سری نگر کی عدالت نے ۲۸؍ سال فوجی حراست کے بعد ایک شخص کو مردہ قراردے دیا، عدالت نے تحقیقکے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ حراست میں مارا گیا تھا اور قانونی طور پرممکنہ موت کا قانون نافذ کیا۔
EPAPER
Updated: April 09, 2026, 9:01 PM IST | Srinagar
سری نگر کی عدالت نے ۲۸؍ سال فوجی حراست کے بعد ایک شخص کو مردہ قراردے دیا، عدالت نے تحقیقکے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ حراست میں مارا گیا تھا اور قانونی طور پرممکنہ موت کا قانون نافذ کیا۔
سری نگر کی ایک عدالت نے تقریباً۲۸؍ سال بعد ایک شخص کو مردہ قرار دے دیا ہے، جسے۱۹۹۷ء میں فوجی حراست میں لیا گیا تھا۔ عدالت نے تحقیقات کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ حراست میں مارا گیا تھا اور قانونی طور پر ممکنہ موت کا قانون نافذ کیا۔ بار اینڈ بینچ کے مطابق معاون جج مسرت جبین نے عبدالرشید وانی کی بیوی اور دو بیٹوں کی طرف سے دائر دیوانی مقدمے کے بعد انہیں مردہ قرار دینے کا حکم دیا۔ عدالت نے سری نگر میونسپل کارپوریشن کو ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی بھی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور میں برآمد دھماکہ خیز اشیا کہاں سے آئیں؟ پولیس کیلئے پتہ لگانا مشکل
بعد ازاں عدالت نے پایا کہ وانی کو جولائی۱۹۹۷ء میں گورکھا رائفلز نے حراست میں لیا تھا اور مبینہ طور پر فوجی افسر میجر وی پی یادو نے قتل کر دیا تھا۔ یہ نتائج ایک سیشن جج کی طرف سے کی گئی انکوائری پر مبنی تھے، جو جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی ہدایت پر سری نگر میں کی گئی تھی۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، وانی کو ایک اور شخص فاروق احمد بھٹ کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا، اور بعد میں حراست میں مار ڈالا گیا، جس کی لاش کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔عدالت نے نوٹ کیا کہ نہ تو عدالتی تحقیق اور نہ ہی پولیس تفتیش اس کا پتہ لگا سکی، اور تفتیش کاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسے مار ڈالا گیا تھا۔وانی کے بارے میں سات سال سے زائد عرصے سے کوئی معلومات نہ ملنے اور انکوائری کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے، عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں ممکنہ موت کا قانونافذ ہوتا ہے اور خاندان کے حق میں فیصلہ دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندو ایم ایل اے منتخب کریں: کیرالا میں بی جے پی امیدواروں کی اسلام مخالف مہم
تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں، بشمول ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز، کے مطابق ۱۹۸۹ء سے جب مسلح بغاوت شدت اختیار کر گئی تھیجموں و کشمیر میں۸؍ ہزار سے ۱۰؍ ہزار افراد لاپتہ ہو چکے ہیں ۔ ان میں سے زیادہ تر معاملات میں مبینہ طور پر ہندوستانی سیکیورٹی فورسیز نے کارڈن اینڈ سرچ آپریشن یا کریک ڈاؤن کے دوران حراست میں لیا، اور خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا گیا اور وہ کبھی واپس نہیں آئے۔ان گمشدگی کے نتیجے میں ہزاروں’’ نیم بیواؤں‘‘کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔واضح رہے کہ خواتین جن کے شوہر لاپتہ ہیں، ان کی تعداد۱۵۰۰؍ سے ۲۵۰۰؍کے درمیان بتائی جاتی ہے۔یہ خواتین اکثر ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی عدم موجودگی، قانونی طور پر معاملہ بند نہ ہونے، وراثت، دوسری شادی، اور اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے شدید سماجی، معاشی اور نفسیاتی مشکلات کا سامنا کررہی ہیں۔