کاری ٹھیکیداروں کو گزشتہ ۳؍ سال سے ان کےکئے ہوئے کاموں کا معائوضہ نہیں ملا ہے۔اس کی وجہ سے انہوں نے کئی بار احتجاج بھی کیا۔
EPAPER
Updated: June 17, 2026, 7:14 AM IST | Kolhapur
کاری ٹھیکیداروں کو گزشتہ ۳؍ سال سے ان کےکئے ہوئے کاموں کا معائوضہ نہیں ملا ہے۔اس کی وجہ سے انہوں نے کئی بار احتجاج بھی کیا۔
کاری ٹھیکیداروں کو گزشتہ ۳؍ سال سے ان کےکئے ہوئے کاموں کا معائوضہ نہیں ملا ہے۔اس کی وجہ سے انہوں نے کئی بار احتجاج بھی کیا۔ اب انہی ٹھیکیداروں کے ذریعے سرکاری کاموں میں رشوت ستانی کے معاملے کا تہلکہ خیز انکشاف ہوا ہے۔ ٹھیکیداروں کا دعویٰ ہے کہ انہیں سرکاری کام حاصل کرنے کیلئے علاقے کے رکن اسمبلی اور سرکاری افسران سمیت کئی لوگوں کو آمدنی میں سے حصہ دینا پڑتا ہے ۔ اس طرح تقریباً ۵۶؍ فیصد رقم ان لوگوں میں(رشوت کے طور پر) تقسیم کرنی پڑتی ہے۔
اطلاع کے مطابق منگل کے روز کولہاپور میں کنٹریکٹرس فیڈریشن کا ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔ اس اجلاس میںٹھیکیداروں نے اپنی اپنی شکایات پیش کیں۔ ٹھیکیداروں نے کھلے عام یہ الزام لگایا کہ کسی بھی سرکاری کام کو حاصل کرنے کیلئے انہیں رکن اسمبلی اور دیگر عہدیداروں کو سرکاری کاموں کے ٹھیکوں کیلئے ۵۶؍ فیصد رقم بانٹنی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اخراجات کی وجہ سے سرکاری کام مہنگا ہو جاتا ہے اور انہیں کئی بار نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ اس اجلاس میں ایوت محل سے آئے ہوئے ٹھیکیدار پروین امبرکر نے دعویٰ کیا کہ سرکاری ٹھیکہ حاصل کرنے کیلئے یوں بھی اندازاً جو اخراجات ہوتے ہیں اس سے ۱۵؍ یا ۲۰؍ فیصد کم قیمت ٹینڈر میں درج کرنی ہوتی ہے تاکہ ٹینڈر حاصل ہو جائے۔ اس لئے نقصان یہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔اس کے بعد رکن اسمبلی کو ۱۰؍ فیصد دینا ہوتا ہے۔ افسران اور دیگر سرکاری ملازمین کو ۱۵؍ فیصد رقم تقسیم کرنی ہوتی ہے۔ پھر ۱۸؍ فیصد جی ایس ٹی ادا کرنی ہوتی ہے۔ اس طرح ٹھیکیداروں کی تقریباً ۵۶؍ فیصد رقم تو لوگوںکو بانٹنے ہی میں چلی جاتی ہے۔ اوپر سے حکومت ادائیگی میں تاخیر کرتی ہے جس سے مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں۔ اُمبر کر کے اس بیان سے سرکاری اور انتظامی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سرکاری کاموں میں رشوت کے لین دین کا چلن عام ہے۔
یاد رہے کہ مہاراشٹر اسٹیٹ گورنمنٹ کنٹریکٹرس فیڈریشن کےاس اجلاس میں ایک ہزار سے زیادہ ٹھیکیدار موجود تھے۔ اس وقت قرار داد پیش کی گئی کہ جب تک حکومت ان کی بقایا رقم جاری نہیں کر دیتی اس وقت تک سرکاری کام دوبارہ شروع نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ۳؍ سال سے سرکاری ٹھیکیدار اپنی بقایا رقومات کیلئے احتجاج کر رہے ہیں۔ کئی مقامات پر انہوں نے سرکاری کام روک دیئے ہیں۔ حکومت نے کچھ رقم ادا کی ہے مگر ایک بڑی رقم اب بھی باقی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کچھ ٹھیکیداروں نے بقایا بل نہ ملنے پر مایوس ہو کر خودکشی بھی کر لی۔ اس پس منظر میں، کچھ لوگوں نے ٹھیکیدار طبقے پر قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔محکمہ تعمیرات، آبی وسائل، واٹر سپلائی اور ضلع پریشد کے مختلف محکموں میں کام کرنے والے ٹھیکیداروں نے انہیں درپیش مسائل کو اٹھایا۔ سوال یہ ہے کہ یوں سرعام رکن اسمبلی اور سرکاری افسران کے کمیشن (رشوت) کا تذکرہ کرنے کے بعد ان ٹھیکیداروں کی بات سنی جائے گئی؟عام طور پریہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ سرکاری ٹھیکوں میں کمیشن دیا جاتاہے لیکن یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ٹھیکیداروں نے اس رشوت خوری کو کھلے عام بے نقاب کیا ہے۔ تو کیا حکومت اب جاگ جائے گی کہ اس فیصدی بازار کو روکے اور کام کا معیار بہتر کرے؟ اور کیا کمیشن لینے والے اراکین اسمبلی اور سرکاری عہدیداروں کے خلاف کارروائی ہوگی؟