ہے۔ٹی۔۲۰؍ کرکٹ میں بٹلر بھونیشور ۹؍ بار شکار ہوئے ہیں۔
سراج اور ربادا کی جوڑی
رائل چیلنجرز بنگلور کے ٹاپ آرڈر کے سامنے فائنل میں محمد سراج اور کگیسو ربادا کی جوڑی بڑا چیلنج پیش کر سکتی ہے۔ ٹی۔ ۲۰؍کرکٹ میں کوہلی نے ربادا کے سامنے۱۷؍اننگز میں ۱۳۱؍ رن بنائے ہیں لیکن ۵؍ بار آؤٹ بھی ہوئے ہیں۔ وہیں پڈیکل کا ریکارڈ سراج کے خلاف بھی بہت مضبوط نہیں ہے۔ آئی پی ایل میں دونوں کے درمیان ہونے والے ٹکراؤ کی۸؍ اننگز میں پڈیکل نے ۴۵؍ رن بنائے ہیں اور ۳؍بار اپنی وکٹ گنوائی ہے۔
فائنل میں جادوئی ریکارڈ والے ہیزل ووڈ
آئی پی ایل پلے آف میں جوش ہیزل ووڈ نے صرف ۷؍ اننگز میں ۱۴؍ وکٹیں حاصل کی ہیں ۔ ۷؍ پلے آف اننگز میں وہ ۵؍بار۲؍ یا اس سے زیادہ وکٹیں لے چکے ہیں۔ سب سے دلچسپ ان کا فائنل کا ریکارڈ ہے۔ ہیزل ووڈ نے اب تک کھیلے گئے تمام پانچوں ٹی۔۲۰؍فائنل اور چاروں ون ڈے فائنل جیتے ہیں، جن میں آئی پی ایل کے ۲؍ فائنل بھی شامل ہیں۔ ایسے میں آر سی بی کو امید ہوگی کہ بڑے میچوں میں جیت دلانے کا ان کا یہ سنہرا سلسلہ احمد آباد میں بھی جاری رہے۔
یہ بھی پڑھئے: سرفراز خان کا اچھی کپتانی اور خطاب جیتنے کا عزم
گل اور سائی سدرشن کی سپر ہٹ جوڑی
گل اور سائی سدرشن نے اس سیزن ۱۵؍ اننگز میں ۸۸۶؍ رن جوڑے ہیںجو آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں کسی بھی جوڑی کی جانب سے سب سے زیادہ ہیں۔ اس دوران ۴؍ سنچری اور ۲؍ نصف سنچری شراکت داریاں بھی دیکھنے کو ملی ہیں۔ اس شراکت داری میں دونوں کا تعاون تقریباً برابر رہا ہے۔گل نے ۴۲۱؍رن بنائے ہیں جبکہ سائی سدرشن نے ۴۰۶؍ اسکور کئے ہیں۔ آر سی بی کے خلاف بھی یہ جوڑی ۳؍ اننگز میں ۱۸۷؍ رن بنا چکی ہے اور احمد آباد میں تو ان کا ریکارڈ اور بھی شاندار ہے، جہاں ۲۳؍اننگز میں انہوں نے ۱۳۸۴؍رن بنائے ہیں۔
سپر سیکریٹ فیکٹر
موجودہ آئی پی ایل میں جب جب گل اور سدرشن کی جوڑی پانچویں اوور کے بعد تک کریز پر موجود رہی ہے، تب تب گجرات نے ۷؍ میں سے۶؍ میچ جیتے ہیں اور صرف ایک میں ہار کا سامنا کیا ہے۔ اس کے برعکس جب یہ شراکت داری پانچویں اوور سے پہلے ٹوٹ گئی، تب ٹیم کا ریکارڈ ۴؍ جیت اور ۴؍ ہار کا رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ ٹائٹنز کیلئے شروعاتی وکٹ کتنا بڑا فیکٹر ہے۔ فائنل میں آر سی بی کی کوشش نئی گیند سے گل یا سائی میں سے کسی ایک کو جلدی آؤٹ کرنے کی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: دو سال بعد شاندار واپسی، یاستیکا بھاٹیا نے اپنی نصف سنچری کو یادگار قرار دے دیا
کوہلی کا ایک اور شاندار سیزن
کوہلی نے آئی پی ایل میں ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ان کی عمر بڑھ سکتی ہے لیکن مستقل مزاجی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ اس سیزن کی ۱۵؍ اننگز میں ۶۰۰؍ رن بنا کر انہوں نے آئی پی ایل میں چھٹی بار ۶۰۰؍ سے زیادہ رنوں کا ہندسہ عبور کیا ہے۔ ساتھ ہی لگاتار چوتھے سیزن میں یہ کامیابی حاصل کرنے والے وہ پہلے بلے باز بن گئے ہیں۔ اس بار ان کی بلے بازی کی سب سے بڑی خصوصیت پاور پلے میں جارحیت رہی ہے۔