Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: برنی سینڈرز اسرائیل کو امریکی فوجی امداد روکنے کی قرارداد پیش کریں گے

Updated: April 09, 2026, 8:04 PM IST | Washington

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو امریکی فوجی امداد روکنے کے لیے ایک قرارداد پیش کریں گے۔ انہوں نے بنجامن نیتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ سینڈرز کے مطابق امریکہ کو اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر مکمل خودمختاری برقرار رکھنی چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی قانون سازوں کے درمیان اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد پر بحث جاری ہے۔

US Senator Bernie Sanders . Photo: X
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز۔ تصویر: ایکس

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ایک قرارداد پیش کریں گے، جس کا مقصد اسرائیل کو فراہم کی جانے والی امریکی فوجی امداد کو روکنا ہے۔ ان کے اس اعلان نے امریکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ برنی سینڈرز نے اپنے بیان میں بنجامن یتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’’یہ صورتحال غیر متوقع نہیں ہے۔ اسرائیلی قیادت نے ایران کے حوالے سے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا ہے جس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں، اور ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ امریکی پالیسی کا تعین کہاں سے ہونا چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسپین کا مطالبہ: لبنان حملوں پر اسرائیل سے یورپی معاہدہ معطل کیا جائے

انہوں نے مزید کہا کہ ’’امریکہ کو اپنی فوجی اور خارجہ پالیسی کے فیصلے خود کرنے چاہئیں، اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ کسی دوسرے ملک کو ان پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کا اختیار حاصل نہ ہو۔‘‘ سینڈرز کے مطابق وہ آئندہ ہفتے باقاعدہ طور پر ایک قرارداد پیش کریں گے جس کے ذریعے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد کو روکنے کی تجویز دی جائے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال کے باعث امریکی خارجہ پالیسی پر اندرون ملک بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی وہائٹ ہاؤس میں روٹے سے ملاقات، نیٹو پر تنقید

یاد رہے کہ امریکی کانگریس میں اس سے قبل بھی کئی قانون ساز اسرائیل کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں اور فوجی امداد پر نظر ثانی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ بعض ارکان کا موقف ہے کہ امریکہ کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنا چاہیے اور خطے میں جاری تنازعات کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔ دوسری جانب، اسرائیل امریکہ کا ایک اہم اتحادی تصور کیا جاتا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکوریٹی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ ایسے میں اس نوعیت کی قرارداد کی پیشکش کو ایک اہم سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ اثرات پر مختلف حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK