رکن اسمبلی رئیس شیخ نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو ایک مکتوب دیا ہے جس میں انہوں نے یکساں سول کوڈ( یو سی سی )ڈرافٹنگ کمیٹی میں اقلیتی طبقے کے نمائندے کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 10:55 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai
رکن اسمبلی رئیس شیخ نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو ایک مکتوب دیا ہے جس میں انہوں نے یکساں سول کوڈ( یو سی سی )ڈرافٹنگ کمیٹی میں اقلیتی طبقے کے نمائندے کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
رکن اسمبلی رئیس شیخ نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو ایک مکتوب دیا ہے جس میں انہوں نے یکساں سول کوڈ (یو سی سی ) ڈرافٹنگ کمیٹی میں اقلیتی طبقے کے نمائندے کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس ضمن میں رئیس شیخ نے کہا کہ ’’ سماجوادی پارٹی یو سی سی کے خلاف ہے، اس کے باوجود اگر حکومت اسے نافذ ہی کرنا چاہتی ہے تواس میں مسلمانوں /اقلیتوں کی بھی نمائندگی ہونی چاہئے ۔‘‘واضح رہے کہ مہاراشٹر حکومت نے یو سی سی کی ڈرافٹنگ کیلئے ۷؍ رکنی تشکیل دی ہے جس میں سے سبکدوش جسٹس آر سی چوان نے کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔اس کی وجوہات یہ بتائی گئی ہیں کہ یو سی سی کی تشکیل کے وقت اقلیتوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو نظر انداز کیاجارہا ہے اور اس کےعلاوہ کمیٹی کی میٹنگ میں باہری شخص کو بھی شامل کیاجارہا ہے جو درست نہیں ہے۔کمیٹی کے رکن سابق جج آر سی چوان کے مستعفی ہونے کے بعد رئیس شیخ نے مطالبہ کیا کہ ان کی جگہ کسی اقلیتی طبقے کو موقع دیا جائے تاکہ ڈرافٹنگ کمیٹی کی ساکھ برقرار رہ سکے۔
یہ بھی پڑھئے: سائن بریج کی تعمیر میں تاخیر پر ۲۷؍ستمبر کو مورچہ نکالنے کا اعلان
یاد رہے کہ جولائی میں سپریم کورٹ کی سابق جج رنجنا دیسائی کی صدارت میں مہاراشٹر یو سی سی ڈرافٹنگ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی مدت۶؍ ماہ مقرر کی گئی ہے۔ رئیس شیخ کا الزام ہے کہ کمیٹی میں اقلیتی طبقے کے نمائندے کی عدم موجودگی کے باعث اقلیتیں اس اقدام کو شک کی نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس قانون سے ملک کی ثقافتی تنوع کو نقصان پہنچے گا اور طلاق، وراثت، شادی اور گود لینے سے متعلق مختلف مذاہب کے پرسنل لاء ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یو سی سی سے بالخصوص اقلیتی طبقوں اور آدیواسی طبقے پر گہرا اثر پڑے گا اس لئے ان کے تحفظ کیلئے ان کی نمائندگی انتہائی ضروری ہے۔