پیوش گوئل سے حتمی بات چیت کیلئے امریکہ کے تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر اسی ہفتے ہندوستان پہنچیں گے، معاہدہ کیلئے اگلا مہینہ اہم ۔
پیوش گوئل۔ تصویر:آئی این این
ہند -امریکہ تجارتی معاہدہ کو حتمی شکل دینے کی کوششوں کے تحت امریکہ کے تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر اسی ہفتے ۲؍ روزہ دورہ پر نئی دہلی پہنچیں گے جہاں وہ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کے پہلے مرحلے پر بات چیت اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس سے قبل ۲؍ سے ۴؍ جون کے درمیان دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں کے درمیان نئی دہلی میں تفصیلی بات چیت ہوچکی ہے جبکہ گزشتہ ہفتے فرانس میں جی-۷؍سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی تجارتی معاہدہ پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔مرکزی وزیر پیوش گوئل پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ دونوں ممالک عبوری تجارتی معاہدے کے باقی ماندہ معاملات کو حل کرنے کے قریب ہیں اور امید ہے کہ اگلے ماہ کے وسط تک بی ٹی اے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد شروع ہو جائے۔ ہندوستان کےسیکریٹری برائے تجارت راجیش اگروال کے مطابق، وزارتی سطح کے یہ مذاکرات معاہدہ کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر مرکوز ہوں گے۔
فرانس میں جی-۷؍ اجلاس میں ٹرمپ کہہ چکے ہیں امریکہ اور ہندوستان تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کو ایک سخت مگر مؤثر مذاکرات کار قرار دیتے ہوئے دونوں لیڈروں کے درمیان ذاتی ہم آہنگی کا بھی ذکر کیا۔ نئی دہلی کی کوشش ہے کہ معاہدہ کے ذریعے اسے ویتنام اور دیگر آسیان ممالک جیسے حریف برآمد کنندگان کے مقابلے میں ٹیرف کے معاملے میں برتری حاصل ہو تاکہ امریکی منڈی میں ہندوستانی مصنوعات کیلئے مسابقت آسان ہو جائے۔
۷؍ فروری کو ہندوستان اور امریکہ نے تجارتی معاہدہ کے خدوخال کو واضح کرتے ہوئے جومشترکہ بیان جاری کیاتھا اس کےتحت امریکہ ہندوستانی اشیاء پر ٹیرف ۵۰؍ فیصد سے گھٹا کر ۱۸؍فیصد کرنے پر راضی ہو گیا تھا۔لیکن بعد میں امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائدکردہ ٹیرف کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا اور اس طرح ٹیرف کا منظرنامہ ہی بدل گیا۔ دونوں ممالک اب اسی پس منظر میں طے شدہ تجارتی معاہدہ کے فریم ورک کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔فروری کے مشترکہ بیان میں یہ شق بھی شامل تھی کہ اگر دونوں میں سے کسی ملک کے متفقہ ٹیرف میں تبدیلی ہوتی ہے تو دوسرا ملک بھی ترمیم کر سکتا ہے۔اس فریم ورک کے تحت ہندوستان نے امریکہ کی تمام صنعتی مصنوعات اور متعدد زرعی و غذائی اشیا پر ٹیرف ختم یا کم کرنے کی پیش کش کی تھی۔ ساتھ ہی نئی دہلی ۵؍برسوں میں امریکہ سے ۵۰۰؍ ارب ڈالر کی خریداری پر آمادہ ہوا ہے۔ان شرائط پر جو بڑی حد تک امریکی مفاد میں ہیں مودی سرکار کو شدید تنقیدوں کا سامنا ہے۔