Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایف ڈی اے کے چھاپوں کے سبب دودھ کے داموں میں اضافہ

Updated: August 04, 2026, 7:52 AM IST | Kolhapur

ملاوٹی دودھ کے خلاف کارروائی کے بعد لوگ خالص دودھ فروخت کرنے کیلئے مویشی خرید رہے ہیں، مویشیوں کے دام بھی بڑھ گئے

More cattle are coming to the market than before (File)
منڈی میں پہلے کی بہ نسبت زیادہ مویشی آ رہے ہیں(فائل)

تکارام منڈے کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ( ایف ڈی اے ) کا کمشنر بننے کے بعد سے ریاست بھر میں ملاوٹی دودھ تیار اور فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس میں کئی گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں اور کئی ڈیریوں اور طبیلوں کو سیل کیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں ریاست بھر میں خالص دودھ کی مانگ بڑھ گئی ہے اور دودھ کیلئے گائے اور بھینسوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ نتیجتاً دودھ کے داموں میں اضافہ ہو رہا ہے اور مویشی بھی مہنگے داموں فروخت ہونے لگے ہیں۔ 
 دودھ کا بیوپاریوں میں خوف
  یاد رہے کہ تکارام منڈے کے ایف ڈی اے کا کمشنر بننے کے بعد سے ریاست بھر میں ملاوٹی دودھ  بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف چھاپے مار کارروائی ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ سے ملاوٹی اشیا ء فروخت کرنے والوں میں قانون کا خوف پیدا ہو گیا ہے اور اب وہ خالص دودھ بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ خالص دودھ کیلئے گائے یا بھینس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے گائے اور بھینسوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا براہ راست اثر دودھ دینے والے جانوروں کی قیمتوں پر پڑا ہے اور گزشتہ ایک ماہ میں بھینسوں اور گائے کی قیمتوں میں ۱۵؍ تا ۲۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاجروں نے بتایا کہ مرہہ نسل کی اچھی بھینس کی قیمت پونے ۲؍ لاکھ  روپے تک پہنچ گئی ہے۔
دودھ کے دام بھی بڑھ گئے 
  اطلاع کے مطابق فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے چھاپوں کے سبب ملاوٹی دودھ بیچنے والوں کا نیٹ ورک تباہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں مصنوعی اور ملاوٹی دودھ کی سپلائی کم ہو گئی ہے ۔ لہٰذا خالص دودھ کو اچھی قیمت مل رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کیلئے، ڈیری فارمرس  ایسے جانور خرید رہے ہیں جو زیادہ دودھ دیتے ہوں۔  تاجر اب خود جانور خرید رہے ہیں۔ اس میں بھی ان کی تلاش زیادہ دودھ دینے والے جانوروں کی ہوتی ہے۔ خاص طور پر مرہہ نسل کی بھینسیں جو زیادہ دودھ دیتی ہیں ان کی اچھی مانگ ہے۔ اچھی کوالٹی کی مرہہ بھینس کی قیمت پونے ۲؍ لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی گائے کی قیمتیں بھی بڑھنے لگی ہیں۔  
’گوکل‘ کو دو لاکھ لیٹر دودھ کی ضرورت
  فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے ملاوٹی دودھ کے خلاف کارروائی کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے مارکیٹ میں اچھے معیار کے دودھ کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ ’گوکل‘ روزانہ ۱۶؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار لیٹر دودھ فروخت کرتا ہے۔ لیکن اب ڈیلرس اور  ایجنٹ اسے مزید دودھ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ممبئی اور پونے سمیت دیگر بازاروں سے مزید دو لاکھ لیٹر دودھ کی مانگ کی جا رہی ہے۔ تاہم، گوکل کے پاس مانگ کے مقابلے کافی دودھ دستیاب نہیں ہے۔ گوکل انتظامیہ اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ کیا دوسرے اضلاع سے دودھ دستیاب ہو سکتا ہے؟ 
مانسون کے موسم میں بھی منڈیاں بھری ہوئی ہیں
  کولہاپور ضلع میں مرگود، پیٹھ وڈگاؤں اور کوپردے جانوروں کی تین اہم منڈیاں ہیں۔ عام طور پر موسلادھار بارش کے دوران جانوروں کی منڈیاں نہیں لگتیں۔ تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ اس سال زور دار بارش کے باوجود بڑی تعداد میں جانور منڈی میں آئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان جانوروں کے خریدار بھی بڑی تعداد میں منڈی آ رہے ہیں۔ کم از کم کسانوں کیلئےیہ صورتحال سود مند ثابت ہو رہی ہے۔ 

kolhapur Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK