Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’۴؍ماہ کی جنگ سے مشرق وسطیٰ کے حالات میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی ‘‘

Updated: June 23, 2026, 11:41 AM IST | Agency | New York

نیویارک ٹائمس کی رپورٹ میں دعویٰ،بتایا کہ نہ جوہری پروگرام ختم کیا جاسکا نہ ایران کے سیاسی نظام کو،ٹرمپ نے تردید کی ، رپورٹ کو حقائق سے دور قراردیا ۔

Donald Trump.Photo:INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این
 امریکی اخبار نیویارک ٹائمس کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تقریباً۴؍ ماہ تک جاری رہنے والی جنگ اور اس کے خاتمے کیلئے طے پانے والے حالیہ معاہدے کے باوجود مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتِ حال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدرنے فروری میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو مشرقِ وسطیٰ میں بڑی تبدیلی لانے اور ایران سےدر پیش خطرات کے خاتمے کی کوشش قرار دیا تھا، تاہم تقریباً۱۰۰؍روز بعد بھی ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا اور اس کے مستقبل کا فیصلہ آئندہ مذاکرات پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام بھی برقرار ہے، جب کہ خطے میں اس کے اتحادی گروپ اب بھی سرگرم ہیں، ایران کا سیاسی نظام بھی اپنی جگہ قائم ہے، اگرچہ ملک میں نئی قیادت سامنے آئی ہے۔دوسری جانب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں بھی بدستور جاری ہیں، معاہدے سے ایران کو اہم معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ کی فوجی برتری کے بجائے تنازع کو مزید بڑھانے سے گریز کی عکاسی کرتا ہے ۔ ادھر ایرانی قیادت امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کرنے اور جوابی کارروائی کی صلاحیت کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔
 
 
اخبار کے دعوےپر ٹرمپ کی تنقید 
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمس اخبار پر سخت تنقید کی ہے اور اس بات کو مسترد کر دیا ہے جسے اخبار نے تقریباً چار ماہ سے جاری جنگ کے اثرات کو کم کرنے سے تعبیر کیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان اخبار کی جانب سے ایک رپورٹ کی اشاعت کے بعد سامنے آیا جس کا عنوان یہ ظاہر کرتا ہے کہ تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ اوراب حالیہ معاہدہ کی صورت میں بعد بہت کم تبدیلی آئی ہے۔
 
 
امریکی صدر نے اسے حقیقت سے دور قرار دیا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی فوجی صلاحیتوں کو شدید چوٹ پہنچی  ہے اور بحری و فضائی افواج، میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز، ڈرون طیارے اور اس سے متعلقہ بنیادی ڈھانچہ بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایرانی اقتدار کے اعلیٰ ترین درجے پر موجود قیادت کے نقصان کی طرف بھی اشارہ کیا۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایرانی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، مہنگائی کی شرح میں اضافہ اور مالی حالات میں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تسلسل اور تیل کی برآمدات کے بہاؤکی جانب اشارہ کیا۔ٹرمپ نے اپنی تنقید کا اختتام نیویارک ٹائمز پر یہ الزام لگاتے ہوئے کیا کہ وہ ان چیزوں کو نظر انداز کر رہا ہے جنہیں انہوں نے زمینی حقائق قرار دیا۔ امریکی صدر نے اس بات کی تصدیق کی اخبار کی رپورٹ کے برعکس، جنگ کے نتائج عسکری اور معاشی دونوں سطحوں پر بڑے اور مؤثر رہے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK