ناندیڑ ، کولہا پور اور ہنگولی جیسے اضلاع میں پیٹرول کا کوٹہ مقرر، بائیک کو ۲۰۰؍ اور کاروںکو ۲؍ ہزار روپے سے زیادہ کا پیٹرول نہیں دیا جائےگا۔
EPAPER
Updated: March 27, 2026, 10:23 AM IST | Mumbai
ناندیڑ ، کولہا پور اور ہنگولی جیسے اضلاع میں پیٹرول کا کوٹہ مقرر، بائیک کو ۲۰۰؍ اور کاروںکو ۲؍ ہزار روپے سے زیادہ کا پیٹرول نہیں دیا جائےگا۔
حکومت کی جانب سے تردید کے باوجود بار بار ایندھن کی قلت کی افواہ اڑ رہی ہے اور لوگ اپنا سارا کام چھوڑ کر پیٹرول پمپ پہنچ رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے ریاست کے مختلف اضلاع میں جہاں جمعرات کو پیٹرول پمپوں پر صارفین کی طویل قطار نظر آئی جبکہ کئی علاقوں میں پیٹرول پمپ کر پیٹرول کا کوٹہ مقرر کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: منشیات کی اسمگلنگ میں پنجاب سرفہرست، گزشتہ۳؍ سال میں ریکارڈ اضافہ
ناندیڑ کولہاپور اور ہنگولی میں پیٹرول کا کوٹہ
جمعرات کو ناندیڑ میں پیٹرول پمپ پر لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو گئی۔ ہر کوئی اپنی گاڑی کا ٹینک فل کرنا چاہتا تھا۔ اسکی وجہ سے صورتحال سنگین نظر آنے لگی۔ بالآخر ضلع کلکٹرراہل کرڈیلے نے بیان جاری کیا کہ عوام افواہوں پر دھیان نہ دیں اور مکمل اطمینان رکھیں ۔ اضلع کلکٹر نے ہنگامی صورتحال کے پیش نظر پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت کیلئے نئی عارضی ہدایات جاری کی ہیں۔نئی ہدایات کے مطابق:بغیر گیئر والی دو پہیہ گاڑیوں (اسکوٹر وغیرہ)کو ایک وقت میں صرف ۲۰۰؍ روپے تک پیٹرول دیا جائے گا گیئر والی دو پہیہ گاڑیوں میں ۳۰۰؍ روپے تک کا۔ جبکہ چار پہیہ گاڑیوں میں زیادہ سے زیادہ ۱۵۰۰؍ روپے کا پیٹرول؍ ڈیزل بھروایا جا سکے گا۔ ضلع کلکٹر نے واضح کیا کہ یہ پابندیاں عارضی ہیں اور اس وقت تک نافذ رہیں گی جب تک پیٹرول پمپوں پر غیر معمولی بھیڑ کم نہیں ہو جاتی۔انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں، اور صرف اپنی ضرورت کے مطابق ایندھن حاصل کریں۔ مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی کرنے والوں پر کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ملک میں پیٹرول ڈیزل کے ۶۰؍د نوں کے ذخیرہ کا دعویٰ
کولہاپور کے ضلع کلکٹر امول یڈگے نے بھی کچھ اسی طرح کی ہدایت جاری کی ہے۔ یہاں موٹر سائیکل والوں کیلئے زیادہ سے زیادہ ۲۰۰؍ روپے کے ڈیزل یا پیٹرول کی حد مقرر کی گئی ہے جبکہ چا ر پہیہ گاڑی والوں کو زیادہ سے زیادہ ۲؍ ہزار روپے کا پیٹرول دیا جائے گا۔ یہ حکم ۳۱؍ مارچ تک جاری رہے گا۔ امول یڈگے نے کہا پیٹرول اور ڈیزل کا خاطر خواہ اسٹاک موجود ہے لیکن لوگ بلاوجہ پیٹرول پمپ پر بھیڑلگا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے قلت نظر آ رہی ہے۔ اسی وجہ سے یہ ہدایت جاری کرنی پڑی ہے۔ ہنگولی کے ضلع کلکٹر راہل گپتا نے نے بھی موٹرسائیکل کیلئے ۲۰۰؍ روپے اور چار پہیہ گاڑیوں کیلئے ۲؍ ہزار روپے کے پیٹرول کی پابندی عائد کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پیٹرول پمپ والوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جلی حرفوں میں باہر بورڈ لگائیں کہ ان کے پاس پیٹرول کا کتنا اسٹاک باقی ہے تاکہ افواہوں پر قدغن لگایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: حکومتِ ہند آن لائن پلیٹ فارمز کیلئے کے وائی سی ویری فکیشن لازمی بنا سکتی ہے
کئی اضلاع میں پیٹرول ختم ہونے کی افواہ
جمعرات کے روز اچانک ریاست کے کئی اضلاع میں کسی نے یہ افواہ اڑا دی کہ پیٹرول کا اسٹاک ختم ہو گیا ہے لہٰذا لوگ اپنا کام دھندہ چھوڑ کر پیٹرول پمپ کی طرف بھاگنے لگے۔ سندھو درگ، جالنہ، احمد نگر اور ناسک کے کچھ علاقوں میں یہی صورت حال تھی۔ بے قابو صورتحال کو دیکھ کر پیٹرول پمپ مالکان کو پولیس بلانی پڑی۔ لوگ گاڑیوںکے علاوہ بوتلوں اور ڈبوں میں بھی پیٹرول مانگ رہے تھے۔ ضلع انتظامیہ نہ صرف عوام سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی بلکہ پیٹرول پمپ مالکان کو ہدایت دی کہ وہ پیٹرول پمپ کے باہر بورڈ لگائیں کہ ان کے پاس کتنا پیٹرول اسٹاک میں ہے۔ ساتھ ہی سختی کے ساتھ کسی کو بھی بوتل یا ڈبے میں پیٹرول دینے سے منع کیا گیا ہے۔ پیٹرول صرف گاڑی میں ڈالا جائے گا۔