Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیتن یاہو کے بدعنوانی کیس کی سماعت عین وقت پر منسوخ، سیکوریٹی وجوہات کا حوالہ

Updated: April 27, 2026, 6:45 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے خلاف جاری بدعنوانی کیس کی سماعت پیر کو گواہی شروع ہونے سے محض ایک گھنٹہ قبل منسوخ کر دی گئی۔ یہ فیصلہ ان کے وکیل امیت حداد کی درخواست پر ’’سیکوریٹی وجوہات‘‘ کی بنیاد پر کیا گیا۔ مقدمہ، جس میں رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات شامل ہیں، ایران کے ساتھ جنگ کے باعث پہلے ہی تاخیر کا شکار رہا ہے۔

Netanyahu. Photo: INN
نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کی اہم سماعت آخری لمحے میں منسوخ کر دی گئی، جس سے عدالتی عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گیا۔ اسرائیلی اخبار يديعوت أحرونوت کے مطابق، منسوخی وزیر اعظم کے وکیل امیت حداد کی درخواست پر کی گئی، جس میں غیر متعین ’’سیکوریٹی وجوہات‘‘ کا حوالہ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کی نسل کشی کے منکر ہولوکاسٹ کے انکار کرنے والوں سے بھی بدتر: اسرائیلی مصنفہ

خیال رہے کہ یہ سماعت ایک طویل وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہونے جا رہی تھی، جو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی حالات کے باعث پیدا ہوا تھا۔ نیتن یاہو کو تین الگ الگ مقدمات میں رشوت ستانی، دھوکہ دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ ان مقدمات میں فرد جرم نومبر ۲۰۱۹ء میں عائد کی گئی تھی۔ ایک کیس میں نیتن یاہو پر الزام ہے کہ انہوں نے مثبت میڈیا کوریج کے بدلے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی بیزیک سے منسلک کاروباری شخصیت شال ایلوچ کو ریگولیٹری فوائد فراہم کیے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ سماعت ملتوی ہوئی ہو۔ اس سے قبل ۲۰؍ اپریل کو بھی ’’سیکوریٹی سفارتی وجوہات‘‘ کی بنیاد پر کارروائی روک دی گئی تھی، جس سے مقدمے کی رفتار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عدالتی کارروائی اس وقت جرح کے مرحلے میں ہے۔ بنجامن نیتن یاہو نے دسمبر ۲۰۲۴ء میں گواہی دینا شروع کی تھی، جبکہ استغاثہ نے جون ۲۰۲۵ء میں طویل دفاعی سیشنز کے بعد جرح کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نومبر ۲۰۲۴ء میں غزہ جنگ کے تناظر میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری کر رکھا ہے، جس نے ان کے قانونی اور سیاسی چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیلی جارحیت اقوام متحدہ کی تعریف کے مطابق نسل کشی: امریکی اسکالر

تجزیہ کاروں کے مطابق، بار بار التوا نہ صرف عدالتی عمل کو متاثر کر رہا ہے بلکہ اسرائیل کی سیاسی فضا پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK