Updated: July 23, 2026, 10:03 PM IST
| New Delhi
نیٹ (NEET) ۲۰۲۶ء کے پیپر لیک کے خلاف شروع ہونے والی طلبہ تحریک نے ہندوستان میں احتجاج کی ایک نئی تصویر پیش کی، جہاں لاکھوں طلبہ نے سڑکوں، تعلیمی اداروں اور احتجاجی مقامات پر اپنی آواز بلند کی تو لاکھوں نوجوانوں نے انسٹاگرام، ایکس، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو احتجاج کا دوسرا محاذ بنا دیا۔ حکومت کے خلاف ریلز، شارٹس، میمز، طنزیہ ویڈیوز، سیاسی کارٹونز اور پیروڈی کلپس کی غیر معمولی تعداد سامنے آئی، جن میں مرکزی حکومت، وزارت تعلیم، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اور حکومتی مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
طلبہ کے احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس
نیٹ (این ای ای ٹی) سمیت قومی سطح کے مختلف امتحانات کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف جاری طلبہ تحریک نے جہاں سڑکوں پر ہزاروں نوجوانوں کو جمع کیا، وہیں سوشل میڈیا پر بھی ایک الگ محاذ کھل گیا۔ دہلی کے جنتر منتر سے شروع ہونے والے احتجاج اور بعد ازاں پارلیمنٹ مارچ کے دوران آنسو گیس، لاٹھی چارج اور پولیس کی سخت کارروائی کے باوجود انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر مزاح، طنز، میمز، پیروڈی ویڈیوز اور کارٹونز کی بھرمار رہی۔ اسکرول کی ایک رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چند روز میں سوشل میڈیا پر لاکھوں ایسی پوسٹس سامنے آئیں جن میں ہندی فلموں کی پیروڈی، حکومتی بیانات پر طنزیہ تبصرے، احتجاجی نعروں سے متاثر ویڈیوز اور سیاسی کارٹون شامل تھے۔ بہت سے صارفین نے اس پوری تحریک کو صرف احتجاج نہیں بلکہ نوجوانوں کی تخلیقی مزاحمت قرار دیا۔
’’کی بورڈ انقلابی‘‘
دانش سیٹھ نے اپنے ویڈیو میں ان افراد پر طنز کیا جو سوشل میڈیا پر احتجاج میں شامل ہونے کی باتیں تو کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی پولیس کی آنسو گیس یا لاٹھی چارج کی خبریں آتی ہیں، وہ گھر سے نکلنے سے گریز کرنے لگتے ہیں۔ ان کے ویڈیو کا مرکزی نکتہ ایسے ’’کی بورڈ انقلابیوں‘‘ پر طنز تھا جو آن لائن بھرپور حمایت کرتے ہیں، مگر حالات سنگین ہوتے ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
سب وے سرفررس
متعدد ویڈیوز میں لاٹھی چارج کے دوران دوڑتے مظاہرین نظر آئے۔ کئی افراد نے اپنے ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پولیس کی رکاوٹوں سے بچتے ہوئے دوڑ رہے تھے، لاٹھی چارج سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے، اور پورے منظر کو مزاحیہ انداز میں ریکارڈ کر رہے تھے۔ بعض طلبہ نے اپنی دوڑ کو Strava فٹنس ایپ پر ورزش (ورک آؤٹ) کے طور پر ریکارڈ کیا۔ کچھ ویڈیوز میں پولیس کی رکاوٹوں کو مشہور موبائل گیم Subway Surfers کی رکاوٹوں سے تشبیہ دی گئی، گویا وہ کھیل کھیلتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہوں۔
وارئل پلے کارڈ
اس دوران ایک پلے کارڈ تیزی سے وائرل ہوا جس پر لکھا تھا:
Government’s Fitness Plan: Running From Questions
اس جملے کے ذریعے حکومت پر طنز کیا گیا کہ وہ عوام اور طلبہ کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے ان سے ’’بھاگ‘‘ رہی ہے۔ یہ حکومت کا فٹنس پلان ہے۔
بائی دی وے نکھل نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’’میرا خیال ہے کہ جین زی سب سے زیادہ تخلیقی مظاہرین میں سے ہے، جو سنجیدہ مسائل پر احتجاج کرتے ہوئے بھی مزاح کے ذریعے اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنا جانتی ہے۔‘‘
’’دھرندھر‘‘ کی پیروڈی
یہ وائرل ویڈیو ایک فرضی اور مزاحیہ ٹریلر تھا۔اس کا مرکزی طنز یہ تھا کہ ’’دھرندھر ۳‘‘ یہ راز کھولے گی کہ امتحانی پرچے آخر لیک کیسے ہوئے۔‘‘ علاوہ ازیں ایک میم میں لکھا گیا کہ ’’آدتیہ دھر ’’دھرندھر ۳‘‘ میں تمام مظاہرین کو پاکستانی ثابت کرکے دکھائیں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی غنڈے بھیج رہی ہے: سی جے پی نے مودی کا بیان مسترد کردیا
نقلی کنگنا رناوت
سلونی گور نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور اداکارہ کنگنا رناوت کی نقل کرتے ہوئے طنزیہ ویڈیو بنایا جس میں انہوں نے مزاحیہ انداز میں حکومت کے دفاع میں پیش کی جانے والی مختلف دلیلوں کا مذاق اڑایا، ہر الزام کا رخ کسی اور طرف موڑنے کے انداز پر طنز کیا، اور کنگنا رناوت کے مخصوص اندازِ گفتگو کی پیروڈی کی۔
’’تمغوں کی ضرورت ہے‘‘
معروف کارٹونسٹ راکیش رنجن نے وزیر اعظم نریندر مودی پر ایک طنزیہ کارٹون بنایا، اور کیپشن تھا:’’مزید تمغوں کی ضرورت ہے!‘‘ کارٹون میں وزیر اعظم کی بیرونِ ملک اعزازات حاصل کرنے کی خبروں پر طنز کیا گیا تھا۔
معروف فلمی شخصیات کی خاموشی
مشہور کارٹونسٹ سندیپ ادھوریو کے کارٹون کا موضوع تھا طلبہ کے احتجاج پر بالی ووڈ کی خاموشی۔ انہوں نے سوال کیا کہ جو فلمی شخصیات دیگر معاملات پر اظہارِ خیال کرتی ہیں، وہ اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔
روایتی الزامات
پین پنسل ڈرا نامی صارف کے کارٹون کا عنوان تھا، ’’ٹول کِٹ۔‘‘ اس کارٹون کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ احتجاج کرنے والوں کو بدنام کرنے کے لیے روایتی الزامات، جیسے انہیں ملک دشمن یا کسی سازش کا حصہ قرار دینا، اب پہلے کی طرح مؤثر نہیں رہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر احتجاج: فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز بھی انسان دوستی کی علامت بن گئے
آئینِ ہند
کارٹونسٹ رچیتا تنیجا نے مظاہرین کیلئے پیغام دیا کہ ’’محفوظ رہیں، چوکس رہیں اور پانی پیتے رہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کا آئین ناانصافی کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار ہے۔‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پورے تنازع میں پہلی مرتبہ سوشل میڈیا نے صرف احتجاج کا کوریج نہیں کیا بلکہ خود احتجاج کا ایک مؤثر محاذ بن کر سامنے آیا، جہاں ریلز، شارٹس، میمز اور مختصر ویڈیوز نے نوجوانوں کے غصے کو ملک بھر میں تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ احتجاج ایک بار پھر ثابت کررہا ہے کہ نوجوان نسل صرف سڑکوں پر ہی نہیں بلکہ ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی اپنی بات مؤثر انداز میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔