Inquilab Logo Happiest Places to Work

شکر کی دو قیمتیں طے کرنے کا فارمولا، عام صارفین اور صنعتوں کیلئے مختلف داموں کی تجویز

Updated: August 26, 2026, 11:53 AM IST | Agency | Kolhapur

اس کا مقصد جہاں صارفین کو شکر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے راحت فراہم کرنا ہے وہیں یہ یقینی بنانا بھی ہےکہ کسانوں کو بہتر قیمت ملے اورشکرملوںکا کاروبار بھی مستحکم ہو۔

Sugar prices are causing concern. Picture: INN
شکر کی قیمتوں نے پریشان کررکھا ہے۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹرحکومت نے شکر کیلئے دوہری قیمت کاایک ماڈل تجویز کیا ہے جس کے تحت عام صارفین اور صنعتوں کیلئے الگ الگ قیمتیں ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد جہاں صارفین کو شکر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے راحت فراہم کرنا ہے وہیں یہ یقینی بنانا بھی ہےکہ کسانوںکوبہتر قیمت ملے اورشکرملوںکا کاروبار بھی مستحکم ہو۔ ذرائع کے مطابق ریاست کے وزیر برائے کو آپریشن بابا صاحب پاٹل نے کہا کہ مرکزی کو آپریشن وزیرامیت شاہ اور مرکزی وزیر زراعت شیو راج سنگھ چوہان کے ساتھ مارچ میں ہوئی ایک میٹنگ میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی۔ بابا صاحب پاٹل نے ٹائمس آف انڈیا سے گفتگو میں بتایا ’’شکرکی دوہری قیمتیں طے کرنے کی سفارش شکر صنعت کے نمائندوںکی جانب سے کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ڈیم بھرے ہونے کے باوجود عوام بوند بوند پانی کو محتاج!

ملک میں تیار ہونے والی شکرکی ۱۰؍ سے ۱۵ ؍ فیصد راست خریداری گھریلو صارفین کرتے ہیں  جبکہ باقی چاکلیٹ اور کینڈی  بنانے والی کمپنیوں،  بیکرس  اور فارما کمپنیوں کی جانب سےبڑی مقدار میںخریداری کی جاتی ہے۔‘‘ تجویز کردہ ماڈل کے تحت گھریلوصارفین کیلئے شکرکم قیمت  میں فروخت کی جائےگی جبکہ شکر کو خام مال کے طورپر استعمال کرنے والے صنعتوںکوزیادہ داموں میں بیچا جائے گا ۔پاٹل نے بتایاکہ فی الحال دونوںطرح کے صارفین کیلئے ایک  ہی قیمت متعین ہے۔ہم نے تجویز رکھی ہےکہ ملیںگھریلوکھپت کیلئے شکر محفوظ رکھیںاور انہیںکم قیمت میںفروخت کریں جبکہ تجارتی مقاصد کیلئےشکر اضافی قیمتوں میں فروخت کی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ شکرکی کم از کم فروخت قیمت  میں اضافہ نہ کرنے کے مرکز کے فیصلے سے عام صارفین کو تو راحت ملے گی لیکن  اس سے ملوں پر دباؤ بڑھے گا۔ دومختلف قیمتوں سے یہ دباؤ کچھ حد تک کم ہوگا ۔ ہم پالیسیوںکے نفاذکا اعلان کرنے کا شدت سے انتظار کررہے ہیں۔ واضح رہے ہندوستان میں سالانہ  ۲۸۰؍ لاکھ ٹن شکر کی کھپت ہوتی ہے۔ قابل ذکر ہےکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود شکر کی طلب مستحکم رہتی ہےاورکیونکہ بڑی تعدادمیں صارفین بغیر شکرکا متبادل بھی اختیار کرتے رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK